دست حق،رحمت کل،خیر ِ بشر ،نورخدا
جہل و باطل کے اندھیروں میں حقیقت کی ضیا
سیّد و سَرور و مولٰی و مددگار امم
وہ فرشتوں میں مکرّم وہ رسولوں میں اتم
سن کے جس نام کو جھک جائے عقیدت جبیں
جس کی نعلین کہ اتری نہ سر عرش بریں
جس نے دنیا ئے تمدّن کے سجائے دروبام
جس پہ تہذیب نے بھیجا ہے درود اور سلام
سرمئہ نور ِ بصر ،خاک ِ کف ِپا جس کی
ہمہ اوصاف خدا،صُورت ِ زیبا جس کی
نقطئہ نور،خطِ نور،سَر خامئہ نور
جس نے بخشا ہے اندھیروں کو اُجالے کا شعور
جس کے احساس کی خوشبو سے مہک جائیں دماغ
جس کو آواز دو ظلمت میں تو جل جائیں چراغ
ظلم کو موت کا پیغام ،محبت کو بقا
ایک امّی نے دیا اہل جہاں کو کیا کیا

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

ہم کو محشر میں کیا چاہئے
دامن مصطفی چاہئے
حمد باری کی تکمیل میں
مدحت مصطفی چاہئے
آنکھ کو نم،تڑپ قلب میں
وہ کرم یہ عطا چاہئے
ان کی رحمت بہانہ طلب
چاہئے التجا چاہئے
دم غنیمت ہیں اہل نظر
ہم کو ان کی دعا چاہئے
وہ تصور میں ہیں رات دن
اے ادیؔب اور کیا چاہئے

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

یہ میرے لب چرچا تیرا،آنکھیں میری جلوہ تیرا
میرا قلم تیراکرم میرا سخن صدقہ تیرا
والّیل ہیں گیسو تیرے والشّمس ہے چہرہ تیرا
زیر قدم عرش بریں،کیا ہو بیاں رتبہ تیرا
تیرا کرم اے مہرباں ،دیدی ہمیں ایسی زباں
پڑھتی رہے کلمہ تیرا ،گاتی رہے نغمہ تیرا
ہر گفتگو ہر جستجو ،ہر آرزو اے خوبرو
کچھ بھی نہیں اس کے سوا،آئے نظر جلوہ تیرا
قطروں سے مہ پارے بنے چھینٹے اڑے تارے بنے
اک شب جو آب ِ نور سے دھویا گیا تلوا تیرا
پرسان حال بے کساں ،اے داد رس فریاد رس
شاہ امم نظر کرم،مل جائے کچھ صدقہ تیرا
ہوش و خرد بے کار ہے مجھ کو جنوں درکار ہے
ایسا جنوں جس میں رہے سر کو روا سجدہ تیرا
مصروف رکھاہے تجھے ،اپنی ثناء میں اے ادیؔب
وہ چاہتے ہیں رات دن بھرتا رہے کاسہ تیرا

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

نہ بندگی سے نہ یہ ،خسروی سے ملتا ہے
مذاق ِعشق ،شکستہ دلی سے ملتا ہے
نہ بوئے مشک ،نہ مے سے،نہ سیر جنّت سے
جو کیف روح کو ،نعت نبی سے ملتا ہے
کرو جو ذکر نبی ﷺ اشک بار ہو کے کرو
کہ ان کا لطف و کرم بس اسی سے ملتا ہے
بنو فقیر بنو،کاسئہ گدائی لو
درنبی ہے،یہاں عاجزی سے ملتا ہے
وہ جس کو چاہیں نوازیں ،یہ ان کی مرضی ہے
انہیں کا سب ہے انہیں کی خوشی سے ملتا ہے
بھٹک رہا ہے حدود حرم میں کیوں زاہد
خدا کا قرب انہیں کی گلی سے ملتا ہے
سلام کی ہیں صدائیں درود کا ہنگام
دل ادیؔب دیارِ نبی ﷺ سے ملتا ہے

