کرے چارہ سازی زیارت کسی کی
بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
چمک کر یہ کہتی ہے طلعت کسی کی
کہ دیدار حق ہےزیارت کسی کی
نہ رہتی جو پردوں میں صورت کسی کی
نہ ہوتی کسی کو زیارت کسی کی
عجب پیاری پیاری ہے صورت کسی کی
ہمیں کیا خدا کو ہے الفت کسی کی
ابھی پار ہوں ڈوبنے والے بیڑے
سہارا لگا دے جو رحمت کسی کی
کسی کو کسی سے ہے نہ ہوگی
خدا کو ہے جتنی محبت کسی کی
دم حشر عاصی مزے لے رہے ہیں
شفاعت کسی کی ہے رحمت کسی کی
ترا قبضہ کونین و مافیھا سب پر
ہوئی ہے نہ ہو یوں حکومت کسی کی
زمانہ کی دولت نہیں پاس پھر بھی
زمانہ میں بٹتی ہے دولت کسی کی
نہ پہنچیں کہیں عقل کل کے فرشتے
خدا جانتا ہے حقیقت کسی کی
ہمارا بھروسہ ،ہمارا سہارا
شفاعت کسی کی حمایت کسی کی
قمر ایک اشارہ میں دوٹکڑے دیکھا
زمانہ پہ روشن ہے طاقت کسی کی
ہمیں ہیں کسی کی شفاعت کی خاطر
ہماری ہی خاطر شفاعت کسی کی
نہ پہنچیں گے جب تک گنہگار ان کے
نہ جائے گی جنت میں امت کسی کی
ہم ایسے گنہگار ہیں زہد والو
ہماری مدد پر ہے رحمت کسی کی
مدینہ کا جنگل ہو اور ہم ہوں زاہد
نہیں چاہیئے ہم کو جنت کسی کی
ہزاروں ہوں خورشید محشر تو کیا غم
یہاں سایہ گستر ہے رحمت کسی کی
بھرے جائینگے خلدمیں اہل عصیاں
نہ جائیگی خالی شفاعت کسی کی
وہی سب کے مالک انہیں کا ہے سب کچھ
نہ عاصی کسی کے نہ جنت کسی کی
ورفعنا لک ذکرک پرتصدق
سب اونچوں سے اونچی ہے رفعت کسی کی
اترنے لگے مارمیت یداللہ
چڑھی ایسی زوروں پہ طاقت کسی کی
فترضیٰ نے ڈالی ہیں باہیں گلے میں
کہ ہو جائے راضی طبعیت کسی کی
خدا سے دُعا ہے کہ ہنگام رخصت
زبان حسؔن پر ہو مدحت کسی کی

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

مجرمِ ہیبت زدہ فرد عصیاں لے چلا
لطف شہ ،تسکین دیتا پیش یزداں لے چلا
دل کے آئینہ میں جو تصویر جاناں لے چلا
محفل جنت کی آرائش کا ساماں لے چلا
رہرو جنت طیبہ کا بیاباں لے چلا
دامن ِ دل کھینچتا خار مُغیلاں لے چلا
گل نہ ہو جائے چراغ زینت گلشن کہیں
اپنے سر میں مَیں ہوائے دشت جاناں لے چلا
روئے عالمتاب نے بانٹا باجو باڑ ا نور کا
ماہِ نو کشی میں پیالا مہر تاباں لے چلا
گو نہیں رکھتے زمانے کی وہ دولت اپنے پاس
پر زمانہ نعمتوں سے بھر کے داماں لے چلا
تیری ہیبت سےملا تاج ِسلاطیں خاک میں
تیری رحمت سے گدا تخت سلیماں لے چلا
ایسی شوکت پر کہ اڑتا ہے پھر یرا عرش پر
جس گدا نے آرزو کی ان کو مہماں لے چلا
صدقے اس رحمت کے اُن کو روزِ محشر ہر طرف
نا شکیبا شور فریاد ِ اسیراں لے چلا
دو قدم بھی چل نہ سکتے ہم سرِ شمشیر تیز
ہاتھ پکڑے رَبِّ سَلِّمْ کا نگہباں لے چلا
دستگیرِ خستہ حالاں دستگیری کیجئے
پاؤں میں رعشہ ہے سر پر بارِ عصیاں لے چلا
وقت آخر نا امیدی میں وہ صورت دیکھ کر
دل شکستہ دل کے ہر پارہ میں قرآں لے چلا
قیدیوں کی جنبش ابرو سے بیڑی کاٹ دو
ورنہ جرموں کا تسلسل سوئے زنداں لے چلا
روزِ محشر شاد ہوں عاصی کہ پیش کبریا
رحم ان کو اُمتی گویاں و گریاں لے چلا
شکل شبنم راتوں کا رونا ترا ابر کرم
صبح محشر صورت گل ہم کو خنداں لے چلا
اختر اسلام چمکا کفر کی ظلمت چھنٹی
بدر میں جب وہ ہلال تیغ بُرّان لے چلا
بزم خوباں کو خدا نے پہلے دیں آرائشیں
پھر مرے دولہا کو سوئے بزم خوباں لے چلا
اللہ اللہ صر صرِ طیبہ کی رنگ آمیزیاں
ہر بگولا نزہت سروِ گلستاں لے چلا
قطرہ قطرہ ان کے گھر سے بحر عرفاں ہوگیا
ذرّہ ذرّہ ان کے دَر سے مہر تاباں لے چلا
صبح محشر ہر ادائے عارض روشن میں وہ
شمع نور افشاں پئے شام غریباں لے چلا
شافع روز قیامت کاہوںادنی ٰ اُمتی
پھرحسؔن کیا غم اگر میں بار عصیاں لے چلا

