غم ہوگئے بے شمار آقاﷺ
بندہ تیرے نثار آقاﷺ
بگڑا جاتا ہے کھیل میرا
آقا آقا سنوار آقاﷺ
منجدھار پہ آکے ناؤ ٹوٹی
دے ہاتھ کہ ہوں میں پارآقاﷺ
ٹوٹی جاتی پیٹھ میری
للہ یہ بوجھ اتار آقاﷺ
ہلکا ہے اگر ہمارا پلّہ
بھاری ہے ترا وقار آقاﷺ
مجبور ہیں ہم تو فکر کیا ہے
تم کوتو ہے اختیار آقاﷺ
میں دور ہوں تم تو ہر مرے پاس
سن لو میری پکار آقاﷺ
مجھ سا کوئی غم زدہ نہ ہوگا
تم سا نہیں غم گسار آقاﷺ
گرداب میں پڑگئی ہے کشتی
ڈوبا ،ڈوبا اتار آقاﷺ
تم وہ کہ کرم کو ناز تم سے
میں وہ کہ بدی کو عار آقاﷺ
جس کی مرضی خدانہ ٹالے
میرا ہے وہ نامدار آقاﷺ
ہے ملک ِ خدا پہ جس کا قبضہ
میرا وہ کامگار آقاﷺ
سویا کیے نابکار بندے
رویا کیے زار زار آقا ﷺ
کیا بھول ہے ان کے ہوتے کہلائیں
دنیا کے یہ تاجدار آقاﷺ
ان کے ادنی گدا مٹ جائیں
ایسے ایسے ہزار آقاﷺ
بے ابر کرم کے میرے دھبّے
لَا تَغْسِلُھَا الْبِحَار آقاﷺ
اتنی رحمت رضؔا پہ کرلو
لا یَقْرُبُہ الْبَوار آقاﷺ

شاعر :امام احمد رضا محدثِ بریلوی

Comments are off for this post

کرے چارہ سازی زیارت کسی کی
بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
چمک کر یہ کہتی ہے طلعت کسی کی
کہ دیدار حق ہےزیارت کسی کی
نہ رہتی جو پردوں میں صورت کسی کی
نہ ہوتی کسی کو زیارت کسی کی
عجب پیاری پیاری ہے صورت کسی کی
ہمیں کیا خدا کو ہے الفت کسی کی
ابھی پار ہوں ڈوبنے والے بیڑے
سہارا لگا دے جو رحمت کسی کی
کسی کو کسی سے ہے نہ ہوگی
خدا کو ہے جتنی محبت کسی کی
دم حشر عاصی مزے لے رہے ہیں
شفاعت کسی کی ہے رحمت کسی کی
ترا قبضہ کونین و مافیھا سب پر
ہوئی ہے نہ ہو یوں حکومت کسی کی
زمانہ کی دولت نہیں پاس پھر بھی
زمانہ میں بٹتی ہے دولت کسی کی
نہ پہنچیں کہیں عقل کل کے فرشتے
خدا جانتا ہے حقیقت کسی کی
ہمارا بھروسہ ،ہمارا سہارا
شفاعت کسی کی حمایت کسی کی
قمر ایک اشارہ میں دوٹکڑے دیکھا
زمانہ پہ روشن ہے طاقت کسی کی
ہمیں ہیں کسی کی شفاعت کی خاطر
ہماری ہی خاطر شفاعت کسی کی
نہ پہنچیں گے جب تک گنہگار ان کے
نہ جائے گی جنت میں امت کسی کی
ہم ایسے گنہگار ہیں زہد والو
ہماری مدد پر ہے رحمت کسی کی
مدینہ کا جنگل ہو اور ہم ہوں زاہد
نہیں چاہیئے ہم کو جنت کسی کی
ہزاروں ہوں خورشید محشر تو کیا غم
یہاں سایہ گستر ہے رحمت کسی کی
بھرے جائینگے خلدمیں اہل عصیاں
نہ جائیگی خالی شفاعت کسی کی
وہی سب کے مالک انہیں کا ہے سب کچھ
نہ عاصی کسی کے نہ جنت کسی کی
ورفعنا لک ذکرک پرتصدق
سب اونچوں سے اونچی ہے رفعت کسی کی
اترنے لگے مارمیت یداللہ
چڑھی ایسی زوروں پہ طاقت کسی کی
فترضیٰ نے ڈالی ہیں باہیں گلے میں
کہ ہو جائے راضی طبعیت کسی کی
خدا سے دُعا ہے کہ ہنگام رخصت
زبان حسؔن پر ہو مدحت کسی کی

