کچھ غم نہیں اگر چہ زمانہ ہو بر خلاف
ان کی مدد رہے تو کرے کیا اثر خلاف

ان کا عدو اسیر ِ بلائے نفاق ہے
ان کی زبان و دل میں رہے عمر بھر خلاف

ان کی وجاہتوں میں کمی ہو محال ہے
بالفرض اک زمانہ ہو ان سے اگر خلاف

اٹھوں جو خواب مرگ سے آئے شمیم ِ یار
یار ب نہ صبح حشر ہو باد ِ سحر خلاف

قربان جاؤں رحمتِ عاجز نواز پر
ہوتی نہیں غریب سے ان کی نظر خلاف

شانِ کرم کسی سے عوض چاہتی نہیں
لاکھ امتثال ِ امر میں دِل ہو ادھر خلاف

کیا رحمتیں ہیں لطف میں پھر بھی کمی نہیں
کرتے رہے ہیں حکم سے ہم عمر بھر خلاف

تعمیل حکمِ حق کا حسؔن ہے اگر خیال
ارشاد پاکِ سرورِ دیں کا نہ کر خلاف

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

Comments are off for this post

اے دین حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
میرے شفیعِ محشر تم پر سلام ہر دم

بندہ تمہارے در کا آفت میں مبتلا ہے
رحم اے حبیب داور تم پر سلام ہر دم

در یوزہ گر ہوں میں بھی ادنیٰ سا اس گلی کا
لطف و کرم ہو مجھ پر تم پر سلام ہر دم

کوئی نہیں ہے میرا میں کس سے داد چاہوں
سلطان بندہ پرور تم پر سلام ہر دم

محتاج سے تمہارے کرتے ہیں سب کنارہ
بس اک تمہی ہو یاور تم پر سلام ہر دم

کوئی نہیں ہمارا ہم کس کے در پہ جائیں
اے بے کسوں کے یاور تم پر سلام ہر دم

اپنے گدائے در کی لیجیے خبر خدارا
کیجیے کرم حسن پر تم پر سلام ہر دم

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

No comments yet

اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
فقیروں کے حاجت روا غوثِ اعظم
مریدوں کو خطرہ نہیں بحرِ غم سے
کہ بیڑے کے ہیں نا خدا غوث اعظم
بھنور میں پھنسا ہے ہمارا سفینہ
بچا غوث اعظم بچا غوث اعظم
جسے خلق کہتی ہے پیار خدا کا
اسی کا ہے تُو لاڈلا غوث اعظم
مری مشکلوں کو بھی آسان کردو
کہ ہو آپ مشکل کشا غوث اعظم
سروں پر جسے لیتے ہیں تاج والے
تمہارا قدم ہے وہ یا غوث اعظم
وہاں سر جھکاتے ہیں سب اونچے اونچے
جہاں ہے ترا نقش پا غوث اعظم
کہے کس سے جاکر حسن اپنے دل کی
سُنے کون تیرے سوا غوث اعظم

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

No comments yet

تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
ہمارا بگڑا ہو ا کام بن گیا ہوگا

خدا کا لطف ہوا ہوگا دستگیر ضرور
جو گرتے گرتے تِرا نام لے لیا ہو گا

دکھائی جائیگی محشر میں شانِ محبوبی
کہ آپ ہی کی خوشی آپ کا کہا ہو گا

خدائے پاک کی چاہیں گے اگلے پچھلے خوشی
خدائے پاک خوشی ان کی چاہتا ہو گا

کسی کے پاؤں کی بیڑی یہ کاٹتے ہوں گے
کوئی اسیرِ غم ان کو پکارتا ہوگا

کسی طرف سے صدا، آئے گی حضور آؤ !
نہیں تو دم میں غریبوں کا فیصلہ ہو گا

کوئی کہے گا دُہائی ہے یا رسول اللہ !
تو کوئی تھام کے دامن ،مچل گیا ہوگا

کسی کو لے کے چلیں گے فرشتے سوئے حجیم
وہ ان کا راستہ پھر پھر کے دیکھتا ہوگا

خدا کے واسطے جلد ان سے عرضِ حال کرو !
کِسے خبر ہے کہ دم بھر میں ہائے کیا ہوگا ؟

پکڑ کے ہاتھ کوئی حالِ دل سنائے گا
تو رو کے قدموں سے کوئی لپٹ گیا ہوگا

کوئی قریب ترازو ،کوئی لبِ کوثر
کوئی صراط پر ان کو پکارتا ہوگا

وہ پاک دل کہ نہیں جس کو اپنا اندیشہ
ہجومِ فکر و تردّد میں گھر گیا ہو گا

کہیں گے اور نبی اِذْھَبُوْ ا اِلٰی غَیْرِی
مِرے حضور کے لب پر اَنَالَھَا ہو گا

غلام ان کی عنایت سے چین میں ہونگے
عَدو حضور کا آفت میں مبتلا ہوگا

میں ان کے در کا بھکاری ہوں فضل مولیٰ سے
حسن ؔ فقیر کا جنت میں بستر ا ہوگا

شاعر :علامہ حسن رضاؔخان بریلوی

No comments yet