عقل کہتی ہے کہ تو،اُن کے قدم تک پہنچا

عقل کہتی ہے کہ تو،اُن کے قدم تک پہنچا
عشق کہتا ہے کہ تو،لوح و قلم تک پہنچا
آنکھ کہتی ہے کہ بینائی کو معراج ہوئی
اشک کہتے ہیں کہ تو حاصل غم تک پہنچا
دیکھ کر مجھ کو مدینے میں فرشتے بولے
یہ وہ مجرم ہے جو آغوشِ کرم تک پہنچا
جب لیا نام کسی نے سر محفل ان کا
اضطراب ِ دل و جاں دیدہ نم تک پہنچا
نہ عمل تھا نہ کوئی گنْ نہ کوئی بات بھلی
باوجود اس کے بلاوا تیرا ہم تک پہنچا
اے ادیؔب اس کا نکرین سے پیچھا چھوٹا
ان کی گلیوں سے گزر کر جو عدم تک پہنچا