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

مجرمِ ہیبت زدہ فرد عصیاں لے چلا
لطف شہ ،تسکین دیتا پیش یزداں لے چلا
دل کے آئینہ میں جو تصویر جاناں لے چلا
محفل جنت کی آرائش کا ساماں لے چلا
رہرو جنت طیبہ کا بیاباں لے چلا
دامن ِ دل کھینچتا خار مُغیلاں لے چلا
گل نہ ہو جائے چراغ زینت گلشن کہیں
اپنے سر میں مَیں ہوائے دشت جاناں لے چلا
روئے عالمتاب نے بانٹا باجو باڑ ا نور کا
ماہِ نو کشی میں پیالا مہر تاباں لے چلا
گو نہیں رکھتے زمانے کی وہ دولت اپنے پاس
پر زمانہ نعمتوں سے بھر کے داماں لے چلا
تیری ہیبت سےملا تاج ِسلاطیں خاک میں
تیری رحمت سے گدا تخت سلیماں لے چلا
ایسی شوکت پر کہ اڑتا ہے پھر یرا عرش پر
جس گدا نے آرزو کی ان کو مہماں لے چلا
صدقے اس رحمت کے اُن کو روزِ محشر ہر طرف
نا شکیبا شور فریاد ِ اسیراں لے چلا
دو قدم بھی چل نہ سکتے ہم سرِ شمشیر تیز
ہاتھ پکڑے رَبِّ سَلِّمْ کا نگہباں لے چلا
دستگیرِ خستہ حالاں دستگیری کیجئے
پاؤں میں رعشہ ہے سر پر بارِ عصیاں لے چلا
وقت آخر نا امیدی میں وہ صورت دیکھ کر
دل شکستہ دل کے ہر پارہ میں قرآں لے چلا
قیدیوں کی جنبش ابرو سے بیڑی کاٹ دو
ورنہ جرموں کا تسلسل سوئے زنداں لے چلا
روزِ محشر شاد ہوں عاصی کہ پیش کبریا
رحم ان کو اُمتی گویاں و گریاں لے چلا
شکل شبنم راتوں کا رونا ترا ابر کرم
صبح محشر صورت گل ہم کو خنداں لے چلا
اختر اسلام چمکا کفر کی ظلمت چھنٹی
بدر میں جب وہ ہلال تیغ بُرّان لے چلا
بزم خوباں کو خدا نے پہلے دیں آرائشیں
پھر مرے دولہا کو سوئے بزم خوباں لے چلا
اللہ اللہ صر صرِ طیبہ کی رنگ آمیزیاں
ہر بگولا نزہت سروِ گلستاں لے چلا
قطرہ قطرہ ان کے گھر سے بحر عرفاں ہوگیا
ذرّہ ذرّہ ان کے دَر سے مہر تاباں لے چلا
صبح محشر ہر ادائے عارض روشن میں وہ
شمع نور افشاں پئے شام غریباں لے چلا
شافع روز قیامت کاہوںادنی ٰ اُمتی
پھرحسؔن کیا غم اگر میں بار عصیاں لے چلا

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

کہوں کیا حال زاہد ،گلشن طیبہ کی نزہت کا
کہ ہے خلد بریں چھوٹا سا ٹکڑا میری جنت کا
تعالیٰ اللہ شوکت تیرے نام پاک کی آقا
کہ اب تک عرش اعلی ٰ کو ہے سکتہ تیری ہیبت کا
وکیل اپنا کیا ہے احمد مختار کو میں نے
نہ کیونکر پھر رہائی میری منشا ہو عدالت کا
بلاتے ہیں اسی کو جس کی بگڑی یہ بناتے ہیں
کمر بندھنا دیارِ طیبہ کو کھلنا ہے قسمت کا
کُھلیں اسلام کی آنکھیں ہوا سارا جہاں روشن
عر ب کے چاند صدقے ،کیا ہی کہنا تیری طلعت کا
نہ کر رسوائے محشر واسطہ محبوب کا یارب
یہ مجرم دور سے آیا ہے سن کر نام رحمت کا
مرادیں مانگنے سے پہلے ملتی ہیں مدینہ میں
ہجوم ِ جودنے روکا ہے بڑھنا دست ِ حاجت کا
شب اسرٰی ترے جلوؤں نے کچھ ایسا سماں باندھا
کہ اب تک عرش ِ اعظم منتظر ہے تیری رخصت کا
یہاں کے ڈوبتے دم میں ادھر جا کر اُبھر تے ہیں
کنارہ ایک ہے بحر ندامت بحر رحمت کا
غنی ہے دل بھرا ہے نعمت کونین سے دامن
گدا ہوں میں فقیر آستانِ خود بدولت کا
طواف روضئہ مولٰی پہ ناواقف بگڑتے ہیں
عقیدہ اور ہی کچھ ہے ادب دانِ محبت کا
خزانِ غم سے رکھنا دو ر مجھ کو اس کے صدقے میں
جوگل اے باغباں ہے عطر تیرے باغِ صنعت کا
الہی بعد مُردن پردہ ہائے حائل اُٹھ جائیں
اُجالا میرے مرقد میں ہو اُن کی شمع تربت کا
سنا ہے روز محشر آپ ہی کا منہ تکیں گے سب
یہاں پورا ہوا مطلب دل مشتاق رویت کا
وجودِپاک باعث خلقت ،مخلوق کا ٹھرا
تمہاری شانِ وحدت سے ہوا اظہار کثرت کا
ہمیں بھی یاد رکھنا ساکنانِ کوچئہ جاناں
سلام شوق پہنچے بیکسانِ دشت غربت کا
حسؔن سر کا ر طیبہ کا عجب دربار عالی ہے
دَرِ دولت پہ اک میلا لگا ہے اہل حاجت کا

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

جان سے تنگ ہیں قیدی غم تنہائی کے
صدقے جاؤں میں تری انجمن آرائی کے
بزم آرا ہوں اُجالے تری زیبائی کے
کب سے مشتاق ہیں آئینے خود آرائی کے
ہو غبار درِ محبوب کہ گرد رہِ دوست
جزو اعظم ہیں یہی سرمئہ بینائی کے
خاک ہو جائے اگر تیری تمناؤں میں
کیوں ملیں خاک میں ارمان تمنائی کے
وَرَفَعْنا لَکَ ذِکْرَکَ کے چمکتے خورشید
لا مکاں تک ہیں ،اُجالے تری زیبائی کے
دل مشتاق میں ارمان لقا،آنکھیں بند
قابل دید ہیں انداز تمنائی کے
لبِ جاں بخش کی کیا بات ہے، سبحان اللہ
تم نے زندہ کیے اعجاز مسیحائی کے
اپنے دامن چھپائیں وہ مرے عیبوں کو
اے زہے بخت مری ذلت و رسوائی کے
دیکھنے والے خداکے ہیں ،خدا شاہد ہے
دیکھنے والے ترے جلوہ زیبائی کے
جب غبار رہِ محبوب نے عزت بخشی
آئینے صاف ہوئے عینک ِزیبائی کے
بار سر پر ہے ،نقاہت سے گرا جاتا ہوں
صدقے جاؤں ترے بازو کی توانائی کے
عالم الغیب نے ہر غیب سے آگاہ کیا
صدقے اس شان کی دانائی و بینائی کے
دیکھنے والے ہو تم رات کی تاریکی میں
کان میں سمع کے اور آنکھ میں بینائی کے
غیبی نطفے ہیں وہ بے علم جنم کے اندھے
جن کو انکار ہیں اس علم و شناسائی کے
اے حسؔن کعبہ ہی افضل سہی اس در سے مگر
ہم تو خوگر ہیں یہاں ناصیہ فرسائی کے ۔

