ملتا نہ کبھی انسانوں کو منزل کا نشاں
پاتے نہ ستائے لوگ کبھی ظالم سے اماں
آتے جو نہ تم ﷺ رہتا یہ جہاں ویراں ویراں
عالم ہے تمہاری خاکِ کف پا سے ذیشاں
صحرا میں بنے گلزار ،تمہارےنقش قدم اللہ کی قسم
سرکار بچالو لاج،ہمارا رکھ لو بھرم ،یاشاہ امم
دکھ درد کے مارے ہیں مجبور ہیں ہم ، یاشاہ امم
اے ساقیء کوثر شانِ کریمی دکھلائیں
لبریز محبت کا اک ساغر پلوائیں
ہے فکر ادیؔب مدینے تک کیسے جائیں
گر چشم ِ کرم ہوجائے تو راہیں کھل جائیں
سلطان ِ کرم ،اب رکھ لو مرے اشکوں کا بھرم ، اللہ کی قسم
سرکار ،بچالو لاج،ہمارارکھ لو بھرم،یاشاہ امم
دکھ درد کے مارے ہیں ،مجبور ہیں ہم،یاشاہ امم

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

سحاب رحمت باری ہے بارہویں تاریخ
کرم کا چشمئہ جاری ہے بارہویں تاریخ
اسی نے موسم گل کو کیا ہے موسم گل
بہار فصل بہاری ہے بارہویں تاریخ
بنی ہے سرمئہ چشم بصیرت و ایماں
اُٹھی جو گرد ِسواری ہے بارہویں تاریخ
ہزار عید ہوں ایک ایک لحظہ پر قرباں
خوشی دلوں پہ وہ طاری ہے بارہویں تاریخ
فلک پہ عرش بریں کا گمان ہوتا ہے
زمین خلد کی کیاری ہے بارہویں تاریخ
تمام ہوگئی میلاد ِ انبیا کی خوشی
ہمیشہ اب تری باری ہے بارہویں تاریخ
دلوں کے میل دُھلے ،گل کھلے ،سُرور ملے
عجیب چشمئہ جاری ہے بارہویں تاریخ
خدا کے فضل سے ایمان میں ہیں ہم پورے
کہ اپنی روح میں ساری ہے بارہویں تاریخ
ولادت شہ دیں ہر خوشی کی باعث ہے
ہزار عید سے بھاری ہے بارہویں تاریخ
عدو ولادت شیطاں کے دن منائے خوشی
کہ عید عید ہماری ہے بارہویں تاریخ
حسؔن ولادت سرکار سے ہوا روشن
مرے خدا کو بھی پیاری ہے بارہویں تاریخ

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

دل مرا دُنیا پہ شیدا ہوگیا
اے مرے اللہ یہ کیا ہوگیا
کچھ مرے بچنے کی صورت کیجئے
اب تو جو ہونا تھا مولیٰ ہوگیا
عیب پوشِ خلق،دامن سے ترے
سب گنہگاروں کا پردہ ہوگیا
رکھ دیا جب اس نے پتھر پر قدم
صاف اک آئینہ پیدا ہوگیا
دور ہو مجھ سے جو اُن سے دور ہے
اُس پہ میں صدقے جو اُن کا ہوگیا
گرمیء بازار مولیٰ بڑھ چلی
نرخ رحمت خوب سستا ہوگیا
رَبِّ سَلِمْ وہ ادھر کہنے لگے
اُس طرف پار اپنا بیڑا ہوگیا
تیرے ٹکڑوں سے پَلے دونوں جہاں
سب کا اس درسے گزارا ہوگیا
السلام اے ساکنان کوئے دوست
ہم بھی آتے ہیں جو ایما ہوگیا
ان کے صدقہ میں عذابوں سے چُھٹے
کام اپنا نام اُن کا ہوگیا
ان کے صدقہ میں عذابوں سے چُھٹے
کام اپنا نام ان کا ہوگیا
سر وہی جو ان کے قدموں سے لگا
دل وہی جو اُن پہ شیدا ہوگیا
حسن یوسف پر زلیخا مٹ گئیں
آپ پر اللہ پیارا ہوگیا
اُس کو شیروں پر شرف حاصل ہوا
آپ کےدرکا جو کُتا ہوگیا
زاہدوں کی خلد پر کیا دھوم تھی
کوئی جانے گھر یہ ان کا ہوگیا
غول ان کے عاصیوں کے آئے جب
چھنٹ گئی سب بھیڑ رستہ ہوگیا
جا پڑا جو دشت طیبہ میں حسؔن
گلشن جنت گھر اس کا ہوگیا

