تمہاری یاد سے دل کو ہیں راحتیں کیا کیا

تمہاری یاد سے دل کو ہیں راحتیں کیا کیا
تمہارے ﷺ ذکر نے ٹالی ہیں مشکلیں کیا کیا
تمہاری دید کہاں ، دیدہ خیال کہاں
بنائی پھر بھی خیالوں نے صورتیں کیا کیا
نظر خیال سے پہلے مدینہ جا پہنچی
دل و نگاہ میں دیکھی رقابتیں کیا کیا
اب اس مقام پہ ہم آگئے کہ ذکر رسولﷺ
جو ایک پل نہ ہو،ہوتی ہیں الجھنیں کیا کیا
بس ایک رات کا مہماں انھیں بنانے کو
زمیں سے عرش نے کی ہوں گی منتیں کیا کیا
تمہارے نام کا ٹھپہ لگا ہوا پاکر
لگا رہے ہیں مری لوگ قمیتیں کیا کیا
گئے نہیں ہو مدینے ادؔیب تم لیکن
سُنا رہے ہو وہاں کی حکایتیں کیا کیا
ذکر حبیب ﷺ کبریا میرا شعار بن گیا
آنکھ کا نُور بن گیا دل کا قرار بن گیا
جب سے ملا ہے ان کا در جب سے جھکا وہاں یہ سر
میرا غرور بندگی عرش مدار بن گیا
میرے جنونِ عشق کو حاجت فصل گل نہیں
ذکر نبی ﷺ کا ہر نفس موج ِ بہار بن گیا
حشر کی دھوپ تھی کڑی ان ﷺ پہ نگاہ جب پڑی
قطرہ اشک منفعل ابر بہار بن گیا
کیسا حسین ہوگا وہ رونق ِ بزم کائنات
ایک حسین خیال پھر سلسلہ وار بن گیا
اب کوئی رنج ہے نہ غم سوزوزیاں نہ بیش و کم
صلِّ عَلٰی جہاں کہا ،ایک حصار بن گیا
لکھ اے ادیؔب خوش رقم جس کو نصیب ہو یہ غم
پیش ِ حبیب ﷺ محترم اس کا وقار بن گیا