آپ کے در کی عجب توقیر ہے

آپ کے در کی عجب توقیر ہے
جو یہاں کی خاک ہے اکسیر ہے
کام جو اُن سے ہوا پورا ہوا
ان کی جو تدبیر ہے تقدیر ہے
جس سے باتیں کیں انہیں کا ہوگیا
واہ کیا تقریر پُر تاثیر ہے
جو لگائے آنکھ میں محبوب ہو
خاک طیبہ سرمئہ تسخیر ہے
صدر اقدس ہے خزینہ راز کا
سینہ کی تحریر میں تحیریر ہے
ذرّہ ذرّہ سے ہے طالع نور شاہ
آفتاب ِ حسن عالمگیر ہے
لطف کی بارش ہے سب شاداب ہیں
اَبر جودِ شاہ عالمگیر ہے
مجرموں اُن کے قدم پر لوٹ جاؤ
بس رہائی کی یہی تدبیر ہے
یانبی مشکل کشائی کیجئے
بندہ در بیدل و دل گیر ہے
و سراپا لطف ہیں شانِ خدا
وہ سراپا نور کی تصویر ہے
کان ہیں کانِ کرم جانِ کرم
آنکھ ہے یا چشمئہ تنویر ہے
جانے والے چل دیئے ہم رہ گئے
اپنی اپنی اے حسؔن تقدیر ہے