لَوْلَاکَ لَمَاخَلَقْتُ الْا فْلَاکَ

لَوْلَاکَ لَمَاخَلَقْتُ الْا فْلَاکَ
ہوتی نہ تیر ی ذات جو مقصود
ہوتا نہ یہاں پھر کوئی موجود
عالم تیری نعلین کی ہے خاک
کس کو ہے تیری ذات کا ادراک
لَوْلَاکَ لَمَاخَلَقْتُ الْا فْلَاکَ
یہ ماہ یہ خورشید و ستارے
فطرت کے یہ رنگین نظارے
دھوون ترے تلوؤں کے ہیں سارے
قدموں نے ترے سب کو کیا پاک
لَوْلَاکَ لَمَاخَلَقْتُ الْا فْلَاکَ
مظلوم کو ظالم سے چھڑایا
دنیا کو تباہی سے بچایا
انسان کو انسان بنایا
گلزار بنائے خس و خاکشاک
لَوْلَاکَ لَمَاخَلَقْتُ الْا فْلَاکَ
کعبے کو خدائی سے سجایا
توحید کا پھر جشن منایا
روتے ہوئے چہروں کو ہنسایا
اب کوئی نہیں دیدہ نمناک
لَوْلَاکَ لَمَاخَلَقْتُ الْا فْلَاکَ
تو رونق ِ محراب حرم ہے
تو امت عاصی کا بھرم ہے
دنیا تری محتاج ِ کرم ہے
ہر عیب سے ہستی ہے تری پاک
لَوْلَاکَ لَمَاخَلَقْتُ الْا فْلَاکَ
جس سمت گیا تیرا اُجالا
ظلمت نے وہاں سر نہ نکالا
رحمت ترے رخسار کا ہالا
نعلین کے نیچے سر افلاک
لَوْلَاکَ لَمَاخَلَقْتُ الْا فْلَاکَ