بے چین نظر ،روئے پرانوار کی خاطر

بے چین نظر ،روئے پرانوار کی خاطر
بے تاب ہیں لب ذکر میں سرکار کی خاطر
صدرنگ زباں ہوگئی ،اظہار کی خاطر
توصیف و ثنا ء میں شہہ ابرار کی خاطر
پرواز کو پر مانگ رہاہوں میں خداسے
اے گنبد خضرا ترے دیدار ی خاطر
گیسو کا دیا رنگ جو کعبے کو خدا نے
محراب کو خم،ابرو ئے خمدار کی خاطر
صد سالہ مرے زہد کی پرواز تصدق
طیبہ میں نشست پس دیوار کی خاطر
وہ آنکھ طلب کر جو تجھے دید کرادے
سر مانگ تو جھکنے کو درِ یار کی خاطر
میں منصب دیدار کے لائق نہیں پھر بھی
آجائیے اک شب دل بیمار کی خاطر