ازل سے کوئی نظام سارا چلا رہا ہے وہی خدا ہے
نبی کا صدقہ جو ہر کسی کو کھلا رہا ہے وہی خدا ہے

نجوم سے پُر فلک کی چادر اسی مصور کا ہے کرشمہ
جو چاند سورج کو آسماں پر سجا رہا ہے وہی خدا ہے

ہے پیار کتنا نبی سے رب کو بنایا ہے کیا کسی کو ایسا
جو لامکاں پر بھی مصطفٰے کو بلا رہا ہے وہی خدا ہے

دعا تڑپ کر تُو کر منور کہ دیکھ لے پھر حضور کا در
قبول کر کے دعا جو طیبہ دکھا رہا ہے وہی خدا ہے

شاعر :منور علی عطاری

Comments are off for this post

در پیش ہو طیبہ کا سفر کیسا لگے گا
گزریں جو وہاں شام و سحر کیسا لگے گا

اۓ پیارے خدا !دیکھوں میں سرکار کا جلوۂ
مل جائے دُعا کو جو اثر کیسا لگے گا

یوں تو گزارتے ہیں سبھی زندگی لیکن
دربارِ نبی میں ہو بسر کیسا لگے گا

طیبہ کی سعادت تو یوں پاتے ہیں ہزاروں
مرشِد کے ساتھ ہو جو سفر کیسا لگے گا

اۓ کاش !مدینے میں مجھے موت یوں آئے
قدموں میں ہو سرکار کے سر کیسا لگے گا

جس در پہ شہنشاہوں نے بھی دامن ہیں پسارے
ہر سال وہاں جاؤں اگر کیسا لگے گا

پائی ہے منؔور نے قضا در پہ نبی کے
آجا کے وطن ایسی خبر کیسا لگے گا

شاعر :منور علی عطاری

Comments are off for this post

نہ کہیں سے دور ہیں منزلیں، نہ کوئی قریب کی بات ہے
جسے چاہے اس کو نواز دے، یہ درِ حبیب کی بات ہے

جسے چاہا در پہ بلا لیا ،جسے چاہا اپنا بنا لیا
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے

وہ بھٹک کے رَاہ میں رِہ گئی، یہ مچل کے در سے لپٹ گئی
وہ کسی امیر کی شان تھی، یہ کسی غریب کی بات ہے

میں بُروں سے لاکھ براسہی مگر اُن سے ہے مِرا واسطہ
مِری لاج رکھ لے مِرے خدا ،یہ تِرے حبیب کی بات ہے

تجھے اۓ مؔنوّر بے نوا درشہ سے چاہیے اور کیا
جو نصیب ہو کبھی سامنا تو بڑے نصیب کی بات ہے

شاعر :منور علی عطاری

Comments are off for this post