بخت خفتہ نے مجھے روضہ پہ جانے نہ دیا
چشم و دل سینے کلیجے سے لگانے نہ دیا
آہ قسمت! مجھے دنیا کے غموں نے نہ روکا
ہائے تقدیر کے طیبہ مجھے جانے نہ دیا
پاؤں تھک جاتے اگر پاؤں بنا تا سرکو
سرکے بل جاتا مگر ضعف نے جانے نہ دیا
سرتو سر جان سے جانے کی مجھے حسرت ہے
موت نے ہائے مجھے جان سے جانے نہ دیا
حال دل کھول کر دل آہ ادا کر نہ سکا
اتنا موقع ہی مجھے میری قضا نے نہ دیا
ہائے اس دل کی لگی کو بجھاؤں کیونکر
فرط غم نے مجھے آنسو بھی گرانے نہ دیا
ہاتھ پکڑے ہوئے لے جاتے جو طیبہ مجھ کو
ساتھ اتنا بھی تو میرے رفقاء نے نہ دیا
سجدہ کرتا جو مجھے اس کی اجازت ہوتی
کیا کروں اذن مجھے اس کا خدا نے نہ دیا
حسرت سجدہ یونہی کچھ تو نکلتی لیکن
سر بھی سرکار نے قدموں پہ جھکانے نہ دیا
کوچہ دل کو بسا جاتی مہک سے تیری
کا م اتنا بھی مجھے باد صبا نے نہ دیا
کبھی بیمار محبت بھی ہوئے ہیں اچھے
روز افزوں ہے مرض کام دوا نے نہ دیا
شربت دیدار نے آگ لگادی دل میں
تپش دل کو بڑھایا ہے بجھانے نہ دیا
اب کہاں جائے گا نقشہ ترا مرے دل سے
تہ میں رکھا ہے اسے دل نے گمانے نہ دیا
دیس سے ان کے جو الفت ہے تو دل نے میرے
اس لئے دیس کا جنگلہ بھی گانے نہ دیا
نفس بدکار نے دل پر یہ قیامت توڑی
عمل نیک کیا بھی تو چھپانے نہ دیا
نفس بد کیش ہے کس بات کا دل یہ شاکی
کیا برا دل نے کیا ظلم کمانے نہ دیا
میرے اعمال کا بدلہ تو جہنم ہی تھا
میں تو جاتا مجھے سرکار نے جانے نہ دیا
میرے اعمال سیئہ نے کیا جینا دو بھر
زہر کھاتا ترے ارشاد نے کھانے نہ دیا
اور چمکتی سی غزل کوئی پڑھو اے نورؔ ی
رنگ اپنا ابھی جمنے شعرا نے نہ دیا

شاعر :مفتیٔ اعظم ہند محمد مصطفٰے رضا خاں نوری

Comments are off for this post

حبیب خدا کا نظار اکروں میں
دل وجاں ان پر نثار ا کروں میں

میں کیوں غیر کی ٹھوکریں کھانے جاؤں ؟
تِرے در سے اپنا گزارا کروں میں

یہ اِک جان کیا ہے اگر ہوں کروڑں !
تِرے نام پر سب کو وارا کروں میں

مجھے ہاتھ آئے اگر تاجِ شاہی
تری نقشِ پا پر نثارا کروں میں

مِرا دین و ایماں فرشتے جو پوچھیں ؟
تمہاری ہی جانب اشارہ کروں میں !

خدا ایک پر ہو تو اِک پر محمد ﷺ
اگر قلب اپنا دو پارہ کروں میں

خدا خیر سے لائے وہ دن بھی نوؔری
مدینے کی گلیاں بوہارا کروں میں

شاعر :مفتیٔ اعظم ہند محمد مصطفٰے رضا خاں نوری

Comments are off for this post

تو شمع ِ رسالت ﷺ ہے عالم تیرا پروانہ
تو ماہِ نبوت ﷺ ہے اۓ جلوہ جانانہ

جو ساقیٔ کوثر ﷺکے چہرے سے نقاب اٹھے
ہر دل بنے میخانہ ہر آنکھ ہو پیمانہ

دل اپنا چمک اٹھے ایمان کی طلعت سے
آنکھیں بھی نورانی اۓ جلوہ ٔ جانانہ

سر شار مجھے کر دے اِک جامِ لبا لب سے
تا حشر رہے ساقی آباد یہ مے خانہ

ہر پھول میں بو تیری، ہر شمع میں ضَو تیری
بلبل ہے تیرا بلبل، پروانہ ہے پروانہ

پیتے ہیں تِرے در کا کھاتے ہیں تِرے در کا
پانی ہے تِرا پانی، دانہ ہے تِرا دانہ

آباد اسے فرما ، ویراں ہے دل نوؔری
جلوے تِرے بس جائیں آباد ہو ویرانہ

شاعر :مفتیٔ اعظم ہند محمد مصطفٰے رضا خاں نوری

Comments are off for this post