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں
کہ نا اُمیدوں کو امیدوار کرتے ہیں
جما کے دل میں صفیں حسرت و تمنا کی
نگاہ لطف کا ہم انتظار کرتے ہیں
مجھے فسردگی بخت کا الم کیوں ہو
وہ ایک دم خزاں کو بہار کرتے ہیں
خدا سگان ِ نبی سے مجھ کو سنوادے
ہم اپنے کتوں میں تجھ کو شمار کرتےہیں
ملائکہ کو بھی ہیں کچھ فضلیلتیں ہم پر
کہ پاس رہتے ہیں سوفِ مزار کرتے ہیں
جو خوش نصیب یہاں خاک در پہ بیٹھے ہیں
جلوس مسند شاہی سے عار کرتے ہیں
ہمارے دل کی لگی بھی وہی بجھادیں گے
جو دم میں آگ کو با غ و بہار کرتے ہیں
اشارہ کردو تو باد خلاف کے جھونکے
ابھی ہمارے سفینے کو پار کرتے ہیں
کسے ہے دیدِ جمالِ خدا پسند کی تاب
وہ پورے جلوے کہاں آشکار کرتے ہیں
ہمارے نخل ِ تمنا کو بھی وہ پھل دیں گے
درخت خشک کو جو بار دار کرتے ہیں
پڑے ہیں خواب تغافل میں ہم ،مگر مولیٰ
طرح طرح سے ہمیں ہوشیار کرتے ہیں
سنا نہ مرتے ہوئے آج تک کسی نے انہیں
جو اپنے جان و دل اُن پر نثار کرتے ہیں
انہیں کا جلوہ سر بزم دیکھتے ہیں پتنگ
انہیں کی یاد چمن میں ہزار کرتے ہیں
مرے کریم نہ آہو کو قید دیکھ سکے
عبث اَسیر ِِ الم انتشار کرتےہیں
جوذرّےآتےہیں پائے حضور کے نیچے
چمک کے مہر کو وہ شرمسار کرتے ہیں
جو موئے پاک کو رکھتے ہیں اپنی ٹوپی میں
شجاعتیں وہ دَمِ کار زار کرتے ہیں
جدھر وہ آتےہیں اب اس میں دل ہوں یاراہیں
مہک سے گیسوؤں کی مشکبار کرتے ہیں
حسؔن کی جان ہو اُس وسعت کرم پہ نثار
کہ اک جہاں کو اُمیدوار کرتے ہیں

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

جن و انسان و ملک کو ہے بھروسا تیرا
سرورا مرجع ِ کل ہے درِ والا تیرا
واہ اے عطر خدا ساز مہکنا تیرا
خوبرو ملتے ہیں کپڑوں میں پسینہ تیرا
دہر میں آٹھ پہر بٹتاہے باڑا تیرا
وقف ہے مانگنے والوں پہ خزانہ تیرا
لا مکاں میں نظر آتا ہے اُجالا تیرا
دور پہنچا یا ترے حسن نے شہرہ تیرا
جلوہ یار ادھر بھی کوئی پھیرا تیرا
حسرتیں آٹھ پہر تکتی ہیں رستا تیرا
یہ نہیں ہے کہ فقط ہے یہ مدینہ تیرا
تو ہے مختار ،دو عالم پہ ہے قبضہ تیرا
کیا کہے وصف کوئی دشت مدینہ تیرا
پھول کی جانِ نزاکت میں ہے کانٹا تیرا
کس کے دامن میں چھپے کس کے قدم پو لوٹے
تیرا سگ جائے کہاں چھوڑ کے ٹکڑا تیرا
خسرو کون و مکاں اور توضع ایسی
ہاتھ تکیہ ہے ترا،خاک بچھونا تیرا
خوبرویانِ جہاں تجھ پہ فدا ہوتے ہیں
وہ ہے اے ماہِ عرب حسن ِ دل آرا تیرا
بادشاہانِ جہاں بہر گدائی آئیں
دینے پر آئے اگر مانگنے والا تیرا
دُشمن و دوست کےمنہ پر ہے کشادہ یکساں
روئے آئینہ ہے مولٰی درِ والا تیرا
پاؤں مجروح ہیں ،منزل ہے کڑی ،بوجھ بہت
آہ! گر ایسے میں پایا نہ سہارا تیرا
نیک اچھے ہیں کہ اعمال ہیں ان کے اچھے
ہم بدوں کے لیے کافی ہے بھروسا تیرا
آفتوں میں ہے گرفتار غلام عجمی
اے عرب والے ادھر بھی کوئی پھیرا تیرا
اونچے اونچوں کو ترے سامنے ساجد پایا
کس طرح سمجھے کو ئی رتبئہ اعلی تیرا
خارِ صحرائے نبی ،پاؤں سے کیا کام تجھے
آمری جان مرے دل میں ہے رستہ تیرا
کیوں نہ ہو ناز مجھے اپنے مقدر پہ کہ ہوں
سگ ترا،بندہ ترا،مانگنے والا تیرا
اچھے اچھے ہیں ترے در کی گدائی کرتے
اونچے اونچوں میں بٹاکر تا ہے صدقہ تیرا
بھیک بے مانگے فقیروں کو جہاں ملتی ہے
دونوں عالم میں وہ دروازہ ہے کس کا تیرا
کیوں تمنا مری مایوس ہو اے ابر کرم
سوکھے دھانوں کا مدد گار ہے چھینٹا تیرا
ہائے پھر خندۃ بیجا مرے لب پر آیا
ہائے پھر بھول گیا راتوں کا رونا تیرا
حشر کی پیاس سے کیا خو ف گنہگاروں کو
تشنہ کاموں کا خریدار ہے دریا تیرا
سوزن گُم شدہ ملتی ہے تبسم سے ترے
شام کو صبح بناتا ہے اُجالا تیرا
صدق نے تجھ میں یہاں تک تو جگہ پائی ہے
کہہ نہیں سکتے اُلش کو بھی تو جھوٹا تیرا
خاص بندوں کے تصدق میں رہائی پائے
آخر اس کام کا تو ہے یہ نکمّا تیرا
بندِ غم کاٹ دیا کرتے ہیں تیرے ابرو
پھیر دیتا ہے بلاؤں کو اشارا تیرا
حشر کے روز ہنسائے گا خطا کاروں کو
میرے غمخوار ِ دِل ،شب میں یہ رونا تیرا
عملِ نیک کہاں نامئہ بدکاراں میں
ہےغلاموں کو بھروسہ مرے آقا تیرا
بہر دیدار جھک آئے ہیں زمیں پر تارے
واہ اے جلوہ دلدار چمکنا تیرا
اونچی ہو کر نظر آتی ہے ہر اک شے چھوٹی
جاکے خورشید بنا چرخ پہ ذرہ تیرا
اے مدینے کی ہوا دل مرا افسردہ ہے
سوکھی کلیوں کو کِھلا جاتا ہے جھونکا تیرا
میرے آقا ہیں وہ ابر کرم ا ے سوزِ الم
ایک چھینٹے کا بھی ہوگا نہ یہ دہرا تیرا
اب حسؔن منقبت ِ خواجئہ اجمیر سنا
طبع پُر جوش ہے رکتا نہیں خامہ تیرا