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

کہوں کیا حال زاہد ،گلشن طیبہ کی نزہت کا
کہ ہے خلد بریں چھوٹا سا ٹکڑا میری جنت کا
تعالیٰ اللہ شوکت تیرے نام پاک کی آقا
کہ اب تک عرش اعلی ٰ کو ہے سکتہ تیری ہیبت کا
وکیل اپنا کیا ہے احمد مختار کو میں نے
نہ کیونکر پھر رہائی میری منشا ہو عدالت کا
بلاتے ہیں اسی کو جس کی بگڑی یہ بناتے ہیں
کمر بندھنا دیارِ طیبہ کو کھلنا ہے قسمت کا
کُھلیں اسلام کی آنکھیں ہوا سارا جہاں روشن
عر ب کے چاند صدقے ،کیا ہی کہنا تیری طلعت کا
نہ کر رسوائے محشر واسطہ محبوب کا یارب
یہ مجرم دور سے آیا ہے سن کر نام رحمت کا
مرادیں مانگنے سے پہلے ملتی ہیں مدینہ میں
ہجوم ِ جودنے روکا ہے بڑھنا دست ِ حاجت کا
شب اسرٰی ترے جلوؤں نے کچھ ایسا سماں باندھا
کہ اب تک عرش ِ اعظم منتظر ہے تیری رخصت کا
یہاں کے ڈوبتے دم میں ادھر جا کر اُبھر تے ہیں
کنارہ ایک ہے بحر ندامت بحر رحمت کا
غنی ہے دل بھرا ہے نعمت کونین سے دامن
گدا ہوں میں فقیر آستانِ خود بدولت کا
طواف روضئہ مولٰی پہ ناواقف بگڑتے ہیں
عقیدہ اور ہی کچھ ہے ادب دانِ محبت کا
خزانِ غم سے رکھنا دو ر مجھ کو اس کے صدقے میں
جوگل اے باغباں ہے عطر تیرے باغِ صنعت کا
الہی بعد مُردن پردہ ہائے حائل اُٹھ جائیں
اُجالا میرے مرقد میں ہو اُن کی شمع تربت کا
سنا ہے روز محشر آپ ہی کا منہ تکیں گے سب
یہاں پورا ہوا مطلب دل مشتاق رویت کا
وجودِپاک باعث خلقت ،مخلوق کا ٹھرا
تمہاری شانِ وحدت سے ہوا اظہار کثرت کا
ہمیں بھی یاد رکھنا ساکنانِ کوچئہ جاناں
سلام شوق پہنچے بیکسانِ دشت غربت کا
حسؔن سر کا ر طیبہ کا عجب دربار عالی ہے
دَرِ دولت پہ اک میلا لگا ہے اہل حاجت کا

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

جان سے تنگ ہیں قیدی غم تنہائی کے
صدقے جاؤں میں تری انجمن آرائی کے
بزم آرا ہوں اُجالے تری زیبائی کے
کب سے مشتاق ہیں آئینے خود آرائی کے
ہو غبار درِ محبوب کہ گرد رہِ دوست
جزو اعظم ہیں یہی سرمئہ بینائی کے
خاک ہو جائے اگر تیری تمناؤں میں
کیوں ملیں خاک میں ارمان تمنائی کے
وَرَفَعْنا لَکَ ذِکْرَکَ کے چمکتے خورشید
لا مکاں تک ہیں ،اُجالے تری زیبائی کے
دل مشتاق میں ارمان لقا،آنکھیں بند
قابل دید ہیں انداز تمنائی کے
لبِ جاں بخش کی کیا بات ہے، سبحان اللہ
تم نے زندہ کیے اعجاز مسیحائی کے
اپنے دامن چھپائیں وہ مرے عیبوں کو
اے زہے بخت مری ذلت و رسوائی کے
دیکھنے والے خداکے ہیں ،خدا شاہد ہے
دیکھنے والے ترے جلوہ زیبائی کے
جب غبار رہِ محبوب نے عزت بخشی
آئینے صاف ہوئے عینک ِزیبائی کے
بار سر پر ہے ،نقاہت سے گرا جاتا ہوں
صدقے جاؤں ترے بازو کی توانائی کے
عالم الغیب نے ہر غیب سے آگاہ کیا
صدقے اس شان کی دانائی و بینائی کے
دیکھنے والے ہو تم رات کی تاریکی میں
کان میں سمع کے اور آنکھ میں بینائی کے
غیبی نطفے ہیں وہ بے علم جنم کے اندھے
جن کو انکار ہیں اس علم و شناسائی کے
اے حسؔن کعبہ ہی افضل سہی اس در سے مگر
ہم تو خوگر ہیں یہاں ناصیہ فرسائی کے ۔

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں
کہ نا اُمیدوں کو امیدوار کرتے ہیں
جما کے دل میں صفیں حسرت و تمنا کی
نگاہ لطف کا ہم انتظار کرتے ہیں
مجھے فسردگی بخت کا الم کیوں ہو
وہ ایک دم خزاں کو بہار کرتے ہیں
خدا سگان ِ نبی سے مجھ کو سنوادے
ہم اپنے کتوں میں تجھ کو شمار کرتےہیں
ملائکہ کو بھی ہیں کچھ فضلیلتیں ہم پر
کہ پاس رہتے ہیں سوفِ مزار کرتے ہیں
جو خوش نصیب یہاں خاک در پہ بیٹھے ہیں
جلوس مسند شاہی سے عار کرتے ہیں
ہمارے دل کی لگی بھی وہی بجھادیں گے
جو دم میں آگ کو با غ و بہار کرتے ہیں
اشارہ کردو تو باد خلاف کے جھونکے
ابھی ہمارے سفینے کو پار کرتے ہیں
کسے ہے دیدِ جمالِ خدا پسند کی تاب
وہ پورے جلوے کہاں آشکار کرتے ہیں
ہمارے نخل ِ تمنا کو بھی وہ پھل دیں گے
درخت خشک کو جو بار دار کرتے ہیں
پڑے ہیں خواب تغافل میں ہم ،مگر مولیٰ
طرح طرح سے ہمیں ہوشیار کرتے ہیں
سنا نہ مرتے ہوئے آج تک کسی نے انہیں
جو اپنے جان و دل اُن پر نثار کرتے ہیں
انہیں کا جلوہ سر بزم دیکھتے ہیں پتنگ
انہیں کی یاد چمن میں ہزار کرتے ہیں
مرے کریم نہ آہو کو قید دیکھ سکے
عبث اَسیر ِِ الم انتشار کرتےہیں
جوذرّےآتےہیں پائے حضور کے نیچے
چمک کے مہر کو وہ شرمسار کرتے ہیں
جو موئے پاک کو رکھتے ہیں اپنی ٹوپی میں
شجاعتیں وہ دَمِ کار زار کرتے ہیں
جدھر وہ آتےہیں اب اس میں دل ہوں یاراہیں
مہک سے گیسوؤں کی مشکبار کرتے ہیں
حسؔن کی جان ہو اُس وسعت کرم پہ نثار
کہ اک جہاں کو اُمیدوار کرتے ہیں