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

پہلے پہلے جو دیکھا دیار نبی ﷺ اشک بھر آئے لب پر سلام آگیا
وجد کرنے لگی روح یہ دیکھ کر،کس جگہ ایک ادنیٰ غلام آگیا
چھٹ گئے غم جوتھے دل کو گھیرے ہوئے آئی رحمت جو زلفیں بکھیرے ہوئے
پھر درودوں سلاموں کی بارش ہوئی،جب زباں پر محمد کا نام آگیا
سایئہ گنبد سبز میں بیٹھ کر آستانے پہ سر،جالیاں تھام کر
اب کئے جاؤ سجدوں پر سجدے یہاں عشق کی بندگی کا مقام آگیا
چشم حسرت زدہ کی وہی آرزو،شوق دیدار کی بھی وہی جستجو
یوں ہوئے اپنے مقصود کے روبرو ،جیسے ساحل پہ اک تشنہ کام آگیا
جب مدینہ نہ دیکھا تھا یہ زندگی ،کچھ دکھائی نہ دے ایسی تاریک تھی
اب اندھیروں کو دیکھو تو ملتے نہیں،اتنے نزدیک ماہ تمام آگیا
جھڑکیاں آستانے کے دربان کی آزمائش ہے عاشق کے ایمان کی
پی گیا مسکراکر جو اس جام کو ،اس کا میخوارِ کوثر میں نام آگیا
اک نکمّا گنہ گار عاصی جسے منہ لگائے نہ کوئی کسی حال سے
ان کی بندہ نوازی کی حد ہوگئی ،مدح خوانوں میں اس کا بھی نام آگیا
اوّل اوّل جو دربار میں ہم گئے جان و ہوش و خرد سب کے سب کھوگئے
ہم تو کیا چیز تھے اس جگہ اے ادیؔب غوث و ابدال پر یہ مقام آگیا

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

دیکھے کوئی امت پہ یہ فیضان کی صورت
اُتری ہے ثناء رحمت رحمٰن کی صورت
یہ جان کے خالق نے کیا خلق نبی کو
اچھی سے ہو اچھی مرے احسان کی صورت
محبوب سے ہر بات محب کی ہوئی پہلے
پھر ہم کو دکھائی گئی قرآن کی صورت
اچھا ہے بہا کر مجھے لے جائیں مدینے
آنکھوں میں جو یہ اشک ہیں طوفان کی صورت
بخشش کی خبر حق نے نہیں دی شب اسریٰ
جب تک کہ نہیں دیکھ لی،مہمان کی صورت
آنکھوں کو بناتے تھے زباں اپنی صحابہ
پڑھتے تھے رخ یار کو قرآن کی صورت
دیکھی ہے خدا ہم نے مجسم تیری رحمت
آئی تھی مدینے میں جو انسا ن کی صورت
یاد آتے ہیں مجھ کو خط ابروئے محمد
جب دیکھو خط آیئہ قرآن کی صورت
کیوں کر مرے اشعار میں خوشبو نہیں ہوئی
ہر حرف کو لکھا خط ریحان کی صورت
جاتا ہو ادیؔب حضرت حسان کے پیچھے
سب دیکھیں اسے حشر میں اس شان کی صورت