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

سحر چمکی جمال فصل گل آرائشوں پر ہے
نسیم ِ روح پرور سے مشام جاں معطر ہے
قریب ِ طیبہ بخشے ہیں تصور نے مزے کیا کیا
مرادل ہے مدینہ میں ،مدینہ سل کے اندر ہے
ملائک سر جہاں اپنا جھجکتے ڈرتے رکھتے ہیں
قدم اُن کے گنہ گاروں کا ایسی سر زمیں پر ہے
اے اوسونے والے دل ،ارے اوسونے والے دل
سحر ہے جاگ غافل دیکھ تو عالم منور ہے
سہانی طرز کی طلعت ،نرالے رنگ کی نکہت
نسیم صبح سے مہکا ہوا پُر نو ر منظر ہے
تعالٰی اللہ یہ شادابی ،یہ رنگینی تعالیٰ اللہ
بہار ہشت جنت دشت ِ طیبہ پر نچھاور ہے
ہوائیں آرہی ہیں کوچئہ پُر نور ِ جاناں کی
کھلی جاتی ہیں کلیاں تازگی دل کو میسر ہے
منور چشم زائر ہے جمال ِ عرش اعظم ہے
نظر میں سبز قبہ کی تجلی جلوہ گستر ہے
یہ رفعت درگہ عرش آستاں کے قرب سے پائی
کہ ہر ہر سانس ہر ہر گام پر معراج دیگر ہے
محرم کی نویں تاریخ بارہ منزلیں کر کے
وہاں پہنچے ،وہ گھر دیکھا ،جو گھر اللہ کا گھر ہے
نہ پوچھو ہم کہاں پہنچے اور ان آنکھوں نے کیا دیکھا
جہاں پہنچے وہاں پہنچے جو دیکھا دل کے اندر ہے
ہزاروں بے نواؤں کے ہیں جمگھت آستانہ پر
طلب دل میں ،صدائے یا رسول اللہ لب پر ہے
لکھا ہے خامئہ رحمت نے در پر خط قدرت سے
جسے یہ آستانہ مل گیا سب کچھ میسر ہے
خدا ہے اس کا مالک یہ خدائی بھر کا مالک ہے
خدا ہے اس کا مولٰی یہ خدائی بھر کا سرور ہے
زمانہ اس کے قابو میں،زمانے والے قابو میں
یہ ہر دفتر کا حاکم ہے یہ ہر حاکم کا افسر ہے
عطا کے ساتھ ہے مختار رحمت کے خزانوں کا
خدائی پر ہے قابو بس خدا ہی اس سے باہر ہے
کرم کے جوش ہیں بدل و نعم کے دور دورے ہیں
عطائے بانوا ہر بے نوا سے شیر و شکر ہے
کوئی لپٹا ہے فرط شوق میں روضہ کی جالی سے
کوئ گردن جھکا ئے رعب سے بادیدہ تر ہے
کوئی مشغول عرض ِ حال ہے یوں شادماں ہو کر
کہ یہ سب سے بڑی سرکار ہے تقدیر یاور ہے
کمینہ بندہ در عرض کرتا ہے حضوری میں
جو موروثی یہاں کا مدح گستر ہے ثناء گر ہے
تری رحمت کے صدقے یہ تری رحمت کا صدقہ تھا
کہ ان ناپاک آنکھوں کو یہ نظارہ میسر ہے
ذلیلوں کی تو کیا گنتی سلاطین ِ زمانہ کو
تری سرکار عالی ہے ،ترا دربار بر تر ہے
تری دولت ،تری ثروت ،تری شوکت جلالت کا
نہ ہے کوئی زمیں پر اور نہ کوئی آسماں پر ہے
مطاف و کعبہ کا عالم دکھایا تو نے طیبہ میں
ترا گھر بیچ میں،چاروں طرف اللہ کا گھر ہے
تجلی پر تری صدقے ہے مہرو ماہ کی تابش
پسینے پر تے قربان روحِ مشک و عنبر ہے
غم و افسوس کا دافع اشارہ پیاری آنکھوں کا
دل مایوس کی حامی نگاہِ بندہ پرور ہے
جو سب اچھوںمیں ہے اچھا جو ہر بہتر سے بہتر ہے
ترے صدقے سے اچھا ہے ترے صدقے میں بہتر ہے
رکھوں میں حاضر ی کی شرم ان اعمال پر کیونکر
مرے امکان سے باہر مری قدرت سے باہر ہے
اگر شانِ کرم کو لاج ہو میرے بلانے کی
تو میری حاضری دونوں جہاں میں میری یاور ہے
مجھے کیا ہوگیا ہے کیوں میں ایسی باتیں کرتا ہوں
یہاں بھی یاس و محرومی یہ کیونکر ہو یہ کیونکر ہے
بلا کر اپنے کتے کو نہ دیں چمکا ر کرٹکڑا
پھر اس شان کر م پر فہم سے یہ بات باہر ہے
تذبذب مغفرت میں کیوں رہے اس در کے زائر کو
کہ یہ درگاہ والا رحمت خالص کا منظر ہے
مبارک ہو حسؔن سب آرزوئیں ہوگئیں پوری
اب ان کے صدقے میں عیش ِ ابد تجھ کو میسر ہے ۔

