ادنیٰ مرے آگے ہے نہ اعلیٰ مرے آگے

ادنیٰ مرے آگے ہے نہ اعلیٰ مرے آگے
ہر دم ہے خیال ِ شہ والا مرے آگے
ہر روز یہ رہتی ہے تمنا مرے آگے
ہر شب ہو خدا،وہ رخ زیبا مرے آگے
ہے پر تو خورشید رسالت مرے دل میں
شب بھی ہو تو رہتا ہے اُجالا مرے آگے
یہ حسن بیاں زور قلم،فن کی بلندی
جز نسبت احمد ہیں ،تماشا مرے آگے
میں قافلئہ عشق محمد ﷺ کے ہو پیچھے
کیا آئے گی منھ زور یہ دنیا مرے آگے
وہ رنگ ہے سرکار ِ مدینہ کی ثناء کا
ہیں قوس و قزح بھی تہ و بالا مرے آگے
آنکھیں مری پیالے ہیں تو خم گنبد خضرا
بے کار ہیں یہ ساغر و مینا مرے آگے
وہ رند ہوں مست ، وہ میکش ہوں کہ ہر شب
در میکدہ عشق کا ہے وا میرے آگے
پی لے جو مئے حب نبی جھوم اٹھے گا
واعظ کہیں مل جائے تو لے آمرے آگے
غالب ہے ادیؔب ان کا کرم میرے سخن پر
مقصود نہ شہرت ہے نہ دعوٰی مرے آگے