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

میری قسمت کا چمکے ستارہ سوئے من چشم رحمت خدارا
میں بھی طیبہ کا کرلوں نظارا سوئے من چشم رحمت خدارا
حشر میں شہ کی امت کھڑی ہے یہ گھڑی کیسی مشکل گھڑی ہے
ایک افتاد سب پر پڑی ہے غم ہے یا آنسوؤں کی جھڑی ہے
دل ندامت سے ہیں پارہ پارہ
سوئے من چشم رحمت خدارا
مری کشتی میں تھا ،بوجھ عصیاں ڈوب جانے کا تھا سارا ساماں
آپ کے نام نامی کے قرباں اک طرف ہوگئی موج طوفاں
آپ کو میں نے جس دم پکارا
سوئے من چشم رحمت خدارا
ایسا در اور کوئی کہاں ہے بے سہاروں پہ سایہ جہاں ہے
ہر گھڑی رحمت بے کراں ہے بس یہی ایک وہ آستاں ہے
عاصیوں کا جہاں ہے گذارا
سوئے من چشم رحمت خدارا
جب سے تلوؤں کا دھوون ملاہے روئے خورشید چمکا ہواہے
کس لئے پھول مہکا ہواہے عنبر و کیسر و مشک کیا ہے
آپ کی زلف کا ہے اتارا
سوئے من چشم رحمت خدارا
ہو ادیب حزیں بھی وہاں پر رحمتیں بٹ رہی ہوں جہاں پر
لب پہ جاری ہو نعتیں وہاں پر ہو نظر سرور دو جہاں پر
دیکھتے ہی رہے یہ نظارا
سوئے من چشم رحمت خدارا

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

مجھے یادآرہا ہے در مصطفی پہ جانا
مرے خواب آرزو کا وہ حقیقتوں میں آنا
وہ نماز شوق میری،وہ سجود والہانہ
کہ جبیں کے یہ تقاضے ،مجھے رکھ کے بھول جانا
نہ کسی سے کوئی نسبت ، نہ تعلق زمانہ
ترا وصف لکھتے رہنا،ترے گیت گنگتانا
تھا عجیب اپنا عالم ،کہ جنوں تھا اور تھے ہم
کبھی گریئہ مسرت ،کبھی غم سے مسکرانا
جو طلب تھی مل رہا تھا،یہ کرم نہیں تو کیا تھا
کہ ہر اک کو دے رہے تھے وہ بدست غائبانہ
یہ پکار ہو رہی تھی کہ سوال کرنے والو
کوئی رہ نہ جائے دیکھو جو طلب ہو لے کے جانا
جو گناہ گار جائے، یہ سند وہاں سے لائے
وجبت لہ شفاعت ہے کرم کا کچھ ٹھکانا
میں سناؤں کیسے لوگو،در مصطفی کی باتیں
یہ خدا کرے تم بھی کبھی جاکے دیکھ آنا
جو نہ در پہ ان کے جاتے،جو نہ سروہاں جھکاتے
تو ادیؔب کیا سناتے یہ کلام عارفانہ

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

مدعا زیست کا میں نے پایا
رحمت حق نے کیا پھر سایا
مرے آقا نے کرم فرمایا
پہلے کچھ اشک بہالوں تو چلوں
اک نئی نعت سنالوں تو چلوں
شُکر میں سر کو جھکانے کے لئے
داغ حسرت کو مٹانے کےلئے
بخت خوابیدہ جگانے کے لئے
ان کے دربار میں جانے کےلئے
اپنی اوقات بنالوں تو چلوں
اک نئی نعت سنالوں تو چلوں
غم کے مارے بھی مجھے دیکھیں گے
ماہ پارے بھی مجھے دیکھیں گے
چاند تارے بھی مجھے دیکھیں گے
خود نظارے بھی مجھے دیکھیں گے
میں نظر سب سے بچالوں تو چلوں
اک نئی نعت سنالوں تو چلوں
پہلے اشکوں کے دریچے کھولوں
کعبئہ دل کو پھر اس میں دھولوں
غم کی میزاں پہ اسے پھر تولوں
مشک پھوٹے جو ذرا لب کھولوں
اس میں ہر سانس بسالوں تو چلوں
اک نئی نعت سنالوں تو چلوں
دل یہ کہتا ہے مچل جانے دو
اشک کہتے ہیں کہ بہ جانے دو
سر ہے بے چین کہ جھک جانے دو
روح کہتی ہے کہ اڑ جانے دو
ناز ان سب کے اٹھالوں تو چلوں
اک نئی نعت سنالوں تو چلوں
سامنے ہو جو در لطف و کرم
یوں کروں عرض کہ یا شاہ امم
آگیا آپ کا محتاج کرم
اس گنہ گار کا رکھئے گا بھرم
شوق کو عرض بنالوں تو چلوں
اک نئی نعت سنالوں تو چلوں
ان کی مدحت میں ہے جینا میرا
کیسے ڈوبے گا سفینہ میرا
دیکھ لو چیر کے سینہ میرا
دل ہے یا شہر مدینہ میرا
دل ادیؔب اپنا دکھا لوں تو چلوں
اک نئی نعت سنالوں تو چلوں