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

جو بیمار غم لے رہا ہو سنبھالے
وہ چاہے تودم بھر میں اس کو سنبھالے
نہ کر اس طرح اے دل زار نالے
وہ ہیں سب کی فریاد کےسننے والے
کوئی دم میں اب ڈوبتا ہے سفینہ
خدارا خبر میری اے ناخدا لے
سفر کر خیال رخِ شہ میں اے جاں
مسافر نکل جا اُجالے اُجالے
تہی دست و سودائے بازار ِ محشر
مری لاج رکھ لے مرے تاج والے
زہے شوکت ِآستانِ معلیٰ
یہاں سر جھکاتے ہیں سب تاج والے
سوا تیرے اے ناخدائے غریباں
وہ ہے کون جو ڈوبتو ں کو نکالے
یہی عرض کرتے ہیں شیرانِ عالم
کہ تو اپنے کتوں کا کتا بنالے
جسے اپنی مشکل ہو آسان کرنی
فقیرانِ طیبہ سے آ کر دعا لے
خدا کا کرم دستگیری کو آئے
ترانام لے لیں اگر گرنے والے
در شہ پر اے دل مرادیں ملیں گی
یہاں بیٹھ کر ہاتھ سب سے اٹھا لے
گھراہوں میں عصیاں کی تاریکوں میں
خبر میری اے میرے بدرلدجی ٰ لے
فقیروں کو ملتا ہے بے مانگے سب کچھ
یہاں جاننے ہی نہیں ٹالے بالے
لگائے ہیں پیوند کپڑوں میں اپنے
اُڑھائے فقیروں کو تم نے دو شالے
مٹاکفر کو ،دین چمکا دے اپنا
بنیں مسجدیں ٹوٹ جائیں شوالے
جو پیش صنم سے جھکاتے تھے اپنے
بنے تیر ی رحمت سے وہ اللہ والے
نگاہ! زچشم کرم بَر حسؔن کن
بکویت رسید ست آشفتہ حالے

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

آپ کے در کی عجب توقیر ہے
جو یہاں کی خاک ہے اکسیر ہے
کام جو اُن سے ہوا پورا ہوا
ان کی جو تدبیر ہے تقدیر ہے
جس سے باتیں کیں انہیں کا ہوگیا
واہ کیا تقریر پُر تاثیر ہے
جو لگائے آنکھ میں محبوب ہو
خاک طیبہ سرمئہ تسخیر ہے
صدر اقدس ہے خزینہ راز کا
سینہ کی تحریر میں تحیریر ہے
ذرّہ ذرّہ سے ہے طالع نور شاہ
آفتاب ِ حسن عالمگیر ہے
لطف کی بارش ہے سب شاداب ہیں
اَبر جودِ شاہ عالمگیر ہے
مجرموں اُن کے قدم پر لوٹ جاؤ
بس رہائی کی یہی تدبیر ہے
یانبی مشکل کشائی کیجئے
بندہ در بیدل و دل گیر ہے
و سراپا لطف ہیں شانِ خدا
وہ سراپا نور کی تصویر ہے
کان ہیں کانِ کرم جانِ کرم
آنکھ ہے یا چشمئہ تنویر ہے
جانے والے چل دیئے ہم رہ گئے
اپنی اپنی اے حسؔن تقدیر ہے

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

خوشبوئے دشت طیبہ سے بس جائے گردماغ
مہکائے بوئے خلد مرا سر بسر دماغ
پایا ہے پائے صاحبِ معراج سے شرف
ذرات کوئے طیبہ کا ہے عرش پر دماغ
مومن فدائے نو رو شمیم حضور میں
ہردل چمک رہا ہے معطر ہے ہر دماغ
ایسا بسے کہ بوئے گل خلد سے بسے
ہو یاد نقش ِپائے نبی کا جو گھر دماغ
آباد کر خدا کے لئے اپنے نورسے
ویران دل ہے زیادہ کھنڈر دماغ
ہر خار طیبہ زینت گلشن ہے عندلیب
نادان ایک پھول پر اتنا نہ کر دماغ
زاہد ہے مستحق کرامت گنہگار
اللہ اکبر اتنا مزاج اس قدر دماغ
اے عندلیب خار حرم سے مثال گل
بک بک کے ہر زہ گوئی سے خالی نہ کر دماغ
بے نور دل کے واسطے کچھ بھیک مانگتے
ذرات ِ خاکِ طیبہ کا ملتا اگر دماغ
ہر دم خیال ِ پاک اقامت گزیں رہے
بن جائے گھر دماغ نہ ہو رہ گزر دماغ
شاید کہ وصف پائے نبی کچھ بیاں کرے
پوری ترقیوں پر رسا ہو اگر دماغ
اُس بدلگام کو خر دَجال جانئے
منہ آئے ذکر پاک کو سن کر جو خر دماغ
ان کے خیال سے وہ ملے امن اے حسؔن
پرنہ آئے کوئی بلا ہو سپر دماغ