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

جن و انسان و ملک کو ہے بھروسا تیرا
سرورا مرجع ِ کل ہے درِ والا تیرا
واہ اے عطر خدا ساز مہکنا تیرا
خوبرو ملتے ہیں کپڑوں میں پسینہ تیرا
دہر میں آٹھ پہر بٹتاہے باڑا تیرا
وقف ہے مانگنے والوں پہ خزانہ تیرا
لا مکاں میں نظر آتا ہے اُجالا تیرا
دور پہنچا یا ترے حسن نے شہرہ تیرا
جلوہ یار ادھر بھی کوئی پھیرا تیرا
حسرتیں آٹھ پہر تکتی ہیں رستا تیرا
یہ نہیں ہے کہ فقط ہے یہ مدینہ تیرا
تو ہے مختار ،دو عالم پہ ہے قبضہ تیرا
کیا کہے وصف کوئی دشت مدینہ تیرا
پھول کی جانِ نزاکت میں ہے کانٹا تیرا
کس کے دامن میں چھپے کس کے قدم پو لوٹے
تیرا سگ جائے کہاں چھوڑ کے ٹکڑا تیرا
خسرو کون و مکاں اور توضع ایسی
ہاتھ تکیہ ہے ترا،خاک بچھونا تیرا
خوبرویانِ جہاں تجھ پہ فدا ہوتے ہیں
وہ ہے اے ماہِ عرب حسن ِ دل آرا تیرا
بادشاہانِ جہاں بہر گدائی آئیں
دینے پر آئے اگر مانگنے والا تیرا
دُشمن و دوست کےمنہ پر ہے کشادہ یکساں
روئے آئینہ ہے مولٰی درِ والا تیرا
پاؤں مجروح ہیں ،منزل ہے کڑی ،بوجھ بہت
آہ! گر ایسے میں پایا نہ سہارا تیرا
نیک اچھے ہیں کہ اعمال ہیں ان کے اچھے
ہم بدوں کے لیے کافی ہے بھروسا تیرا
آفتوں میں ہے گرفتار غلام عجمی
اے عرب والے ادھر بھی کوئی پھیرا تیرا
اونچے اونچوں کو ترے سامنے ساجد پایا
کس طرح سمجھے کو ئی رتبئہ اعلی تیرا
خارِ صحرائے نبی ،پاؤں سے کیا کام تجھے
آمری جان مرے دل میں ہے رستہ تیرا
کیوں نہ ہو ناز مجھے اپنے مقدر پہ کہ ہوں
سگ ترا،بندہ ترا،مانگنے والا تیرا
اچھے اچھے ہیں ترے در کی گدائی کرتے
اونچے اونچوں میں بٹاکر تا ہے صدقہ تیرا
بھیک بے مانگے فقیروں کو جہاں ملتی ہے
دونوں عالم میں وہ دروازہ ہے کس کا تیرا
کیوں تمنا مری مایوس ہو اے ابر کرم
سوکھے دھانوں کا مدد گار ہے چھینٹا تیرا
ہائے پھر خندۃ بیجا مرے لب پر آیا
ہائے پھر بھول گیا راتوں کا رونا تیرا
حشر کی پیاس سے کیا خو ف گنہگاروں کو
تشنہ کاموں کا خریدار ہے دریا تیرا
سوزن گُم شدہ ملتی ہے تبسم سے ترے
شام کو صبح بناتا ہے اُجالا تیرا
صدق نے تجھ میں یہاں تک تو جگہ پائی ہے
کہہ نہیں سکتے اُلش کو بھی تو جھوٹا تیرا
خاص بندوں کے تصدق میں رہائی پائے
آخر اس کام کا تو ہے یہ نکمّا تیرا
بندِ غم کاٹ دیا کرتے ہیں تیرے ابرو
پھیر دیتا ہے بلاؤں کو اشارا تیرا
حشر کے روز ہنسائے گا خطا کاروں کو
میرے غمخوار ِ دِل ،شب میں یہ رونا تیرا
عملِ نیک کہاں نامئہ بدکاراں میں
ہےغلاموں کو بھروسہ مرے آقا تیرا
بہر دیدار جھک آئے ہیں زمیں پر تارے
واہ اے جلوہ دلدار چمکنا تیرا
اونچی ہو کر نظر آتی ہے ہر اک شے چھوٹی
جاکے خورشید بنا چرخ پہ ذرہ تیرا
اے مدینے کی ہوا دل مرا افسردہ ہے
سوکھی کلیوں کو کِھلا جاتا ہے جھونکا تیرا
میرے آقا ہیں وہ ابر کرم ا ے سوزِ الم
ایک چھینٹے کا بھی ہوگا نہ یہ دہرا تیرا
اب حسؔن منقبت ِ خواجئہ اجمیر سنا
طبع پُر جوش ہے رکتا نہیں خامہ تیرا