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

لَوْلَاکَ لَمَاخَلَقْتُ الْا فْلَاکَ
ہوتی نہ تیر ی ذات جو مقصود
ہوتا نہ یہاں پھر کوئی موجود
عالم تیری نعلین کی ہے خاک
کس کو ہے تیری ذات کا ادراک
لَوْلَاکَ لَمَاخَلَقْتُ الْا فْلَاکَ
یہ ماہ یہ خورشید و ستارے
فطرت کے یہ رنگین نظارے
دھوون ترے تلوؤں کے ہیں سارے
قدموں نے ترے سب کو کیا پاک
لَوْلَاکَ لَمَاخَلَقْتُ الْا فْلَاکَ
مظلوم کو ظالم سے چھڑایا
دنیا کو تباہی سے بچایا
انسان کو انسان بنایا
گلزار بنائے خس و خاکشاک
لَوْلَاکَ لَمَاخَلَقْتُ الْا فْلَاکَ
کعبے کو خدائی سے سجایا
توحید کا پھر جشن منایا
روتے ہوئے چہروں کو ہنسایا
اب کوئی نہیں دیدہ نمناک
لَوْلَاکَ لَمَاخَلَقْتُ الْا فْلَاکَ
تو رونق ِ محراب حرم ہے
تو امت عاصی کا بھرم ہے
دنیا تری محتاج ِ کرم ہے
ہر عیب سے ہستی ہے تری پاک
لَوْلَاکَ لَمَاخَلَقْتُ الْا فْلَاکَ
جس سمت گیا تیرا اُجالا
ظلمت نے وہاں سر نہ نکالا
رحمت ترے رخسار کا ہالا
نعلین کے نیچے سر افلاک
لَوْلَاکَ لَمَاخَلَقْتُ الْا فْلَاکَ

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

فخر جتنا کروں مجھ کو کم ہے ایسے داتا کا میں ہوں سوالی
آگیا در پہ جب کوئی ان کے بات آقا نے اس کی نہ ٹالی
جو کسی کو نہیں ٹالتے ہیں تاجور جن کے در کے سوالی
میں نے دنیا کو ٹھوکر لگا کر ان کی چوکھٹ پہ چادر بچھالی
میرا سینہ ہے ایسا خزینہ جس میں آقا کی نعتیں بھری ہیں
اور اس پر کرم یہ ہوا ہے مجھ کو بخشا ہے لحن بلالی
منزل عشق سے بے خبر تھا بس راہ شوق میں چل پڑا تھا
جب تصور میں آیا مدینہ اس تصور نے منزل بنالی
مجھ کو نعتوں کی نعمت ملی ہے کیسی اچھی یہ نسبت ملی ہے
زندگی بھی سنواری اسی نے آخرت بھی اسی نے سنبھالی
حشر میں نعت پڑھتا رہوں گا، ان کی صورت کو تکتا رہوں گا
سن کے میرا سخن داد دیں گے ،جامی و شیخ سعدی و حالی
میرا عنوان صل علٰی ہے مجھ پہ فیضان احمد رضا ہے
حشر تک یوں مہکتی رہے گی میرے گلشن کی ایک ایک ڈالی
خوف منکر نکیر اس قدر تھا قبر میں کیا بنے گی یہ ڈر تھا
جب لیا نام نامی محمد سُن کے دونوں نے گردن جھکالی
خواب میں دیکھ لی ان کی صورت اب لگائے کوئی میری قیمت
میں نے دیکھا ہے والشمس چہرہ میں نے دیکھے ہیں ابرو ہلالی
میں ادؔیب ان کا مداح بھی ہوں اور نسبت بھی ان کی ملی ہے
اب نہ یہ ہاتھ میرا ہے خالی اور نہ وہ ہاتھ میرا ہے خالی