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

مدینہ میں ہے وہ سامان بارگاہ رفیع
عروج و اوج ہیں قربان بارگاہ رفیع
نہیں گدا ہی سر خوان ِ بارگاہِ رفیع
خلیل بھی تو ہیں مہمان ِ بارگاہ رفیع
بنائے دونوں جہاں مجرئی اسی در کے
کیا خدا نے جو سامانِ بارگاہ رفیع
زمینِ عجز پہ سجدہ کرائیں شاہوں سے
فلک جناب غلامانِ بارگاہ رفیع
ہے انتہائے علا ابتدائے اوج یہاں
ورا خیال سے ہے شان ِ بارگاہ رفیع
کمندِ رشتئہ عمرِ خضر پہنچ نہ سکے
بلند اتنا ہے ایوان ِ بارگاہِ رفیع
وہ کون ہے جو نہیں فیض یاب اس در سے
سبھی ہیں بندہ احسان ِ بارگاہِ رفیع
نوازے جاتے ہیں ہم سے نمک حرام غلام
ہماری جان ہو قربانِ بارگاہ رفیع
مطیع نفس ہیں وہ سر کشانِ جن و بشر
نہیں جو تابع فرمانِ بارگاہ رفیع
صلائے عام ہے مہماں نواز ہیں سرکار
کبھی اُٹھا ہی نہیں خوان ِ بارگاہِ رفیع
ملائکہ ہیں فقط داب سلطنت کے لئے
خدا ہے آپ نگہبانِ بارگاہ رفیع
حسؔن جلالت شاہی سے کیوں جھکتا ہے
گدا نواز ہے سلطانِ بارگاہ رفیع

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

دشت مدینہ کی ہے عجب پُر بہار صبح
ہر زرّہ کی چمک سے عیاں ہیں ہزار صبح
منہ دھوکے جوئے شیر میں ،آئے ہزار صبح
شام حرم کی پائے نہ ہرگز بہار صبح
للہ اپنے جلوہ عارض کی بھیک دے
کردے سیاہ بخت کی شب ہائے تار صبح
روشن ہیں ان کے جلوہ رنگیں کی تابشیں
بلبل ہیں جمع ایک چمن میں ہزار صبح
رکھتی ہے شام طیبہ کچھ ایسی تجلیاں
سو جان سے ہو جس کی ادا پر نثار صبح
نسبت نہیں سحر کو گریبانِ پا ک سے
جوشِ فروغ سے ہے عیاں تار تار صبح
آتے ہیں پاسبانِ درشہ فلک سے روز
ستر ہزار شام تو ستر ہزار صبح
اے ذرہ مدینہ خدارا نگاہ مہر
تڑکے سے دیکھتی ہے ترا انتظار صبح
زلف حضور عارض پُر نور پر نثار
کیا نور بار شم ہے کیا جلوہ بار صبح
نور ولادت مہ طیبہ کا فیض ہے
رہتی ہے جنتوں میں جو لیل و نہار صبح
ہر ذرہ حرم سے نمایاں ہزار مہر
ہر مہر سے طلوع کناں بیشمار صبح
گیسو کے بعد پاد ہو رخسار ِ پاک کی
ہو مشک بار شام کی کافو ر بار صبح
کیا نورِ دل کو نجدی تیرہ دلوں سے کام
تا حشر شام سے نہ ملے زینہار صبح
حسن شباب ذرّہ طیبہ کچھ اور ہے
کیا کور باطن آئینہ کیا شیر خوار صبح
بس چل سکے تو شام سے پہلے سفر کرے
طیبہ کی حاضری کے لیے بے قرار صبح
مایوس کیوں ہوں خاک نشیں حسن ِ یار سے
آخر ضیائے ذرّہ کی ہے ذمہ دار صبح
کیا دشت پاک طیبہ سے آتی ہے اے حسؔن
لائی جو اپنی جیب میں نقد بہار صبح
ہر زرّہ کی چمک سے عیاں ہیں ہزار صبح
منہ دھوکے جوئے شیر میں ،آئے ہزار صبح
شام حرم کی پائے نہ ہرگز بہار صبح
للہ اپنے جلوہ عارض کی بھیک دے
کردے سیاہ بخت کی شب ہائے تار صبح
روشن ہیں ان کے جلوہ رنگیں کی تابشیں
بلبل ہیں جمع ایک چمن میں ہزار صبح
رکھتی ہے شام طیبہ کچھ ایسی تجلیاں
سو جان سے ہو جس کی ادا پر نثار صبح
نسبت نہیں سحر کو گریبانِ پا ک سے
جوشِ فروغ سے ہے عیاں تار تار صبح
آتے ہیں پاسبانِ درشہ فلک سے روز
ستر ہزار شام تو ستر ہزار صبح
اے ذرہ مدینہ خدارا نگاہ مہر
تڑکے سے دیکھتی ہے ترا انتظار صبح
زلف حضور عارض پُر نور پر نثار
کیا نور بار شم ہے کیا جلوہ بار صبح
نور ولادت مہ طیبہ کا فیض ہے
رہتی ہے جنتوں میں جو لیل و نہار صبح
ہر ذرہ حرم سے نمایاں ہزار مہر
ہر مہر سے طلوع کناں بیشمار صبح
گیسو کے بعد پاد ہو رخسار ِ پاک کی
ہو مشک بار شام کی کافو ر بار صبح
کیا نورِ دل کو نجدی تیرہ دلوں سے کام
تا حشر شام سے نہ ملے زینہار صبح
حسن شباب ذرّہ طیبہ کچھ اور ہے
کیا کور باطن آئینہ کیا شیر خوار صبح
بس چل سکے تو شام سے پہلے سفر کرے
طیبہ کی حاضری کے لیے بے قرار صبح
مایوس کیوں ہوں خاک نشیں حسن ِ یار سے
آخر ضیائے ذرّہ کی ہے ذمہ دار صبح
کیا دشت پاک طیبہ سے آتی ہے اے حسؔن
لائی جو اپنی جیب میں نقد بہار صبح

