بے چین نظر روئے پر انوار کی خاطر
ہے تاب ہیں لب ذکر میں سرکار کی خاطر
صد رنگ زباں ہوگئی ،اظہار کی خاطر
توصیف و ثناء میں شہ ابرار کی خاطر
پرواز کو پر مانگ رہا ہوں میں خدا سے
اے گنبد خضرا تِرے دیدار کی خاطر
گیسو کا دیا رنگ جو کعبے خو خدا نے
محراب کو خم ،ابروئے خمدار کی خاطر
صد سالہ مرے زہد کی پرواز تصدق
طیبہ میں نشست پس دیوار کی خاطر
وہ آنکھ طلب کر جو تجھے دید کرادے
سر مانگ تو جھکنے کو در یار کی خاطر
میں منصب دیدار کے لائق نہیں پھر بھی
آجائیے اک شب دل بیمار کی خاطر

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

اس ہجر کی بھٹی میں میرے دل و جاں کب تک
یہ آہ فغاں کب تک،یہ اشک رواں کب تک
پہنچوں گا مدینے میں اے جانِ جہاں کب تک
کیا کوئی نہیں صورت میں آؤ ں مدینے تک
اشکوں ہی کے طوفاں میں بہہ جاؤں مدینے تک
میں خضر سے پوچھوں گا منزل کے نشاں کب تک
اس ہجر کے عالم میں مرجاؤں گا ایک دن میں
شعلے جو بھڑک اٹھے جل جاؤں گا ایک دن میں
چھوڑ ے گی مجھے آخر یہ برق ِ تپاں کب تک
پڑھتا ہوں نمازوں میں آیات وہی آقا
خالق نے اتاری ہے جو نعت وہی آقا
رکھوں میں تصور میں تصویر قرآں کب تک
ایسا بھی تو دن آئے وہ سامنے آجائیں
قدموں پہ رکھیں سر ہم اور جاں سے گذرجائیں
فریاد کے لہجے میں آخر یہ بیاں کب تک
اے نُور ٰخدا مجھ کو دیدار کی حسرت ہے
دیدار تمہارا ہی ایماں کی دولت ہے
اب خواب میں آجاؤ ،یہ قید مکاں کب تک
نسبت کا تقاضا ہے اس در پہ جھکانا سر
جانا ہے مدینے کا لازم تری ہستی پر
لکھے گا ادیؔب آخر حسرت کا بیاں کب تک

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

دل ہجر سے بیتاب ہے دامن بھی ہے تر دیکھ
مدّاحی سرکار دو عالم کا اثر دیکھ
جب دیکھ مدینے کی طرف شوق سفر دیکھ
اس راہ کے ذرّوں کو ہے منزل کی خبر دیکھ
گر دیکھنا چاہے تو اجالوں میں کوئی داغ
گنبد کی ضیاء دیکھ کے پھر سوئے قمر دیکھ
سر تا بقدم نُور ہے ،خوشبو ہے ،ادا ہے
بیٹھا ہے کھجوروں کی چٹائی پہ ،مگر دیکھ
ہے منتظر حسن طلب ،جلوہ پر نور
لیکن یہ تقاضا ہے کہ با دیدہ تردیکھ
انوار کی بارش ہے،فرشتوں کا ہے میلہ
اس کعبئہ کعبہ کا مدینے میں ہے گھر دیکھ
تسبیح کےدانوں سے کہیں بات بنی ہے
دیوانہ کوئی ڈھونڈ ،کوئی اہل نظر دیکھ
جو بات ہے خلوت کی سر بزم نہ کہنا
بیٹھے ہیں یہاں اور بھی کچھ اہل نظر دیکھ
سرکار کا روضہ تری آنکھوں نے ہے دیکھا
اس میں ہی ادیؔب اپنی شفاعت کی خبر دیکھ