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

خاک طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ
عجب کوری سے رہے چشم بصیرت محفوظ
دل میں روشن ہو اگر شمع دلائے مولیٰ
دُزد شیطاں سے رہے دین ی دولت محفوظ
یا خدا محو نظارہ ہوں یہاں تک آنکھیں
شکل قرآں ہو مرے دل میں وہ صورت محفوظ
سلسلہ زلف ِ مبارک سے ہے جس کے دل میں
ہر بلا سے رکھے اللہ کی رحمت محفوظ
تھی جو اس ذات سے تکمیل فرامیں منظور
رکھی خاتم کے لیے مہر نبوت محفوظ
اے نگہبان مرے تجھ پہ صلوٰۃ او ر سلام
دو جہاں میں ترے بندے ہیں سلامت محفوظ
واسطہ حفظ الٰہی کا بچا رہزن سے
رہے ایمان ِ غریباں دم رحلت محفوظ
شاہی کون و مکاں آپ کو دی خالق نے
کنز قدرت میں ازل سے تھی یہ دولت محفوظ
تیرے قانون میں گنجائش تبدیل نہیں
نسخ و ترمیم سے ہے تیری شریعت محفوظ
جسے آزاد کرے قامت شہ کا صدقہ
رہے فتنوں سے وہ تا روز قیامت محفوظ
اس کو اعدا کی عداوت سے ضرر کیا پہنچے
جس کے دل میں ہو حسؔن ان کی صحبت محفوظ

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

اگر چمکا مقدر خاک پائے رہرواں ہوکر
چلیں گے بیٹھتے اُٹھتے غبار ِ کارواں ہوکر
شب معراج وہ دم بھر میں پلٹے لا مکاں ہوکر
بہار ہشت جنت دیکھ کر ہفت آسماں ہوکر
چمن کی سیر سے جلتا ہے جی طیبہ کی فرقت میں
مجھے گلزار کا سبزہ رُلاتا ہے دُھواں ہر کر
تصور اُس لب جاں بخش کا کس شان سے آیا
دلوں کا چین ہوکر جان کا آرام ِ جاں ہوکر
کریں تعظیم میری سنگ اسود کی طرح مؤمن
تمہارے در پہ رہ جاؤں جو سنگ آستاں ہوکر
دکھادے یاخدا گلزار طیبہ کا سماں مجھ کو
پھروں کب تک پریشاں بلبل بے آستاں ہوکر
ہوئے یمن قدم سے فرش و عرش ولا مکاں زندہ
خلاصہ یہ کہ سرکار آئے ہیں جان ِ جہاں ہوکر
ترے دست عطا نے دولتیں دیں دل کیے ٹھنڈے
کہیں گوہر فشاں ہوکر کہیں آبِ رواں ہوکر
فدا ہوجائے اُمت اس حمایت،اس محبت پر
ہزاروں غم لیے ہیں ایک دل پر شادماں ہوکر
جو رکھتے ہیں سلاطین شاہی جاوید کی خواہش
نشاں قائم کریں ان کی گلی میں بے نشاں ہوکر
وہ جس راہ سے گزرتے ہیں بسی رہتی ہے مدت تک
نصیب اس گھر کے جس گھر میں وہ ٹھریں مہماں ہوکر
حسؔن کیوں پاؤں توڑے بیٹھے ہو طیبہ کا راستہ لو
زمین ہند سرگرداں رکھے گی آسماں ہوکر