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

کیا مژدہ جاں بخش سنائے گا قلم آج
کاغذ پہ جو سوناز سے رکھتا ہے قدم آج
آمد ہے یہ کس بادشہ عرش مکاں کی
آتے ہیں فلک سے جو حسینانِ ارم آج
کس گل کی ہے آمد کہ خزاں دیدہ چمن میں
آتا ہے نظر نقشئہ گلزار ارم آج
مذرانہ میں سر دینے کو حاضر ہے زمانہ
اس بزم میں کس شاہ کے آتے ہیں قدم آج
بادل سے جو رحمت کے سر شام گھرے ہیں
برسے گا مگر صبح کو باران ِ کرم آج
کس چاند کی پھیلی ہے ضیا کیا یہ سماں ہے
ہر بام پہ ہے جلوہ نمانور ِ قدم آج
کھلتا نہیں کس جانِ مسیحا کی ہے آمد
بت بولتے ہیں قالب بے جاں میں ہے دم آج
بت خانوں میں وہ قہر کاکہرام پڑا ہے
مل مل کے گلے روتے ہیں کفار و صنم آج
کعبہ کاہے نغمہ کہ ہوا لوث سے میں پاک
بت نکلے کہ آئے مرے مالک کے قدم آج
تسلیم سر ،وجد میں دل ،منتظر آنکھیں
کس پھول کے مشتاق ہیں مرغانِ حرم آج
اے کفر جھکا سر،وہ شہ بت شکن آیا
گردن ہے تری دم میں تہ تیغ دو دم آج
کچھ رعب شہنشاہ ہے کچھ ولولئہ شوق
ہے طرفہ کشاکش میں دل بیت و حرم آج
پُر نو جو ظلمت کدہ دھر ہوا ہے
روشن ہے کہ آتا ہے وہ مہتاب ِ کرم آج
ظاہر ہے کہ سلطان ِ دو عالم کی ہے آمد
کعبہ پہ ہو نصب جو یہ سبز علم آج
گر عالم ہستی میں وہ مہ جلوہ فگن ہے
تو یہ سایہ کے جلوہ پہ فدا اہل عدم آج
ہاں مفلسو خوش ہو کہ ملا دامن ِ دولت
تردامنو مژدہ ! وہ اٹھا ابر کرم آج
تعظیم کو اُٹھے ہیں ملک تم بھی کھڑے ہو
پیدا ہوئے سلطان عرب شاہ عجم آج
کل نار جہنم سے حسؔن امن و اماں ہو
اِس مالک فردوس پہ صدقے ہوں جو ہم آج

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

سر صبح سعادت نے گریباں سے نکالا
ظلمت کو ملا عالم امکاں سے نکالا
پیدائش محبوب کی شادی میں خدا نے
مدت کے گرفتاروں کو زنداں سے نکالا
رحمت کا خزانہ پئے تقسیم گدایاں
اللہ نے تہ خانئہ پنہاں سے نکالا
خوشبو نے عنادل دے چھڑا ئے چمن و گل
جلوئے نے پتنگوں کو شبستاں سے نکالا
ہے حسن گلوئے مہ بطحا سے یہ روشن
اب مہر نے سر ان کے گریباں سے نکالا
پردہ جو ترے جلوہ رنگیں نے اُٹھایا
صرصر کا عمل صحن گلستاں سے نکالا
اس ماہ نے جب مہر سے کی جلوہ نمائی
تاریکیوں کو شام غریباں سے نکالا
اے مہر کرم تیری تجلی کی ادا نے
ذروں کو بلائے شب ہجراں سے نکالا
صدقے ترے اے مرد مک دیدہ یعقوب
یوسف کو تری چاہ نے کنعاں سے نکالا
ہم ڈوبنے ہی کو تھے کہ آقا کی مدد نے
گرداب سے کھینچا ہمیں طوفاں سے نکالا
امت کے کلیجے کی خلش تم نے مٹائی
ٹوٹے ہوئے نشتر کو رگ جاں سےنکالا
ان ہاتھوں کے قربان کہ ان ہاتھوں سے تم نے
خار رہ غم ،پائے غریباں سےنکالا
ارمان زدوں کی ہیں تمنائیں بھی پیاری
ارمان نکالا توکس ارمان سے نکالا
یہ گردن پر نور کا پھیلا ہےاُجالا
یا صبح نےسر ان کے گریباں سے نکالا
گلزار ابراھیم کیا ناز جس نے
اس نے ہی ہمیں آتش سوزاں سے نکالا
دینی تھی جو عالم کے حسینوں کو ملاحت
تھوڑا سا نمک ان کے نمکداں سے نکالا
قربان ہوا بندگی پر لطف رہائی
یوں بندہ بنا کر ہمیں زنداں سے نکالا
اے آہ! میرے دل کی لگی اور نہ بجھتی
کیوں تو نے دھواں سینئہ سوزاں سے نکالا
مدفن نہیں پھینک آئیں گے احباب گڑھے میں
تابوت اگر کوچئہ جاناں سے نکالا
کیوں شور ہے کیا حشر کا ہنگامہ بپا ہے
یاتم نے قدم گور غریباں سے نکالا
لاکھوں ترے صدقے میں کہیں گے دم محشر
زنداں سے نکالا ہمیں زنداں سے نکالا
جو بات لب حضرت عیسی نے دکھائی
وہ کام یہاں جنبش داماں سے نکالا
منہ مانگی مرادوں سے بھری جیب دو عالم
جب دست کرم آپ نے داماں سے نکالا
کانٹا غم عقبی ٰ کا حسؔن اپنے جگر سے
اُمت نے خیال سر مژگاں سے نکالا

