بقید زندگی ہر ہر قدم پر مدح خوانی کر

بقید زندگی ہر ہر قدم پر مدح خوانی کر
بروز حشر ناز کارہائے زندگانی کر!
تصور کو مرے تصویر کردے حرف اول میں
مرے الفاظ کو بہر کرم،در معانی کر
مری صورت کو دیکھیں اور مرا مضمون پہچانیں
مرے جذبات کی اے چشم تر،یوں ترجمانی کر
ادب کا پیرہن ،نازک بدن،حسن سخن کو دے
پھر اس کو رنگ خون آرزو سے ارغونی کر
ادیؔب اس ذات اقدس نے عطا کی تجھ کو لسانی
اسی کے ذکر میں شام و سحر رطب اللسانی کر