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

جو نور بار ہوا آفتاب حسن ملیح
ہوئے زمین و زماں کامیاب حسن ملیح
زوال ! مہر کو ہو،ماہ کا جمال گھٹے
مگر ہے اوج ابد پر شباب ِ حسن ملیح
زمیں کے پھول گریباں دریدہ غم عشق
فلک پہ بدر دِل افگار تاب حسن ملیح
دلوں کی جان ہے لطف صباحت یوسف
مگر ہوا ہے نہ ہو گا جوابِ حسن ملیح
الٰہی موت سے یوں آئے مجھ کو میٹھی نیند
رہے خیال کی راحت ہو خواب حسن ملیح
جمال والوں میں ہے شور عشق اور ابھی
ہزار پردوں میں ہے آب و تاب حسن ملیح
زمین شور بنے تختئہ گل و سنبل
عرق فشاں ہو اگر آب و تاب ِ حسن ملیح
نثار دولت بیدار و طالع ازواج
نہ دیکھی چشم زُلیخا نے خواب ِ حسن ملیح
تجلیوں نے نمک بھر دیا ہے آنکھوں میں
ملاحت آپ ہوئی ہے حجابِ حسنِ ملیح
نمک کا خاصہ ہے اپنے کیف پر لانا
ہر ایک شے نہ ہو کیوں بہرہ یاب حسن ملیح
عسل ہو آب بنے کو زہائے قند حباب
جو بحر شور میں ہو عکس آبِ حسن ملیح
دل صباحت یوسف میں سوزِ عشق حضور
نبات قند ہوئے ہیں کباب حسن ملیح
صبیح ہوں کہ صباحت ِ جمیل ہوں کہ جمال
غرض سبھی ہیں نمک خوار بابِ حسن ملیح
کھلے جب آنکھ نظر آئے وہ ملاحت پاک
بیاضِ صبح ہو یا رب کتاب ِ حسن ملیح
حیات بے مزہ و بخت تیرہ میدارم
بتاب اے مہ گردوں جناب حسن ملیح
حسؔن کی پیاس بجھا کر نصیب چمکا دے
ترے نثار میں اے آب و تابِ حسن ملیح

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

نعت احمد ہے بصد شان میری پلکوں پر
اشک ہیں نعت کا عنوان میری پلکوں پر
مدحت سرور ذیشاں میری پلکوں پر
یہ ہے سرکار کا احسان میری پلکوں پر
دیکھ کر جذبئہ حسّان مری پلکوں پر
ہیں فدا لولوؤ مرجان مری پلکوں پر
کشت عصیاں مری بہہ جاتی ہے دُھل جاتے ہیں داغ
جب بھی آتا ہے یہ طوفاں میری پلکوں پر
ذکر ہے صاحب ِ قرآن کا لب پر میرے
اور ہیں نقطئہ قرآن مری پلکوں پر
کتنا سمجھایا غم عشق نبی فاش نہ کر
پھر بھی آجاتے ہیں نادان مری پلکوں پر
کوئی شبنم کوئی آنسو انہیں کہتا ہے ادیؔب
یہ جو طیبہ کا ہے امان مری پلکوں پر
جن سے رونق ہے میرے خانئہ ویراں میں ادیؔب
روز آتے ہیں وہ مہمان مری پلکوں پر

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

بے چین نظر روئے پر انوار کی خاطر
ہے تاب ہیں لب ذکر میں سرکار کی خاطر
صد رنگ زباں ہوگئی ،اظہار کی خاطر
توصیف و ثناء میں شہ ابرار کی خاطر
پرواز کو پر مانگ رہا ہوں میں خدا سے
اے گنبد خضرا تِرے دیدار کی خاطر
گیسو کا دیا رنگ جو کعبے خو خدا نے
محراب کو خم ،ابروئے خمدار کی خاطر
صد سالہ مرے زہد کی پرواز تصدق
طیبہ میں نشست پس دیوار کی خاطر
وہ آنکھ طلب کر جو تجھے دید کرادے
سر مانگ تو جھکنے کو در یار کی خاطر
میں منصب دیدار کے لائق نہیں پھر بھی
آجائیے اک شب دل بیمار کی خاطر