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

سحر چمکی جمال فصل گل آرائشوں پر ہے
نسیم ِ روح پرور سے مشام جاں معطر ہے
قریب ِ طیبہ بخشے ہیں تصور نے مزے کیا کیا
مرادل ہے مدینہ میں ،مدینہ سل کے اندر ہے
ملائک سر جہاں اپنا جھجکتے ڈرتے رکھتے ہیں
قدم اُن کے گنہ گاروں کا ایسی سر زمیں پر ہے
اے اوسونے والے دل ،ارے اوسونے والے دل
سحر ہے جاگ غافل دیکھ تو عالم منور ہے
سہانی طرز کی طلعت ،نرالے رنگ کی نکہت
نسیم صبح سے مہکا ہوا پُر نو ر منظر ہے
تعالٰی اللہ یہ شادابی ،یہ رنگینی تعالیٰ اللہ
بہار ہشت جنت دشت ِ طیبہ پر نچھاور ہے
ہوائیں آرہی ہیں کوچئہ پُر نور ِ جاناں کی
کھلی جاتی ہیں کلیاں تازگی دل کو میسر ہے
منور چشم زائر ہے جمال ِ عرش اعظم ہے
نظر میں سبز قبہ کی تجلی جلوہ گستر ہے
یہ رفعت درگہ عرش آستاں کے قرب سے پائی
کہ ہر ہر سانس ہر ہر گام پر معراج دیگر ہے
محرم کی نویں تاریخ بارہ منزلیں کر کے
وہاں پہنچے ،وہ گھر دیکھا ،جو گھر اللہ کا گھر ہے
نہ پوچھو ہم کہاں پہنچے اور ان آنکھوں نے کیا دیکھا
جہاں پہنچے وہاں پہنچے جو دیکھا دل کے اندر ہے
ہزاروں بے نواؤں کے ہیں جمگھت آستانہ پر
طلب دل میں ،صدائے یا رسول اللہ لب پر ہے
لکھا ہے خامئہ رحمت نے در پر خط قدرت سے
جسے یہ آستانہ مل گیا سب کچھ میسر ہے
خدا ہے اس کا مالک یہ خدائی بھر کا مالک ہے
خدا ہے اس کا مولٰی یہ خدائی بھر کا سرور ہے
زمانہ اس کے قابو میں،زمانے والے قابو میں
یہ ہر دفتر کا حاکم ہے یہ ہر حاکم کا افسر ہے
عطا کے ساتھ ہے مختار رحمت کے خزانوں کا
خدائی پر ہے قابو بس خدا ہی اس سے باہر ہے
کرم کے جوش ہیں بدل و نعم کے دور دورے ہیں
عطائے بانوا ہر بے نوا سے شیر و شکر ہے
کوئی لپٹا ہے فرط شوق میں روضہ کی جالی سے
کوئ گردن جھکا ئے رعب سے بادیدہ تر ہے
کوئی مشغول عرض ِ حال ہے یوں شادماں ہو کر
کہ یہ سب سے بڑی سرکار ہے تقدیر یاور ہے
کمینہ بندہ در عرض کرتا ہے حضوری میں
جو موروثی یہاں کا مدح گستر ہے ثناء گر ہے
تری رحمت کے صدقے یہ تری رحمت کا صدقہ تھا
کہ ان ناپاک آنکھوں کو یہ نظارہ میسر ہے
ذلیلوں کی تو کیا گنتی سلاطین ِ زمانہ کو
تری سرکار عالی ہے ،ترا دربار بر تر ہے
تری دولت ،تری ثروت ،تری شوکت جلالت کا
نہ ہے کوئی زمیں پر اور نہ کوئی آسماں پر ہے
مطاف و کعبہ کا عالم دکھایا تو نے طیبہ میں
ترا گھر بیچ میں،چاروں طرف اللہ کا گھر ہے
تجلی پر تری صدقے ہے مہرو ماہ کی تابش
پسینے پر تے قربان روحِ مشک و عنبر ہے
غم و افسوس کا دافع اشارہ پیاری آنکھوں کا
دل مایوس کی حامی نگاہِ بندہ پرور ہے
جو سب اچھوںمیں ہے اچھا جو ہر بہتر سے بہتر ہے
ترے صدقے سے اچھا ہے ترے صدقے میں بہتر ہے
رکھوں میں حاضر ی کی شرم ان اعمال پر کیونکر
مرے امکان سے باہر مری قدرت سے باہر ہے
اگر شانِ کرم کو لاج ہو میرے بلانے کی
تو میری حاضری دونوں جہاں میں میری یاور ہے
مجھے کیا ہوگیا ہے کیوں میں ایسی باتیں کرتا ہوں
یہاں بھی یاس و محرومی یہ کیونکر ہو یہ کیونکر ہے
بلا کر اپنے کتے کو نہ دیں چمکا ر کرٹکڑا
پھر اس شان کر م پر فہم سے یہ بات باہر ہے
تذبذب مغفرت میں کیوں رہے اس در کے زائر کو
کہ یہ درگاہ والا رحمت خالص کا منظر ہے
مبارک ہو حسؔن سب آرزوئیں ہوگئیں پوری
اب ان کے صدقے میں عیش ِ ابد تجھ کو میسر ہے ۔

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

جو بیمار غم لے رہا ہو سنبھالے
وہ چاہے تودم بھر میں اس کو سنبھالے
نہ کر اس طرح اے دل زار نالے
وہ ہیں سب کی فریاد کےسننے والے
کوئی دم میں اب ڈوبتا ہے سفینہ
خدارا خبر میری اے ناخدا لے
سفر کر خیال رخِ شہ میں اے جاں
مسافر نکل جا اُجالے اُجالے
تہی دست و سودائے بازار ِ محشر
مری لاج رکھ لے مرے تاج والے
زہے شوکت ِآستانِ معلیٰ
یہاں سر جھکاتے ہیں سب تاج والے
سوا تیرے اے ناخدائے غریباں
وہ ہے کون جو ڈوبتو ں کو نکالے
یہی عرض کرتے ہیں شیرانِ عالم
کہ تو اپنے کتوں کا کتا بنالے
جسے اپنی مشکل ہو آسان کرنی
فقیرانِ طیبہ سے آ کر دعا لے
خدا کا کرم دستگیری کو آئے
ترانام لے لیں اگر گرنے والے
در شہ پر اے دل مرادیں ملیں گی
یہاں بیٹھ کر ہاتھ سب سے اٹھا لے
گھراہوں میں عصیاں کی تاریکوں میں
خبر میری اے میرے بدرلدجی ٰ لے
فقیروں کو ملتا ہے بے مانگے سب کچھ
یہاں جاننے ہی نہیں ٹالے بالے
لگائے ہیں پیوند کپڑوں میں اپنے
اُڑھائے فقیروں کو تم نے دو شالے
مٹاکفر کو ،دین چمکا دے اپنا
بنیں مسجدیں ٹوٹ جائیں شوالے
جو پیش صنم سے جھکاتے تھے اپنے
بنے تیر ی رحمت سے وہ اللہ والے
نگاہ! زچشم کرم بَر حسؔن کن
بکویت رسید ست آشفتہ حالے

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

آپ کے در کی عجب توقیر ہے
جو یہاں کی خاک ہے اکسیر ہے
کام جو اُن سے ہوا پورا ہوا
ان کی جو تدبیر ہے تقدیر ہے
جس سے باتیں کیں انہیں کا ہوگیا
واہ کیا تقریر پُر تاثیر ہے
جو لگائے آنکھ میں محبوب ہو
خاک طیبہ سرمئہ تسخیر ہے
صدر اقدس ہے خزینہ راز کا
سینہ کی تحریر میں تحیریر ہے
ذرّہ ذرّہ سے ہے طالع نور شاہ
آفتاب ِ حسن عالمگیر ہے
لطف کی بارش ہے سب شاداب ہیں
اَبر جودِ شاہ عالمگیر ہے
مجرموں اُن کے قدم پر لوٹ جاؤ
بس رہائی کی یہی تدبیر ہے
یانبی مشکل کشائی کیجئے
بندہ در بیدل و دل گیر ہے
و سراپا لطف ہیں شانِ خدا
وہ سراپا نور کی تصویر ہے
کان ہیں کانِ کرم جانِ کرم
آنکھ ہے یا چشمئہ تنویر ہے
جانے والے چل دیئے ہم رہ گئے
اپنی اپنی اے حسؔن تقدیر ہے

