کعبے کے در کے سامنے مانگی ہے یہ دعا فقط
ہاتھوں میں حشر تک رہے دامن ِ مصطفٰے فقط

اپنے کرم سے اۓ خدا !عشق ِ رسول کر عطا
آخر ی دم زباں پہ ہو صَلِّ عَلٰے سدا فقط

طیبہ کے سیر کو چلیں قدموں میں اُن کی جان دیں
دفن ہوں اُ ن کے شہر میں ہے یہ ہی التجا فقط

دنیا کی ساری نعمتیں میری نظر میں ہیچ ہوں
رکھنے کو سر پہ گر ملے نعلین مصطفٰے فقط

منکَر نکیر قبر میں ہم سے سوال جب کریں
ایسے میں ورد ہم رکھیں آپ کے نام کا فقط

نزع کے وقت جب میری سانسوں میں انتشار ہو
میری نظر کے سامنے گمبد ہو وہ ہرا فقط

نعت ِ رسولِ پاک ہے ناظؔمی کا مقصدِ حیات
قبر میں بھی لبوں پہ ہو سرکار کی ثنا فقط

شاعر :نظمی

Comments are off for this post