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

اس ہجر کی بھٹی میں میرے دل و جاں کب تک
یہ آہ فغاں کب تک،یہ اشک رواں کب تک
پہنچوں گا مدینے میں اے جانِ جہاں کب تک
کیا کوئی نہیں صورت میں آؤ ں مدینے تک
اشکوں ہی کے طوفاں میں بہہ جاؤں مدینے تک
میں خضر سے پوچھوں گا منزل کے نشاں کب تک
اس ہجر کے عالم میں مرجاؤں گا ایک دن میں
شعلے جو بھڑک اٹھے جل جاؤں گا ایک دن میں
چھوڑ ے گی مجھے آخر یہ برق ِ تپاں کب تک
پڑھتا ہوں نمازوں میں آیات وہی آقا
خالق نے اتاری ہے جو نعت وہی آقا
رکھوں میں تصور میں تصویر قرآں کب تک
ایسا بھی تو دن آئے وہ سامنے آجائیں
قدموں پہ رکھیں سر ہم اور جاں سے گذرجائیں
فریاد کے لہجے میں آخر یہ بیاں کب تک
اے نُور ٰخدا مجھ کو دیدار کی حسرت ہے
دیدار تمہارا ہی ایماں کی دولت ہے
اب خواب میں آجاؤ ،یہ قید مکاں کب تک
نسبت کا تقاضا ہے اس در پہ جھکانا سر
جانا ہے مدینے کا لازم تری ہستی پر
لکھے گا ادیؔب آخر حسرت کا بیاں کب تک

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

دل ہجر سے بیتاب ہے دامن بھی ہے تر دیکھ
مدّاحی سرکار دو عالم کا اثر دیکھ
جب دیکھ مدینے کی طرف شوق سفر دیکھ
اس راہ کے ذرّوں کو ہے منزل کی خبر دیکھ
گر دیکھنا چاہے تو اجالوں میں کوئی داغ
گنبد کی ضیاء دیکھ کے پھر سوئے قمر دیکھ
سر تا بقدم نُور ہے ،خوشبو ہے ،ادا ہے
بیٹھا ہے کھجوروں کی چٹائی پہ ،مگر دیکھ
ہے منتظر حسن طلب ،جلوہ پر نور
لیکن یہ تقاضا ہے کہ با دیدہ تردیکھ
انوار کی بارش ہے،فرشتوں کا ہے میلہ
اس کعبئہ کعبہ کا مدینے میں ہے گھر دیکھ
تسبیح کےدانوں سے کہیں بات بنی ہے
دیوانہ کوئی ڈھونڈ ،کوئی اہل نظر دیکھ
جو بات ہے خلوت کی سر بزم نہ کہنا
بیٹھے ہیں یہاں اور بھی کچھ اہل نظر دیکھ
سرکار کا روضہ تری آنکھوں نے ہے دیکھا
اس میں ہی ادیؔب اپنی شفاعت کی خبر دیکھ

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

سرکار بچالو لاج،ہمارا رکھ لو بھرم ،یا شاہِ امم
دکھ درد کے مارے ہیں ،مجبور ہیں ہم، یا شاہ امم
سانچے میں تمہارے رحمت ڈھل کر آئی ہے
تم نے تو گدا کو سلطانی دلوائی ہے
تم نے ہی غریبوں کو امید بندھائی ہے
جب روکے “پکار” تم نے مدد فرمائی ہے
تم جس پہ کرم فرمادو اس کے دور ہوں غم ،اللہ کی قسم
سرکار بچالو لاج،ہمارا رکھ لو بھرم ،یاشاہ امم
دکھ درد کے مارے ہیں ،مجبور ہیں ہم ،یاشاہ امم
سمٹی ہوئی چادر میں تنویر ِ خدائی ہو
سر تابہ قدم رعنائی ہی رعنائی ہو
عالم ہے تمہارا ﷺ ،تم رب کے شیدائی ہو
ہر عالم میں تم وجہ چمن آرائی ہو
ہر سمت تمہاری دھوم عرب ہو یا کہ عجم،اللہ کی قسم
سرکار ،بچالو لاج، ہمارا رکھ لو بھرم ،یاشاہ امم
دکھ درد کے مارے ہیں ،مجبور ہیں ہم،یا شاہ امم
ملتا نہ کبھی انسانوں کو منزل کا نشاں
پاتے نہ ستائے لوگ کبھی ظالم سے اماں
آتے جو نہ تم ،رہتا یہ جہاں ویراں ویراں
عالم ہے تمہاری ﷺ خاک ِ کفِ پا سے ذیشاں
صحرا میں بنے گلزار ،تمہارے نقش قدم ، اللہ کی قسم
سرکار بچالو لاج،ہمارا رکھ لو بھرم ،یاشاہ امم
دکھ درد کے مارے ہیں مجبور ہیں ہم ،یاشاہ امم
اے ساقی کوثر شانِ کریمی دکھلائیں
لبریز محبت کا اِ ک ساغر پلوائیں
ہے فکر ادیؔب مدینے تک کیسے جائیں
گر چشم کرم ہوجائے تو راہیں کھُل جائیں
سلطان ِ کرم ،اب رکھ لو مرے اشکوں کا بھرم،اللہ کی قسم
سرکار بچالو لاج ،ہمارا رکھ لو بھرم ،یا شاہ امم
دکھ درد کے مارے ہیں ،مجبور ہیں ہم،یاشاہ امم