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

خوشبوئے دشت طیبہ سے بس جائے گردماغ
مہکائے بوئے خلد مرا سر بسر دماغ
پایا ہے پائے صاحبِ معراج سے شرف
ذرات کوئے طیبہ کا ہے عرش پر دماغ
مومن فدائے نو رو شمیم حضور میں
ہردل چمک رہا ہے معطر ہے ہر دماغ
ایسا بسے کہ بوئے گل خلد سے بسے
ہو یاد نقش ِپائے نبی کا جو گھر دماغ
آباد کر خدا کے لئے اپنے نورسے
ویران دل ہے زیادہ کھنڈر دماغ
ہر خار طیبہ زینت گلشن ہے عندلیب
نادان ایک پھول پر اتنا نہ کر دماغ
زاہد ہے مستحق کرامت گنہگار
اللہ اکبر اتنا مزاج اس قدر دماغ
اے عندلیب خار حرم سے مثال گل
بک بک کے ہر زہ گوئی سے خالی نہ کر دماغ
بے نور دل کے واسطے کچھ بھیک مانگتے
ذرات ِ خاکِ طیبہ کا ملتا اگر دماغ
ہر دم خیال ِ پاک اقامت گزیں رہے
بن جائے گھر دماغ نہ ہو رہ گزر دماغ
شاید کہ وصف پائے نبی کچھ بیاں کرے
پوری ترقیوں پر رسا ہو اگر دماغ
اُس بدلگام کو خر دَجال جانئے
منہ آئے ذکر پاک کو سن کر جو خر دماغ
ان کے خیال سے وہ ملے امن اے حسؔن
پرنہ آئے کوئی بلا ہو سپر دماغ

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

مدینہ میں ہے وہ سامان بارگاہ رفیع
عروج و اوج ہیں قربان بارگاہ رفیع
نہیں گدا ہی سر خوان ِ بارگاہِ رفیع
خلیل بھی تو ہیں مہمان ِ بارگاہ رفیع
بنائے دونوں جہاں مجرئی اسی در کے
کیا خدا نے جو سامانِ بارگاہ رفیع
زمینِ عجز پہ سجدہ کرائیں شاہوں سے
فلک جناب غلامانِ بارگاہ رفیع
ہے انتہائے علا ابتدائے اوج یہاں
ورا خیال سے ہے شان ِ بارگاہ رفیع
کمندِ رشتئہ عمرِ خضر پہنچ نہ سکے
بلند اتنا ہے ایوان ِ بارگاہِ رفیع
وہ کون ہے جو نہیں فیض یاب اس در سے
سبھی ہیں بندہ احسان ِ بارگاہِ رفیع
نوازے جاتے ہیں ہم سے نمک حرام غلام
ہماری جان ہو قربانِ بارگاہ رفیع
مطیع نفس ہیں وہ سر کشانِ جن و بشر
نہیں جو تابع فرمانِ بارگاہ رفیع
صلائے عام ہے مہماں نواز ہیں سرکار
کبھی اُٹھا ہی نہیں خوان ِ بارگاہِ رفیع
ملائکہ ہیں فقط داب سلطنت کے لئے
خدا ہے آپ نگہبانِ بارگاہ رفیع
حسؔن جلالت شاہی سے کیوں جھکتا ہے
گدا نواز ہے سلطانِ بارگاہ رفیع

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

دشت مدینہ کی ہے عجب پُر بہار صبح
ہر زرّہ کی چمک سے عیاں ہیں ہزار صبح
منہ دھوکے جوئے شیر میں ،آئے ہزار صبح
شام حرم کی پائے نہ ہرگز بہار صبح
للہ اپنے جلوہ عارض کی بھیک دے
کردے سیاہ بخت کی شب ہائے تار صبح
روشن ہیں ان کے جلوہ رنگیں کی تابشیں
بلبل ہیں جمع ایک چمن میں ہزار صبح
رکھتی ہے شام طیبہ کچھ ایسی تجلیاں
سو جان سے ہو جس کی ادا پر نثار صبح
نسبت نہیں سحر کو گریبانِ پا ک سے
جوشِ فروغ سے ہے عیاں تار تار صبح
آتے ہیں پاسبانِ درشہ فلک سے روز
ستر ہزار شام تو ستر ہزار صبح
اے ذرہ مدینہ خدارا نگاہ مہر
تڑکے سے دیکھتی ہے ترا انتظار صبح
زلف حضور عارض پُر نور پر نثار
کیا نور بار شم ہے کیا جلوہ بار صبح
نور ولادت مہ طیبہ کا فیض ہے
رہتی ہے جنتوں میں جو لیل و نہار صبح
ہر ذرہ حرم سے نمایاں ہزار مہر
ہر مہر سے طلوع کناں بیشمار صبح
گیسو کے بعد پاد ہو رخسار ِ پاک کی
ہو مشک بار شام کی کافو ر بار صبح
کیا نورِ دل کو نجدی تیرہ دلوں سے کام
تا حشر شام سے نہ ملے زینہار صبح
حسن شباب ذرّہ طیبہ کچھ اور ہے
کیا کور باطن آئینہ کیا شیر خوار صبح
بس چل سکے تو شام سے پہلے سفر کرے
طیبہ کی حاضری کے لیے بے قرار صبح
مایوس کیوں ہوں خاک نشیں حسن ِ یار سے
آخر ضیائے ذرّہ کی ہے ذمہ دار صبح
کیا دشت پاک طیبہ سے آتی ہے اے حسؔن
لائی جو اپنی جیب میں نقد بہار صبح
ہر زرّہ کی چمک سے عیاں ہیں ہزار صبح
منہ دھوکے جوئے شیر میں ،آئے ہزار صبح
شام حرم کی پائے نہ ہرگز بہار صبح
للہ اپنے جلوہ عارض کی بھیک دے
کردے سیاہ بخت کی شب ہائے تار صبح
روشن ہیں ان کے جلوہ رنگیں کی تابشیں
بلبل ہیں جمع ایک چمن میں ہزار صبح
رکھتی ہے شام طیبہ کچھ ایسی تجلیاں
سو جان سے ہو جس کی ادا پر نثار صبح
نسبت نہیں سحر کو گریبانِ پا ک سے
جوشِ فروغ سے ہے عیاں تار تار صبح
آتے ہیں پاسبانِ درشہ فلک سے روز
ستر ہزار شام تو ستر ہزار صبح
اے ذرہ مدینہ خدارا نگاہ مہر
تڑکے سے دیکھتی ہے ترا انتظار صبح
زلف حضور عارض پُر نور پر نثار
کیا نور بار شم ہے کیا جلوہ بار صبح
نور ولادت مہ طیبہ کا فیض ہے
رہتی ہے جنتوں میں جو لیل و نہار صبح
ہر ذرہ حرم سے نمایاں ہزار مہر
ہر مہر سے طلوع کناں بیشمار صبح
گیسو کے بعد پاد ہو رخسار ِ پاک کی
ہو مشک بار شام کی کافو ر بار صبح
کیا نورِ دل کو نجدی تیرہ دلوں سے کام
تا حشر شام سے نہ ملے زینہار صبح
حسن شباب ذرّہ طیبہ کچھ اور ہے
کیا کور باطن آئینہ کیا شیر خوار صبح
بس چل سکے تو شام سے پہلے سفر کرے
طیبہ کی حاضری کے لیے بے قرار صبح
مایوس کیوں ہوں خاک نشیں حسن ِ یار سے
آخر ضیائے ذرّہ کی ہے ذمہ دار صبح
کیا دشت پاک طیبہ سے آتی ہے اے حسؔن
لائی جو اپنی جیب میں نقد بہار صبح