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

سرکار بچالو لاج،ہمارا رکھ لو بھرم ،یا شاہِ امم
دکھ درد کے مارے ہیں ،مجبور ہیں ہم، یا شاہ امم
سانچے میں تمہارے رحمت ڈھل کر آئی ہے
تم نے تو گدا کو سلطانی دلوائی ہے
تم نے ہی غریبوں کو امید بندھائی ہے
جب روکے “پکار” تم نے مدد فرمائی ہے
تم جس پہ کرم فرمادو اس کے دور ہوں غم ،اللہ کی قسم
سرکار بچالو لاج،ہمارا رکھ لو بھرم ،یاشاہ امم
دکھ درد کے مارے ہیں ،مجبور ہیں ہم ،یاشاہ امم
سمٹی ہوئی چادر میں تنویر ِ خدائی ہو
سر تابہ قدم رعنائی ہی رعنائی ہو
عالم ہے تمہارا ﷺ ،تم رب کے شیدائی ہو
ہر عالم میں تم وجہ چمن آرائی ہو
ہر سمت تمہاری دھوم عرب ہو یا کہ عجم،اللہ کی قسم
سرکار ،بچالو لاج، ہمارا رکھ لو بھرم ،یاشاہ امم
دکھ درد کے مارے ہیں ،مجبور ہیں ہم،یا شاہ امم
ملتا نہ کبھی انسانوں کو منزل کا نشاں
پاتے نہ ستائے لوگ کبھی ظالم سے اماں
آتے جو نہ تم ،رہتا یہ جہاں ویراں ویراں
عالم ہے تمہاری ﷺ خاک ِ کفِ پا سے ذیشاں
صحرا میں بنے گلزار ،تمہارے نقش قدم ، اللہ کی قسم
سرکار بچالو لاج،ہمارا رکھ لو بھرم ،یاشاہ امم
دکھ درد کے مارے ہیں مجبور ہیں ہم ،یاشاہ امم
اے ساقی کوثر شانِ کریمی دکھلائیں
لبریز محبت کا اِ ک ساغر پلوائیں
ہے فکر ادیؔب مدینے تک کیسے جائیں
گر چشم کرم ہوجائے تو راہیں کھُل جائیں
سلطان ِ کرم ،اب رکھ لو مرے اشکوں کا بھرم،اللہ کی قسم
سرکار بچالو لاج ،ہمارا رکھ لو بھرم ،یا شاہ امم
دکھ درد کے مارے ہیں ،مجبور ہیں ہم،یاشاہ امم

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

پڑھو پڑھو شہ خیرالانام کی تسبیح
نبینا کی، علیہ السلام کی تسبیح
یہی ہے عرش پہ اعلی مقام کی تسبیح
یہی ہے دہر میں ہر خاص و عام کی تسبیح
فرشتے رکھتے ہیں لیجا کے مصطفی کے حضور
جو بھیجتے ہیں درود و سلام کی تسبیح
وہ شب و مسجد اقصیٰ وہ انبیاء کا ہجوم
ہر اک کہ لب پہ تھی جس شب امام کی تسبیح
ملائکہ بھی پَرے کے پَرے شب اسرٰٰ ی
لئے تھے ہاتھ میں حسن تمام کی تسبیح
پڑھی ہے خلد میں حوران خلد نے شب بھر
نگاہ شوق سے مست خرام کی تسبیح
ملی جو عرش سے نعلین عرش نے یہ کہا
سکھا دو مجھ کو بھی قرب مدام کی تسبیح
بروز حشر پڑھیں گے سب اپنی آنکھوں سے
شفیع حشر کے دیدار عام کی تسبیح
درود بَر شہہ والا ،سلام بر شہہ دیں
یہ میری صبح کی ہے اور وہ شام کی کی تسبیح
درود خواں ہے خداوند ذوالجلال ادیؔب
درود سب سے ہے اعلیٰ مقام کی تسبیح