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

پڑھو پڑھو شہ خیرالانام کی تسبیح
نبینا کی، علیہ السلام کی تسبیح
یہی ہے عرش پہ اعلی مقام کی تسبیح
یہی ہے دہر میں ہر خاص و عام کی تسبیح
فرشتے رکھتے ہیں لیجا کے مصطفی کے حضور
جو بھیجتے ہیں درود و سلام کی تسبیح
وہ شب و مسجد اقصیٰ وہ انبیاء کا ہجوم
ہر اک کہ لب پہ تھی جس شب امام کی تسبیح
ملائکہ بھی پَرے کے پَرے شب اسرٰٰ ی
لئے تھے ہاتھ میں حسن تمام کی تسبیح
پڑھی ہے خلد میں حوران خلد نے شب بھر
نگاہ شوق سے مست خرام کی تسبیح
ملی جو عرش سے نعلین عرش نے یہ کہا
سکھا دو مجھ کو بھی قرب مدام کی تسبیح
بروز حشر پڑھیں گے سب اپنی آنکھوں سے
شفیع حشر کے دیدار عام کی تسبیح
درود بَر شہہ والا ،سلام بر شہہ دیں
یہ میری صبح کی ہے اور وہ شام کی کی تسبیح
درود خواں ہے خداوند ذوالجلال ادیؔب
درود سب سے ہے اعلیٰ مقام کی تسبیح

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

ملے ہیں نقش کف پا جہاں اب تک
ہزار بار جھکی ہے جبیں وہاں اب تک
پھر ایک بار تو گذرو یہاں سے رب کے حبیب
لگارہی ہے صدائیں یہ کہکشاں اب تک
وہ ایک سجدہ گزرا جو میں نے طیبہ میں
تمام عمر کے سجدوں پہ ہے گراں اب تک
جو ایک بار نکالی گئ ہے طیبہ سے
پلٹ کے پھر نہ گئی ہے وہاں خزاں اب تک
وہ نور جو میری آنکھوں ے ایک شب دیکھا
بتاسکی نہ کسی کو مری زباں اب تک
کہاں یہ وسعت گردوں ،کہاں وہ تیرا کرم
حجل ہے تنگی داماں سے آسماں اب تک
بس ایک بارہی دیکھی بلندی خضرا
مری نگاہ میں نیچا ہے آسماں اب تک
تمہیں پکار رہے ہیں ،پکارنے والے
ازل سے روح بدن سے رواں رواں اب تک
تری ثناء تری تصویر ،تیرا حسن سخن
لگا رکھا ہے کلیجے سے یوں قرآں اب تک
میں کیا ہوں کیا نہیں ،عاصی ہوں ناامید نہیں
ترے کرم کا سہارا ہے مہرباں اب تک
ان آنسوؤں نے سر بزم راز کھول دیا
بنار کھا تھا جنہیں میں نے رازداں اب تک
ترے حضور ترے روبرو تری مدحت
ترس رہی ہے سنانے کو یہ زباں اب تک
کہیں حضور فرشتو ں سے وقت نزع مری
ادیؔب میری ثناء میں گلفشاں اب تک