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

کیا مژدہ جاں بخش سنائے گا قلم آج
کاغذ پہ جو سوناز سے رکھتا ہے قدم آج
آمد ہے یہ کس بادشہ عرش مکاں کی
آتے ہیں فلک سے جو حسینانِ ارم آج
کس گل کی ہے آمد کہ خزاں دیدہ چمن میں
آتا ہے نظر نقشئہ گلزار ارم آج
مذرانہ میں سر دینے کو حاضر ہے زمانہ
اس بزم میں کس شاہ کے آتے ہیں قدم آج
بادل سے جو رحمت کے سر شام گھرے ہیں
برسے گا مگر صبح کو باران ِ کرم آج
کس چاند کی پھیلی ہے ضیا کیا یہ سماں ہے
ہر بام پہ ہے جلوہ نمانور ِ قدم آج
کھلتا نہیں کس جانِ مسیحا کی ہے آمد
بت بولتے ہیں قالب بے جاں میں ہے دم آج
بت خانوں میں وہ قہر کاکہرام پڑا ہے
مل مل کے گلے روتے ہیں کفار و صنم آج
کعبہ کاہے نغمہ کہ ہوا لوث سے میں پاک
بت نکلے کہ آئے مرے مالک کے قدم آج
تسلیم سر ،وجد میں دل ،منتظر آنکھیں
کس پھول کے مشتاق ہیں مرغانِ حرم آج
اے کفر جھکا سر،وہ شہ بت شکن آیا
گردن ہے تری دم میں تہ تیغ دو دم آج
کچھ رعب شہنشاہ ہے کچھ ولولئہ شوق
ہے طرفہ کشاکش میں دل بیت و حرم آج
پُر نو جو ظلمت کدہ دھر ہوا ہے
روشن ہے کہ آتا ہے وہ مہتاب ِ کرم آج
ظاہر ہے کہ سلطان ِ دو عالم کی ہے آمد
کعبہ پہ ہو نصب جو یہ سبز علم آج
گر عالم ہستی میں وہ مہ جلوہ فگن ہے
تو یہ سایہ کے جلوہ پہ فدا اہل عدم آج
ہاں مفلسو خوش ہو کہ ملا دامن ِ دولت
تردامنو مژدہ ! وہ اٹھا ابر کرم آج
تعظیم کو اُٹھے ہیں ملک تم بھی کھڑے ہو
پیدا ہوئے سلطان عرب شاہ عجم آج
کل نار جہنم سے حسؔن امن و اماں ہو
اِس مالک فردوس پہ صدقے ہوں جو ہم آج

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

سر صبح سعادت نے گریباں سے نکالا
ظلمت کو ملا عالم امکاں سے نکالا
پیدائش محبوب کی شادی میں خدا نے
مدت کے گرفتاروں کو زنداں سے نکالا
رحمت کا خزانہ پئے تقسیم گدایاں
اللہ نے تہ خانئہ پنہاں سے نکالا
خوشبو نے عنادل دے چھڑا ئے چمن و گل
جلوئے نے پتنگوں کو شبستاں سے نکالا
ہے حسن گلوئے مہ بطحا سے یہ روشن
اب مہر نے سر ان کے گریباں سے نکالا
پردہ جو ترے جلوہ رنگیں نے اُٹھایا
صرصر کا عمل صحن گلستاں سے نکالا
اس ماہ نے جب مہر سے کی جلوہ نمائی
تاریکیوں کو شام غریباں سے نکالا
اے مہر کرم تیری تجلی کی ادا نے
ذروں کو بلائے شب ہجراں سے نکالا
صدقے ترے اے مرد مک دیدہ یعقوب
یوسف کو تری چاہ نے کنعاں سے نکالا
ہم ڈوبنے ہی کو تھے کہ آقا کی مدد نے
گرداب سے کھینچا ہمیں طوفاں سے نکالا
امت کے کلیجے کی خلش تم نے مٹائی
ٹوٹے ہوئے نشتر کو رگ جاں سےنکالا
ان ہاتھوں کے قربان کہ ان ہاتھوں سے تم نے
خار رہ غم ،پائے غریباں سےنکالا
ارمان زدوں کی ہیں تمنائیں بھی پیاری
ارمان نکالا توکس ارمان سے نکالا
یہ گردن پر نور کا پھیلا ہےاُجالا
یا صبح نےسر ان کے گریباں سے نکالا
گلزار ابراھیم کیا ناز جس نے
اس نے ہی ہمیں آتش سوزاں سے نکالا
دینی تھی جو عالم کے حسینوں کو ملاحت
تھوڑا سا نمک ان کے نمکداں سے نکالا
قربان ہوا بندگی پر لطف رہائی
یوں بندہ بنا کر ہمیں زنداں سے نکالا
اے آہ! میرے دل کی لگی اور نہ بجھتی
کیوں تو نے دھواں سینئہ سوزاں سے نکالا
مدفن نہیں پھینک آئیں گے احباب گڑھے میں
تابوت اگر کوچئہ جاناں سے نکالا
کیوں شور ہے کیا حشر کا ہنگامہ بپا ہے
یاتم نے قدم گور غریباں سے نکالا
لاکھوں ترے صدقے میں کہیں گے دم محشر
زنداں سے نکالا ہمیں زنداں سے نکالا
جو بات لب حضرت عیسی نے دکھائی
وہ کام یہاں جنبش داماں سے نکالا
منہ مانگی مرادوں سے بھری جیب دو عالم
جب دست کرم آپ نے داماں سے نکالا
کانٹا غم عقبی ٰ کا حسؔن اپنے جگر سے
اُمت نے خیال سر مژگاں سے نکالا