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

ملے ہیں نقش کف پا جہاں اب تک
ہزار بار جھکی ہے جبیں وہاں اب تک
پھر ایک بار تو گذرو یہاں سے رب کے حبیب
لگارہی ہے صدائیں یہ کہکشاں اب تک
وہ ایک سجدہ گزرا جو میں نے طیبہ میں
تمام عمر کے سجدوں پہ ہے گراں اب تک
جو ایک بار نکالی گئ ہے طیبہ سے
پلٹ کے پھر نہ گئی ہے وہاں خزاں اب تک
وہ نور جو میری آنکھوں ے ایک شب دیکھا
بتاسکی نہ کسی کو مری زباں اب تک
کہاں یہ وسعت گردوں ،کہاں وہ تیرا کرم
حجل ہے تنگی داماں سے آسماں اب تک
بس ایک بارہی دیکھی بلندی خضرا
مری نگاہ میں نیچا ہے آسماں اب تک
تمہیں پکار رہے ہیں ،پکارنے والے
ازل سے روح بدن سے رواں رواں اب تک
تری ثناء تری تصویر ،تیرا حسن سخن
لگا رکھا ہے کلیجے سے یوں قرآں اب تک
میں کیا ہوں کیا نہیں ،عاصی ہوں ناامید نہیں
ترے کرم کا سہارا ہے مہرباں اب تک
ان آنسوؤں نے سر بزم راز کھول دیا
بنار کھا تھا جنہیں میں نے رازداں اب تک
ترے حضور ترے روبرو تری مدحت
ترس رہی ہے سنانے کو یہ زباں اب تک
کہیں حضور فرشتو ں سے وقت نزع مری
ادیؔب میری ثناء میں گلفشاں اب تک

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

بس یہی دیکھتے ہو،میں ہوں گنہ گار وں میں
کون ہے یہ بھی دیکھو مرے غمخواروں میں
فیصلہ حشر کا اک آن میں ہوجائے گا
بیٹھ جائیں گے جب اگر وہ گنہ گاروں میں
قربت شہر مدینہ کی ہے بس اک صورت
کوئی چن دے مجھے اس شہر کی دیواروں میں
اشک ِ غم ،اشک ندامت ہیں متاع کونین
یہ وہ دولت ہے جو ملتی ہے گنہ گاروں میں
کتنے اچھے ہیں جو اچھا نہیں ہونے پاتے
ہیں مسیحائے جہاں بھی ترے بیماروں میں
شبنم اشک،گلِ نعت ،ہوائے رحمت
ایسی رونق نہ چمن میں ہے نہ گلزاروں میں
خون دل،خون جگر،خون تمنا سے ادیؔب
رنگ آتا ہے مری فکر کے شہ پاروں میں

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

اے رونق بزم جہاں تم پر فدا ہوجائیں ہم
تم ہی تو ہو،جس کی ثناء مکتوب بر لوح و قلم
یا صاحب الجود و کرم ،تم ہی سے ہے میرا بھرم
تم ہی سے ہے آقا مرے،دل میں تڑ پ آنکھوں میں نم
یا رحمت اللعالمیں یا سرور دنیا و دیں
روز جزا تیرے سوا، کوئی نہیں پرسان غم
ہم بے عمل ،مجرم بھی ہیں ،مجبور بھی ،محتاج بھی
اک بار سوئے عاصیاں ،اے مہرباں ،چشم کرم
خیرات تیرے نور کی ،خورشید و ماہ و کہکشاں
صدقہ تری زلفوں کا ہے ،خوشبو ،صبا،موج ارم
کونین اک گوشے میں ہے دامان رحمت کے تری
مسند تری عرش بریں ،سایہ ترا ابر کرم
لاکھوں برس سے دیدہ روح الامیں کی روشنی
سدیوں سے گیسو کی قبا پہنے ہوئے سنگ حرم
سرمایہ اشک رواں ،سایہ کند بر عاصیاں
من زاں سبب ،درنیم شب،یا سیدی گر یہ کنم
اے باعث ایجاد کل،اے وجہ تخلیق جہاں
ہے سجدہ گاہ عاشقاں ،آقا ترے نقش قدم
اے زینت و زیب جہاں ،شرف بشر ،روح اذاں
تو ہے پناہ عاصیاں بخشش تری شان کرم
رنگینی قوس و قرح گرد کف پا ہے تری
ہے مخزن اسرار حق،تیر ی جبین محترم
ماہ عرب ماہ مبیں اے رحمت اللعالمین
بعد از خدا کوئی نہیں تیرے سوائے محترم
جب آبنائے نور میں غوطے لگاتا ہے ادیؔب
لاتاہے موتی مدح کے کرتا ہے پھر نعتیں رقم