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

بس یہی دیکھتے ہو،میں ہوں گنہ گار وں میں
کون ہے یہ بھی دیکھو مرے غمخواروں میں
فیصلہ حشر کا اک آن میں ہوجائے گا
بیٹھ جائیں گے جب اگر وہ گنہ گاروں میں
قربت شہر مدینہ کی ہے بس اک صورت
کوئی چن دے مجھے اس شہر کی دیواروں میں
اشک ِ غم ،اشک ندامت ہیں متاع کونین
یہ وہ دولت ہے جو ملتی ہے گنہ گاروں میں
کتنے اچھے ہیں جو اچھا نہیں ہونے پاتے
ہیں مسیحائے جہاں بھی ترے بیماروں میں
شبنم اشک،گلِ نعت ،ہوائے رحمت
ایسی رونق نہ چمن میں ہے نہ گلزاروں میں
خون دل،خون جگر،خون تمنا سے ادیؔب
رنگ آتا ہے مری فکر کے شہ پاروں میں

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

اے رونق بزم جہاں تم پر فدا ہوجائیں ہم
تم ہی تو ہو،جس کی ثناء مکتوب بر لوح و قلم
یا صاحب الجود و کرم ،تم ہی سے ہے میرا بھرم
تم ہی سے ہے آقا مرے،دل میں تڑ پ آنکھوں میں نم
یا رحمت اللعالمیں یا سرور دنیا و دیں
روز جزا تیرے سوا، کوئی نہیں پرسان غم
ہم بے عمل ،مجرم بھی ہیں ،مجبور بھی ،محتاج بھی
اک بار سوئے عاصیاں ،اے مہرباں ،چشم کرم
خیرات تیرے نور کی ،خورشید و ماہ و کہکشاں
صدقہ تری زلفوں کا ہے ،خوشبو ،صبا،موج ارم
کونین اک گوشے میں ہے دامان رحمت کے تری
مسند تری عرش بریں ،سایہ ترا ابر کرم
لاکھوں برس سے دیدہ روح الامیں کی روشنی
سدیوں سے گیسو کی قبا پہنے ہوئے سنگ حرم
سرمایہ اشک رواں ،سایہ کند بر عاصیاں
من زاں سبب ،درنیم شب،یا سیدی گر یہ کنم
اے باعث ایجاد کل،اے وجہ تخلیق جہاں
ہے سجدہ گاہ عاشقاں ،آقا ترے نقش قدم
اے زینت و زیب جہاں ،شرف بشر ،روح اذاں
تو ہے پناہ عاصیاں بخشش تری شان کرم
رنگینی قوس و قرح گرد کف پا ہے تری
ہے مخزن اسرار حق،تیر ی جبین محترم
ماہ عرب ماہ مبیں اے رحمت اللعالمین
بعد از خدا کوئی نہیں تیرے سوائے محترم
جب آبنائے نور میں غوطے لگاتا ہے ادیؔب
لاتاہے موتی مدح کے کرتا ہے پھر نعتیں رقم

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

ہے ذکر مصطفی ہماری چشم نم کی آبرو
یہی کرے گا سرخرو ہمیں خدا کے روبرو
سکوت،مرگ زندگی ،جمود،ترک زندگی
حیات،ذکر مصطفی کی انجمن کی ہاؤ ہو
یہی ضیاء چمن چمن ،یہی سخن دہن دہن
نفس نفس کا مدّعا،نظر نظر کی جستجو
یہی ہے ورد زباں،زمین سے تابہ آسماں
بہر نفس بہر زماں،بہر قدم ،چہار سو
یہی حیات جاوداں ،یہی امام کارواں
یہی بلال ؒکی اذاں ، یہی بلالؒ کا وضو
یہی شریعت کہن یہی حدیث پنجتن
یہ غازیوں کے سرکاتاج اور شہید کا لہو
اسی لطف خاص ہے میرے خیال کی تڑپ
اسی کا نور ہے مرے سخن کدہ کی آبرو
یہ عاشقانِ مصطفی کہ سر پہ چتر زرگری
حجل ہے آپ و تاب مہر و ماہ جس کے روبرو
یہی ادؔیب کا قلم یہی نشاں ،یہی علم
یہی ادؔیب کی بہار داستاں میں رنگ و بو