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

جانب مغرب وہ چمکا آفتاب
بھیک کا مشرق سے نکلا آفتاب
جلوہ فرما ہو جو میرا آفتاب
ذرّہ ذرّہ سے ہو پیدا آفتاب
عارج پُر نور کا صاف آئینہ
جلوہ حق کا چمکتا آفتاب
یہ تجلی گاہِ ذات بحت ہے
زلف انور ہے شب آسا آفتاب
دیکھنے والوں کے دل ٹھنڈے کیے
عارض انور ہے ٹھنڈا آفتاب
ہے شبِ دیجور طیبہ نور سے
ہم سیہ کاروں کا کالا آفتاب
بخت چمکا دے اگر شانِ جمال
ہو مری آنکھوں کا تارا آفتاب
نور کے سانچے میں ڈھالا ہے تجھے
کیوں ترے جلوؤں کا ڈھلتا آفتاب
ناخدائی سے نکالا آپ نے
چشمئہ مغرب سےڈوبا آفتاب
ذرّہ کی تابش ہے اُن کی راہ میں
یا ہوا ہے گرکے ٹھنڈا آفتاب
گرمیوں پر ہے وہ حسن ِ بے زوال
ڈھونڈ ھتا پھرتا ہے سایہ آفتاب
ان کے در کے ذرّہ سے کہتا ہے مہر
ہے تمہارے در کا ذرہ آفتاب
شام طیبہ کی تجلی دیکھ کر
ہوتری تابش کا تڑکا آفتاب
روئے مولٰی سے اگر اٹھتا نقاب
چرخ کھاکر غش میں گرتا آفتاب
کہہ رہی ہے صبح مولد کی صبا
آج اندھرے سے ہےنکلا آفتاب
وہ اگر دیں نگہت و طلعت کی بھیک
ذرّہ ذرّہ ہو مہکتا آفتاب
تلوے اور تلوے کے جلوے پر نثار
پیارا پیارا نور پیارا آفتاب
اے خدا ہم ذرّوں کے بھی دن پھریں
جلوہ فرماہو ہمارا آفتاب
ان کے ذرّہ کے سر چڑھ حشر میں
دیکھ اب بھی ہے سویراآفتاب
جس سے گزرے اے حسؔن وہ مہرحسن
اُس کا ہو اندھیرا آفتاب

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

آسماں گر ترے تلوؤں کا نظارہ کرتا
روز اک چاند تصدق میں اتارا کرتا
طوف روضہ ہی پہ چکرائے تھے کچھ ناواقف
میں تو آپے میں نہ تھا او رجو سجدہ کرتا
صر صرِ دشت مدینہ جو کرم فرماتی
کیوں میں افسردگئ بخت کی پروا کرتا
چھپ گیا چاند نہ آئی ترے دیدار کی تاب
اور اگر سامنے رہتا بھی تو سجدہ کرتا
یہ وہی ہیں کہ گرو آپ اور ان پر مچلو
اُلٹی باتوں پہ کہو کون نہ سیدھا کرتا
ہم سے ذرّوں کی تو تقدیر ہی چمکا جاتا
مہر فرما کے وہ جس راہ سے نکلا کرتا
دھوم ذرّوں میں انا لشمس کی پڑ جاتی ہ
جس طرف سے ہے گزر چاند ہمارا کرتا
آہ کیا خوب تھا گر حاضر ِ در ہوتا میں
ان کے سایہ کے تلے چین سے سویا کرتا
شوق و آداب بہم گرم کشا کش رہتے
عشق گم کردہ توان ِ عقل سے الجھا کرتا
آنکھ اُٹھتی تو میں جھنجلا کے پلک سی لیتا
دِ ل بگڑتا تو میں گھبرا کے سنبھالا کرتا
بیخودانہ کبھی سجدہ میں سُوئے در گرتا
جانب قبلہ کبھی چونک کے پلٹا کرتا
بام تک دِل کو کبھی بالِ کبوتر دیتا
خاک پر گر کے کبھی ہائے خدایا کرتا
گاہ مرہم نہی زخم جگر میں رہتا
گاہ نشتر زنئ خونِ تمنا کرتا
ہمرہ مہر کبھی گردِ خطیرہ پھرتا
سایہ کے ساتھ کبھی خاک پہ لوٹا کرتا
صحبت داغ جگرے کبھی جی بہلاتا
الفت دست و گریباں کا تماشا کرتا
دل حیراں کو کبھی ذوق تپش پر لاتا
تپش دل کو کبھی حوصلہ فرسا کرتا
کبھی خود اپنے تحیّر پہ میں حیراں رہتا
کبھی خود اپنے سمجھنے کو نہ سمجھا کرتا
کبھی کہتا کہ یہ کیا بزم ہے کیسی ہے بہار
کبھی اندازِ تجاہل سے میں توبہ کرتا
کبھی کہتا کہ یہ کیا جوش جنوں ہے ظالم
کبھی پھر گر کے تڑپنے کی تمنا کرتا
ستھری ستھری وہ فضا دیکھ کے میں غرق گناہ
اپنی آنکھوں میں خود اس بزم میں کھٹکا کرتا
کبھی رحمت کے تصور میں ہنسی آجاتی
پاسِ آداب کبھی ہونٹوں کو بخیہ کرتا
دل اگر رنج ِ معاصی سے بگڑنے لگتا
عفو کا ذکر سنا کر میں سنبھالا کرتا
یہ مزے خوبئ قسمت سے جو پائے ہوتے
سخت دیوانہ تھا گر خلد کی پروا کرتا
موت اُس دِن کو جو پھرنام وطن کا لیتا
خاک اُس سر پہ جو اس در سے کنارا کرتا
اے حسؔن قصدِ مدینہ نہیں رونا ہے یہی
اور میں آپ سے کس بات کا شکوہ کرتا