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

ہے ذکر مصطفی ہماری چشم نم کی آبرو
یہی کرے گا سرخرو ہمیں خدا کے روبرو
سکوت،مرگ زندگی ،جمود،ترک زندگی
حیات،ذکر مصطفی کی انجمن کی ہاؤ ہو
یہی ضیاء چمن چمن ،یہی سخن دہن دہن
نفس نفس کا مدّعا،نظر نظر کی جستجو
یہی ہے ورد زباں،زمین سے تابہ آسماں
بہر نفس بہر زماں،بہر قدم ،چہار سو
یہی حیات جاوداں ،یہی امام کارواں
یہی بلال ؒکی اذاں ، یہی بلالؒ کا وضو
یہی شریعت کہن یہی حدیث پنجتن
یہ غازیوں کے سرکاتاج اور شہید کا لہو
اسی لطف خاص ہے میرے خیال کی تڑپ
اسی کا نور ہے مرے سخن کدہ کی آبرو
یہ عاشقانِ مصطفی کہ سر پہ چتر زرگری
حجل ہے آپ و تاب مہر و ماہ جس کے روبرو
یہی ادؔیب کا قلم یہی نشاں ،یہی علم
یہی ادؔیب کی بہار داستاں میں رنگ و بو

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

آپ کی یاد میں جس جس نے گزاری تھی حیات
روز محشر تھے وہی لوگ سر راہ نجات
واعظو!نسبت سرکار دو عالم کے سوا
ان کے دیوانوں سے کرنا نہ کسی غیر کی بات
پہلے سرکار دو عالم کو بنایا رب نے
پھر بنائی گئی رحمت،پئے نذر و خیرات
ذکر سلطان دو عالم کا عجب عالم ہے
کاش مل جائے اس عالم کی مجھے آب حیات
کر نہ نتقید مرے جرم و خطا پر ناصح
میں گنہگار ہوں،مت ڈھونڈ فرشتوں کی صفات
تیرے مسلک میں شب و روز قیام اور قعود
میرے مشرب ہر اک سانس دروداور صلوۃ
جن کو چاہیں گے محمدﷺانہیں چاہے گا خدا
میرا مسلک مرامذھب،مرا ایمان ،یہ بات
لوگ محشر میں بد احوال و پریشان ہوں گے
ہم ثنا خواں ہیں ،سجائیں گے وہاں محفل نعت
میں ہوں اور گنبد خضرا کا تصور ہے ادیؔب
کاسئہ فکر ہے اور شاہ دنیٰ کی خیرات

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

نہاں رہتا ہے کب مضمون مرا تحریر سے پہلے
نہ جانے اشک کیوں بہنے لگے تقریر سے پہلے
زباں کو غسل دیتے ہیں درود پاک پڑھ پڑھ کر
ثنا خوانی کبھی کرتے نہیں تطہیر سے پہلے
ثنائے مصطفی ﷺ سے ہم دلوں کوفتح کرتے ہیں
یہ ہے وہ کام جو ہوتا نہ تھا شمشیر سے پہلے
تم آئے تو جنون عشق بھی میدان میں آیا
کسے تھی ورنہ الفت طوق سے ، زنجیر سے پہلے
تری رحمت سے یہ جانا،خدا رحمت ہی رحمت ہے
یہ سب اک خواب تھا ورنہ تری تعبیر سے پہلے
ادیؔب اک رات جھونکے مشک بار آئے ہیں طیبہ سے
پہنچ جائیں گے اب ہم آہوے تدبیر سے پہل

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

بقید زندگی ہر ہر قدم پر مدح خوانی کر
بروز حشر ناز کارہائے زندگانی کر!
تصور کو مرے تصویر کردے حرف اول میں
مرے الفاظ کو بہر کرم،در معانی کر
مری صورت کو دیکھیں اور مرا مضمون پہچانیں
مرے جذبات کی اے چشم تر،یوں ترجمانی کر
ادب کا پیرہن ،نازک بدن،حسن سخن کو دے
پھر اس کو رنگ خون آرزو سے ارغونی کر
ادیؔب اس ذات اقدس نے عطا کی تجھ کو لسانی
اسی کے ذکر میں شام و سحر رطب اللسانی کر

