اپنوں کی خطا بخشی ،دشمن کے بھی کام آئے

اپنوں کی خطا بخشی ،دشمن کے بھی کام آئے
پھر عرش سے ایسے پر کیوں کر نہ سلام آئے
دربار سلاطیں میں ایسے بھی مقام آئے
تعظیم کو سب نکلے ،جب ان کے غلام آئے
اعلیٰ سے بھی اعلیٰ تھے بالا سے بھی بالا تھے
پستی کو بلندی کا دینے جو مقام آئے
زاہد کو ملے جنّت کی سیر کے پروانے
طیبہ کی زیارت کے قرعے مرے نام آئے
یاد شہ دیں تنہا دل میں ہی نہیں آئی
آنکھوں میں گہر آئے ہونٹوں پہ سلام آئے
ہے حکم صباء کو یہ ،طیبہ میں جو داخل ہو
خوشبو کی قبا پہنے ،مستانہ خرام آئے
پھر قافلے جاتے ہیں اس سال مدینے کو
صدقے تری رحمت کے ،ہم کو بھی پیام آئے
رحمت سے ادیؔب ان کی صد کفر ہے مایوسی
وی ذات تو مشکل میں غیروں کے بھی کام آئے