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

آپ کی یاد میں جس جس نے گزاری تھی حیات
روز محشر تھے وہی لوگ سر راہ نجات
واعظو!نسبت سرکار دو عالم کے سوا
ان کے دیوانوں سے کرنا نہ کسی غیر کی بات
پہلے سرکار دو عالم کو بنایا رب نے
پھر بنائی گئی رحمت،پئے نذر و خیرات
ذکر سلطان دو عالم کا عجب عالم ہے
کاش مل جائے اس عالم کی مجھے آب حیات
کر نہ نتقید مرے جرم و خطا پر ناصح
میں گنہگار ہوں،مت ڈھونڈ فرشتوں کی صفات
تیرے مسلک میں شب و روز قیام اور قعود
میرے مشرب ہر اک سانس دروداور صلوۃ
جن کو چاہیں گے محمدﷺانہیں چاہے گا خدا
میرا مسلک مرامذھب،مرا ایمان ،یہ بات
لوگ محشر میں بد احوال و پریشان ہوں گے
ہم ثنا خواں ہیں ،سجائیں گے وہاں محفل نعت
میں ہوں اور گنبد خضرا کا تصور ہے ادیؔب
کاسئہ فکر ہے اور شاہ دنیٰ کی خیرات

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

نہاں رہتا ہے کب مضمون مرا تحریر سے پہلے
نہ جانے اشک کیوں بہنے لگے تقریر سے پہلے
زباں کو غسل دیتے ہیں درود پاک پڑھ پڑھ کر
ثنا خوانی کبھی کرتے نہیں تطہیر سے پہلے
ثنائے مصطفی ﷺ سے ہم دلوں کوفتح کرتے ہیں
یہ ہے وہ کام جو ہوتا نہ تھا شمشیر سے پہلے
تم آئے تو جنون عشق بھی میدان میں آیا
کسے تھی ورنہ الفت طوق سے ، زنجیر سے پہلے
تری رحمت سے یہ جانا،خدا رحمت ہی رحمت ہے
یہ سب اک خواب تھا ورنہ تری تعبیر سے پہلے
ادیؔب اک رات جھونکے مشک بار آئے ہیں طیبہ سے
پہنچ جائیں گے اب ہم آہوے تدبیر سے پہل

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

بقید زندگی ہر ہر قدم پر مدح خوانی کر
بروز حشر ناز کارہائے زندگانی کر!
تصور کو مرے تصویر کردے حرف اول میں
مرے الفاظ کو بہر کرم،در معانی کر
مری صورت کو دیکھیں اور مرا مضمون پہچانیں
مرے جذبات کی اے چشم تر،یوں ترجمانی کر
ادب کا پیرہن ،نازک بدن،حسن سخن کو دے
پھر اس کو رنگ خون آرزو سے ارغونی کر
ادیؔب اس ذات اقدس نے عطا کی تجھ کو لسانی
اسی کے ذکر میں شام و سحر رطب اللسانی کر

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

نُور ظہور حق ہے کیا؟ نور جمال مصطفی
طرز کلام رب ہے کیا؟ حسن مقال مصطفی
دل کا ہے کام،کام کیا ؟ محو خیال مصطفی
دیدہ شوق،شوق کیا؟ دید جمال مصطفی
عشق کا مدعا سنو،حُسن کا منتھا سُنو
ایک خیال مصطفی ،ایک جمال مصطفی
غایت کن،حضور کے حسن کا اہتمام تھی
حشر جو ہوگا ،ہوگا کیا ،دید جمال مصطفی
قبر میں جو بھی آئیں گے دیکھ کے لوٹ جائیں گے
دست گناہ گار میں،دامن آلِ مصطفی
مجھ سے گناہ گار کا روئے سخن تو دیکھنا
مدحت مصطفی ہے اور مدحت آلِ مصطفی
ان کی ثنا کے روزو شب ،تیرا نصیب ہیں ادؔیب
صبح فراق مصطفی ،شام خیال ِ مصطفی

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post