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

نُور ظہور حق ہے کیا؟ نور جمال مصطفی
طرز کلام رب ہے کیا؟ حسن مقال مصطفی
دل کا ہے کام،کام کیا ؟ محو خیال مصطفی
دیدہ شوق،شوق کیا؟ دید جمال مصطفی
عشق کا مدعا سنو،حُسن کا منتھا سُنو
ایک خیال مصطفی ،ایک جمال مصطفی
غایت کن،حضور کے حسن کا اہتمام تھی
حشر جو ہوگا ،ہوگا کیا ،دید جمال مصطفی
قبر میں جو بھی آئیں گے دیکھ کے لوٹ جائیں گے
دست گناہ گار میں،دامن آلِ مصطفی
مجھ سے گناہ گار کا روئے سخن تو دیکھنا
مدحت مصطفی ہے اور مدحت آلِ مصطفی
ان کی ثنا کے روزو شب ،تیرا نصیب ہیں ادؔیب
صبح فراق مصطفی ،شام خیال ِ مصطفی

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

حسن محمد عالم تاب،عشق محمد عالم گیر
کتنے آساں ہیں الفاظ ،کتنی مشکل ہے تفسیر
ساز فراق احمد ہے مری زباں کا ہر نغمہ
صوت ِ خیال سرمد ہے میرے قلم کی ہر تحریر
اشک ندامت آنکھوں میں سایہ سایہ ابر کرم
آہ و فغاں کے یہ رتبے جرم و خطا کی یہ تقدیر
آنسو ایک پگھلتی آگ ، ایک دہکتی شبنم ہیں
عشق نبی میں رونا بھی ایک تماشہ آتش گیر
جیسے برستے پانی میں بکھری کرنیں نکھری دھوپ
لفظ و بیاں کا یہ ارژنگ ،مدح و ثنا کی یہ تصویر
دل سینہ میں ،سینہ نور،عشق سے دونوں ہمیں معمور
ہم نے بھی کیا خوب کیا بیچ چمن میں گھر تعمیر
روز ادیؔب جلاتا ہے طوفانوں میں ایک دیا
عشق نے جب سے پیروں میں ڈل رکھی ہے اک زنجیر

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

جھکاتے ہیں ملائک جس جگہ سر،ہم بھی دیکھ آئے
سنوارتا ہے جہاں جبریل شہ پر،ہم بھی دیکھ آئے
جو گھر ہے خانئہ کعبہ کا محور ،ہم بھی دیکھ آئے
بچھاتے ہیں جہاں جبریل شہ پر ،دیکھ آئے
جناب قاسم ﷺعالم کا لنگر ہم بھی دیکھ آئے
جہاں خیرات لیتے ہیں تونگر،ہم بھی دیکھ آئے
عروج ِ آدم خاکی ،کہاں سے ہے،کہاں تک ہے
وہاں کی خا ک آنکھوں میں لگا کر،ہم بھی دیکھ آئے
خدائی نام ہے اُس نورکا جوکل میں پھیلا ہے
مدینہ بن گیا ہے جو سمٹ کر،ہم بھی دیکھ آئے
وہ خیمہ نور کا جس کی طنابیں رحمت حق ہیں
وہ سایہ سبز گنبد کا سروں پر،ہم بھی دیکھ آئے
جہاں مسند نشیں ہوکر ثنا حسان پڑھتے تھے
وہ محراب محبّت اور وہ منبر ، ہم بھی دیکھ آئے

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

عقل کہتی ہے کہ تو،اُن کے قدم تک پہنچا
عشق کہتا ہے کہ تو،لوح و قلم تک پہنچا
آنکھ کہتی ہے کہ بینائی کو معراج ہوئی
اشک کہتے ہیں کہ تو حاصل غم تک پہنچا
دیکھ کر مجھ کو مدینے میں فرشتے بولے
یہ وہ مجرم ہے جو آغوشِ کرم تک پہنچا
جب لیا نام کسی نے سر محفل ان کا
اضطراب ِ دل و جاں دیدہ نم تک پہنچا
نہ عمل تھا نہ کوئی گنْ نہ کوئی بات بھلی
باوجود اس کے بلاوا تیرا ہم تک پہنچا
اے ادیؔب اس کا نکرین سے پیچھا چھوٹا
ان کی گلیوں سے گزر کر جو عدم تک پہنچا

