بس یہی دیکھتے ہو،میں ہوں گنہ گار وں میں

بس یہی دیکھتے ہو،میں ہوں گنہ گار وں میں
کون ہے یہ بھی دیکھو مرے غمخواروں میں
فیصلہ حشر کا اک آن میں ہوجائے گا
بیٹھ جائیں گے جب اگر وہ گنہ گاروں میں
قربت شہر مدینہ کی ہے بس اک صورت
کوئی چن دے مجھے اس شہر کی دیواروں میں
اشک ِ غم ،اشک ندامت ہیں متاع کونین
یہ وہ دولت ہے جو ملتی ہے گنہ گاروں میں
کتنے اچھے ہیں جو اچھا نہیں ہونے پاتے
ہیں مسیحائے جہاں بھی ترے بیماروں میں
شبنم اشک،گلِ نعت ،ہوائے رحمت
ایسی رونق نہ چمن میں ہے نہ گلزاروں میں
خون دل،خون جگر،خون تمنا سے ادیؔب
رنگ آتا ہے مری فکر کے شہ پاروں میں