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

وہ عرف عام میں اک بوریہ نشیں ہے مگر
دکھائے اس نے خدائی کے بندگی میں ہنر
جمالِ ذات الہی ،اسی کی دید و شنید
جمال ذات الہی کا ہے،وہی مظہر
وہی ہے قافلہ عشق کا امیر،وہی
زفروش تا بہ فلک ایک جست جس کا سفر
وہ جس کے شہر کا دامن ہے ایک شہر پناہ
خراب و خستہ و عاجز گناہ گاروں کا ،گھر
مدینۃ النبوی نور قلب و نور نگاہ
مسرتوں کی زمیں ، شہر داور ِ محشر
ادھر ہے گنبد خضرا ،ادھر در اقدس
اب اور جائے تو جائے کہاں کسی کی نظر
کسی کے قلب کا نقشہ ہے گنبد خضرا
تراش کر نہ رکھا ہو کسی نے اپنا جگر
نزول رحمت باری،عطائے رب کریم
یہ گرد مسجد نبوی ،کبوتروں کے یہ پر
جو شام ہوتی جلتے ہیں رحمتوں کے چراغ
کرم کی بٹتی ہے خیرات تا طلوع سحر
کسے ہے فرصت دید فلک مدینے میں
جہاں بچھی ہے زمینوں پہ نور کی،چارد
حضوری حرم کعبہ تھی،دعا کے لئے
حضوری شہ کونین ہے دعاکا اثر
گئے جو روضئہ انور کی دید کو عاصی
وہاں سے لائے ہیں بخشش کی مغفرت کی خبر
سفر ادیؔب انہیں کو یہ راس آیا ہے
جو آئے دیدہ تر اور گئے بھی دیدہ تر

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

چراغِ عشقِ نبی جلاؤ جہاں جہاں تک نگاہ جائے
سجاؤ شمس الضحٰی کی محفل کبھی اندھیرا نظر نہ آئے
نبی کا اندازہ محبت کوئی لگائے تو کیا لگائے
جہاں خدا کے سوانہ کچھ تھا وہاں بھی ہم ان کو یاد آئے
ازل سے احساں ہے ان کا سب پر مگر اس احسان کو تو دیکھو
ہر ایک امّت نے ان کو مانگا کرم یہ ان کا وہ ہم میں آئے
بچے نہ کوئی نشاں قدم کے کہیں تمہیں حوریں کہیں فرشتے
فلک پریشان ہو رہا تھا کہ اپنا سر وہ کہاں جھکائے
یہ ذکر محبوب کبریا ہے یہی نماز اور یہی دعا ہے
بلند اقبال ہیں وہ سارے جو بزم میلاد میں ہیں آئے
ہمارا عجز و غرور وہ ہیں ،ہمارا کیف و سرور وہ ہیں
بنے کڑی دھوپ میں جو سایہ مصیبتوں میں جو کام آئے
ادیؔب طیبہ کی حاضری پریہ دل بھی قرباں یہ جہاں بھی قرباں
لگی ہیں سوئے مدینہ نظریں کہ جلد کوئی پیام آئے

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

جب بھی یاد شہ امم آئے
یا نبی لب پہ دمبدم آئے
جس جگہ جا کے بیٹھ جائیں حضور
دیکھ کر یہ عطائے رب غفور
پیچھے پیچھے وہیں حرم آئے
بات بگڑی بنا گئے آنسو
یوں مرے کام آگئے آنسو
آج ان کو مناکے ہم آئے
زاہد و پارسا ہزار گئے
ہم سے عاصی جو ایک بار گئے
ہو کے اس در سے محترم آئے
نعت خوانی مرا مقدر ہے
یہ غلامی کا تاج سر پر ہے
پھر یہاں کیسے کوئی غم آئے
زندگی میری ان کے نام ہے سب
ایسے لمحوں کو چھین لے یارب
جس میں آقا کی یاد کم آئے
یوں عطا ہوگا مرتبہ مجھ کو
سر فہرست دیکھنا مجھ کو
بانٹنے جب بھی وہ کرم آئے
نعت گوئی میں اوج پر ہے نصیب
نعت لکھنے جو بیٹھ جائے ادؔب
لوح کیا چیز ہے ،قلم آئے

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

کون آیا جو حورو ملائک سب محو دیدار ہوئے
دل کی چٹاں یا ریت کے ٹیلے سب پر نخل پیار ہوئے
جن کے ہاتھ اُٹھیں تو پانی برسے بادل آئیں
جن کے تلوے چھوکر کانٹے گل بُوٹے بن جائیں
جن کے قدم سے دونوں عالم نُور ہوئے گلزار ہوئے
جتنے رسول اور جتنے پیمبر امت کے غمخوار
ان میں ہر اک بہتر و برتر اپنی جگہ سرکار
میرے پیمبر ان ساری سرکاروں کے سرکار ہوئے
دشت و جبل دریا اور صحرا سب پہ کیا احسان
ان کی نظر جس جانب اٹھی روک دیئے طوفان
ڈوبنے والے تیر گئے اور تیرنے والے پار ہوئے
ہم بھی ادؔیب گئے اس در پر ، آقا نے بلوایا
نعت کے لکھنے کی نعمت کا تاج ہمیں پہنایا
نذر میں ہم بھی لیکر حاضر آنسوؤں کے تار ہوئے

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

یاد نبی میں ہر دم رونا اچھا لگتا ہے
اب ہم بھی طیبہ جائیں گے ایسا لگتا ہے
یاد نبی میں رونے والا ہم دیوانون کو
لاکھ پرایا ہو وہ پھر بھی اپنا لگتا ہے
ہم تھے اور طیبہ کی گلیاں برسوں کی ہے بات
یاد کرو تو سارا منظر کل کا لگتا ہے
سُلطانوں کے سُلطان اور پھر ولیوں کے سردار
ان کا گدا تو بن کر دیکھو کیا کیا لگتا ہے
دکھ کی دھوپ کڑی ہو کتنی ان کو یاد کرو
دھوپ سروں سے اٹھ جاتی ہے سایہ لگتا ہے
جس نے مدینہ دیکھ لیا ہے اپنی آنکھوں سے
گھر ہو یا جنت کے نظارے ،سونا لگتا ہے
عشق نبی میں بہنے والے اشکوں کے آگے
لعل ہو یا موتی وہ پتھر جیسا لگتا ہے
عشق نبی اور درد کی دولت سے ہے مالا مال
آنکھ ادیؔب کی نم ہے دامن بھیگا لگتا ہے

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post