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

ادنیٰ مرے آگے ہے نہ اعلیٰ مرے آگے
ہر دم ہے خیال ِ شہ والا مرے آگے
ہر روز یہ رہتی ہے تمنا مرے آگے
ہر شب ہو خدا،وہ رخ زیبا مرے آگے
ہے پر تو خورشید رسالت مرے دل میں
شب بھی ہو تو رہتا ہے اُجالا مرے آگے
یہ حسن بیاں زور قلم،فن کی بلندی
جز نسبت احمد ہیں ،تماشا مرے آگے
میں قافلئہ عشق محمد ﷺ کے ہو پیچھے
کیا آئے گی منھ زور یہ دنیا مرے آگے
وہ رنگ ہے سرکار ِ مدینہ کی ثناء کا
ہیں قوس و قزح بھی تہ و بالا مرے آگے
آنکھیں مری پیالے ہیں تو خم گنبد خضرا
بے کار ہیں یہ ساغر و مینا مرے آگے
وہ رند ہوں مست ، وہ میکش ہوں کہ ہر شب
در میکدہ عشق کا ہے وا میرے آگے
پی لے جو مئے حب نبی جھوم اٹھے گا
واعظ کہیں مل جائے تو لے آمرے آگے
غالب ہے ادیؔب ان کا کرم میرے سخن پر
مقصود نہ شہرت ہے نہ دعوٰی مرے آگے

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

کعبئہ محبّت دل،دل میں مصطفی مہماں
کر رہا ہوں گھر بیٹھے طوف مرکز ایماں
ناز و نازش آدم،قدر و قیمت ِ انساں
اِک بشر کی صورت ہے ،ہر بشر پہ ہے احساں
سوز و ساز عالم بھی ،بے نیاز عالم بھی
چارہ سازِ عالم بھی وہ پیمبر ذیشاں
دیکھ چہرہ انور،دیکھ ابروئے خمدار
ایک آیت مشتق ایک مصدر قرآں
سوزش جگرکیا ہے چشم تر کیا ہے؟
ایک آتش ِ دامن ایک دامن طوفاں
عشق کی ادا کیا ہے ،جذبئہ وفا کیا ہے
وہ بلال کی مستی یہ بلال کا ایماں
ہر کلام کی عظمت تیرے نام کی نسبت
ہر سخن طرازی میں ،ذکر ہے تیرا میزاں
تیرے ذکر کی لذت ہے ادیؔب کی قسمت
تیرے نام سے زندہ تیرے نام پر قرباں

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

دست حق،رحمت کل،خیر ِ بشر ،نورخدا
جہل و باطل کے اندھیروں میں حقیقت کی ضیا
سیّد و سَرور و مولٰی و مددگار امم
وہ فرشتوں میں مکرّم وہ رسولوں میں اتم
سن کے جس نام کو جھک جائے عقیدت جبیں
جس کی نعلین کہ اتری نہ سر عرش بریں
جس نے دنیا ئے تمدّن کے سجائے دروبام
جس پہ تہذیب نے بھیجا ہے درود اور سلام
سرمئہ نور ِ بصر ،خاک ِ کف ِپا جس کی
ہمہ اوصاف خدا،صُورت ِ زیبا جس کی
نقطئہ نور،خطِ نور،سَر خامئہ نور
جس نے بخشا ہے اندھیروں کو اُجالے کا شعور
جس کے احساس کی خوشبو سے مہک جائیں دماغ
جس کو آواز دو ظلمت میں تو جل جائیں چراغ
ظلم کو موت کا پیغام ،محبت کو بقا
ایک امّی نے دیا اہل جہاں کو کیا کیا

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

ہم کو محشر میں کیا چاہئے
دامن مصطفی چاہئے
حمد باری کی تکمیل میں
مدحت مصطفی چاہئے
آنکھ کو نم،تڑپ قلب میں
وہ کرم یہ عطا چاہئے
ان کی رحمت بہانہ طلب
چاہئے التجا چاہئے
دم غنیمت ہیں اہل نظر
ہم کو ان کی دعا چاہئے
وہ تصور میں ہیں رات دن
اے ادیؔب اور کیا چاہئے

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post