عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں

عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں
کہ نا اُمیدوں کو امیدوار کرتے ہیں
جما کے دل میں صفیں حسرت و تمنا کی
نگاہ لطف کا ہم انتظار کرتے ہیں
مجھے فسردگی بخت کا الم کیوں ہو
وہ ایک دم خزاں کو بہار کرتے ہیں
خدا سگان ِ نبی سے مجھ کو سنوادے
ہم اپنے کتوں میں تجھ کو شمار کرتےہیں
ملائکہ کو بھی ہیں کچھ فضلیلتیں ہم پر
کہ پاس رہتے ہیں سوفِ مزار کرتے ہیں
جو خوش نصیب یہاں خاک در پہ بیٹھے ہیں
جلوس مسند شاہی سے عار کرتے ہیں
ہمارے دل کی لگی بھی وہی بجھادیں گے
جو دم میں آگ کو با غ و بہار کرتے ہیں
اشارہ کردو تو باد خلاف کے جھونکے
ابھی ہمارے سفینے کو پار کرتے ہیں
کسے ہے دیدِ جمالِ خدا پسند کی تاب
وہ پورے جلوے کہاں آشکار کرتے ہیں
ہمارے نخل ِ تمنا کو بھی وہ پھل دیں گے
درخت خشک کو جو بار دار کرتے ہیں
پڑے ہیں خواب تغافل میں ہم ،مگر مولیٰ
طرح طرح سے ہمیں ہوشیار کرتے ہیں
سنا نہ مرتے ہوئے آج تک کسی نے انہیں
جو اپنے جان و دل اُن پر نثار کرتے ہیں
انہیں کا جلوہ سر بزم دیکھتے ہیں پتنگ
انہیں کی یاد چمن میں ہزار کرتے ہیں
مرے کریم نہ آہو کو قید دیکھ سکے
عبث اَسیر ِِ الم انتشار کرتےہیں
جوذرّےآتےہیں پائے حضور کے نیچے
چمک کے مہر کو وہ شرمسار کرتے ہیں
جو موئے پاک کو رکھتے ہیں اپنی ٹوپی میں
شجاعتیں وہ دَمِ کار زار کرتے ہیں
جدھر وہ آتےہیں اب اس میں دل ہوں یاراہیں
مہک سے گیسوؤں کی مشکبار کرتے ہیں
حسؔن کی جان ہو اُس وسعت کرم پہ نثار
کہ اک جہاں کو اُمیدوار کرتے ہیں