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

چشم دل چاہے جو انوار سے ربط
رکھے خاک درِ دلدار سے ربط
اُن کی رحمت کا طلبگار سے میل
ان کی رحمت کا گنہگار سے ربط
دشت طیبہ کی جو دیکھ آئیں بہار
ہو عنادل کونہ گلزار سے ربط
یا خدا دل نہ ملے دُنیا سے
نہ ہو آئینہ کو زنگار سے ربط
نفس سے میل نہ کرنا اے دل
قہر ہے ایسے ستم گار سے ربط
دل نجدی میں ہو کیوں حبِ حضوؐ
ظلمتوں کو نہیں انوار سے ربط
تلخی نزع سے اُس کو کیا کام
ہو جسے لعل شکر بار سے ربط
خاک طیبہ کی اگر مل جا ئے
آپ صحت کرے بیمار سے ربط
اُن کے دامان ِ گہر بار کو ہے
کاسئہ دوست طلبگار سے ربط
کل ہے اجلاس کا اور ہمیں
میل عملہ سے نہ دربار سے ربط
عمر یوں ان کی گلی میں گزرے
ذرّہ ذرّہ سے بڑھے پیا ر سے ربط
سر شوریدہ کو ہو در سے میل
کمرِ خستہ کو دیوار سے ربط
اے حسؔن خیر ہے کیا کرتے ہو
یار کو چھوڑ کر اغیار سے ربط

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
یہ عرض ہے حضور بڑے بے نوا کی عرض
ان کے گدا کے در پہ ہے یوں بادشاہ کی عرض
جیسے ہو بادشاہ کے در پر گدا کی عرض
عاجز نوازیوں پہ کرم ہے تلا ہوا
وہ دل لگا کے سنتے ہیں ہر بے نوا کی عرض
قربان اُن کے نام کے،بے ان کے نام کے
مقبول ہو نہ خاصِ جناب خدا کی عرض
غم کی گھٹائی چھائیں ہیں مجھ تیرہ بخت پر
اے مہر سن لے ذرہ بے دست و پا کی عرض
اے بیکسوں کے حامی و یاور سوا ترے
کس کو غرض ہے کون سنے مبتلا کی عرض
اے کیمیائے دل میں ترے در کی خاک ہوں
خاکِ در ِ حضور سے ہے کیمیا کی عرض
اُلجھن سے دور نور سے معمور کر مجھے
اے زلف پاک ہے یہ اسیر بلا کی عرض
دُکھ میں رہے کوئی یہ گوارا نہیں انہیں
مقبول کیوں نہ ہو دِل درد آشنا کی عرض
کیوں طول دوں حضور یہ دیں یہ عطا کریں
خود جانتے ہیں آپ مرے مدعا کی عرض
دامن بھریں گے دولت فضل خدا سے ہم
خالی کبھی گئی ہے حسؔن مصطفیؐ کی عرض

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

باغ جنت میں نرالی چمن آرائی ہے
کیا مدینہ پہ فدا ہو کے بہار آئی ہے
ان کے گیسو نہیں رحمت کی گھٹا چھائی ہے
ان کے ابرو نہیں دو قبلوں کی یکجائی ہے
سنگریزوں نے حیاتِ ابدی پائی ہے
ناخنوں میں ترے اعجاز مسیحائی ہے
سر بالیں انہیں رحمت کی گھٹا لائی ہے
حال بگڑا ہے تو بیمار کی بن آئی ہے
جانِ گفتار تو رفتار ہوئی روح رواں
دم قدم سے ترے اعجاز مسیحائی ہے
جسکے ہاتھوں کے بنائے ہوئے ہیں حسن و جمال
اے حسیں تیری ادا اُس کو پسند آئی ہے
تیرے جلوؤں میں یہ عالم ہے کہ چشم عالم
تاب ِدیدار نہیں پھر بھی تماشائی ہے
جب تری یاد میں دنیا سے گیا ہے کوئی
جان لینے کو دلہن بن کے قضا آئی ہے
سر سے پاتک تری صورت پہ تصدق ہے جمال
اُس کو موزونئ اعضاء یہ پسند آئی ہے
تیرے قدموں کا تبرک یدِ بیضائے کلیم
تیرے ہاتھوں کا دیا فضل ِ مسیحائی ہے
دردِ دل کس کو سناؤں میں تمہارے ہوتے
بیکسوں کی اسی سرکار میں سنوائی ہے
آپ آئے تو منور ہوئیں اندھی آنکھیں
آپ کی خاکِ قدم سرمئہ بینائی ہے
ناتوانی کا الم ہم ضعفا کو کیا ہو
ہاتھ پکڑے ہوئے مولا کی توانائی ہے
جان دی تو نے مسیحا و مسیحائی کو
تو ہی تو جانِ مسیحا و مسیحائی ہے
چشم بے خواب کے صدقے میں ہیں بیدار نصیب
آپ جاگے تو ہمیں چین کی نیند آئی ہے
باغ فردوس کھلا ، فرش بچھا ، عرش سجا
اک ترے دم کی یہ سب انجمن آرائی ہے
کھیت سرسبز ہوئے،پھول کھلے ،میل دُھلے
اور پھر فضل گھنگھور گھٹا چھائی ہے
ہاتھ پھیلائے ہوئے دوڑ پڑے ہیں منگتا
میرے داتا کی سواری سر حشر آئی ہے
نااُمید تمہیں مژدہ کہ خدا کی رحمت
انہیں محشر میں تمہارے ہی لیے لائی ہے
فرش سے عرش تک اک دھوم ہے اللہ اللہ
اور ابھی سینکڑوں پردوں میں وہ زیبائی ہے
اے حسؔن حُسن ِ جہاں تاب کے صدقے جاؤں
ذرّے ذرّے سے عیاں جلوہ زیبائی ہے ۔

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

تم ہو حسرت نکالنے والے
نامرادوں کے پالنے والے
میرے دُشمن کو غم ہو بگڑی کا
آپ ہیں جب سنبھالنے والے
تم سے منہ مانگی آس ملتی ہے
اور ہوتے ہیں ٹالنے والے
لب جاں بخشش سے جلا دل کو
جان مردے میں ڈالنے والے
دستِ اقدس بجھادے پیاس مری
میرے چشمے اُبالنے والے
ہیں ترے آستاں کے خا ک نشیں
تخت پر خاک ڈالنے والے
روزِ محشر بنادے بات مری
ڈھلی بگڑی سنبھالنے والے
بھیک دے بھیک اپنے منگتا کو
اے غریبوں کے پالنے والے
ختم کردی ہے اُن پہ موزونی
واہ سانچے میں ڈھالنے والے
اُن کا بچپن بھی ہے جہاں پرور
کہ وہ جب بھی تھے پالنے والے
پار کر ناؤ ہم غریبوں کی
ڈوبتوں کے نکالنے والے
خاکِ طیبہ میں بے نشاں ہوجا
ارے او نام اچھا لنے والے
کام کے ہوں کہ ہم نکمے ہوں
وہ سبھی کے ہیں پالنے والے
زنگ سے پاک صاف کردل کو
اندھے شیشے اُجالنے والے
خارِ غم کا حسؔن کو کھٹکا ہے
دِل سے کانٹا نکالنے والے

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post