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

اوج آسماں کو بھی زیر آسماں دیکھا
عرش کے برابر ہے ہم نے وہ مکاں دیکھا
واہ کیا مدینہ ہے رات ہو کہ دن ہر دم
ہر ہوا کے جھونکے کو ہم نے مدح خواں دیکھا
دھوپ دیکھی سائے میں سائبان ِ رحمت کے
سور ہی تھی ٹھنڈک میں دھوپ کو جہاں دیکھا
بُوند بُوند پانی کی شہد کو جو شرما دے
چہر ہ چہرہ ذرّوں کا ،حسن ِ کہکشاں دیکھا
زائروں کے تلوے خود حال یہ سناتے ہیں
ریت مخملی دیکھی،خار نرم جاں دیکھا
اشک آئے مژگاں پر شوق میں حضور ی کے
باوضو ہوئیں پلکیں آب جب رواں دیکھا
نغمگی ہواؤں میں شاعری فضاؤں میں
ایسا کب کہاں ہوگا ہاں مگر وہاں دیکھا
عاصیوں کو تسکین ہے ،دل جلوں کو راحت ہے
یہ سوا مدینے کے آنکھ نے کہاں دیکھا
نام لو محمدﷺ کا اور پار لگ جاؤ
رب کو ان کی امت پر اتنا مہرباں دیکھا
اسوہ محمد پر گامزن ہوئے جو بھی
ان کو سرخرو پایا ان کو کامراں دیکھا
جن کے جن کے ہاتھوں سے دامن نبی چھوٹا
تنگی زمیں دیکھی دشمن آسماں دیکھا
فن کے قدردانوں میں فن ہی قدر و قیمت ہے
دل ادیؔب کا صاحب کس نے اور کہاں دیکھا

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

میں کوئل مرا باغ مدیہ صل علٰی مر ی کو
کیسے کوئی اب من کو بھاوے سامنے ہو جب تو
میرے باغ میں حور و ملائک شام سویرے آتے ہیں
آنکھ پہ مل کر خاک جہاں کی لوگ ولی بن جاتے ہیں
در پہ جہاں جبریل کھڑے ہیں بن خادمہٗ
میرے باغ کا مالک ہے جو عرش بریں پر جاتا ہے
سدرہ کی منزل تک ان کو روح امیں لیجاتا ہے
برق سے زیادہ تیز سفر، براق ہے مرکبہٗ
آج ادیب تمہیں سمجھائے بگڑی کیوں بن جاتی ہے
ہر دم رحمت کے دروازے کون سی شی کھلواتی ہے
عشق نبی میں آنکھ سے گرنے والا اک آنسو

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

چھیڑتا ہوں میں بھی اب تذکرہ مدینے کا
کھل رہے ہیں لب ایسے،در کھلا مدینے کا
آسماں کی خواہش ہے میں زمین بن جاؤں
جب سے اس نے دیکھا ہے مرتبہ مدینے کا
پوچھتا ہے جب کوئی آپ کا وطن کیا ہے
دل جواب دیتا ہے لکھ پتہ مدینے کا
روشنی ،اجالا،نور سب انہیں کا صدقہ ہیں
آفتاب چھوٹا سا اک دیا مدینے کا
کیا خبر مورخ کو کیا بتائے بیچارہ
یہ ازل سے قائم ہے میکدہ مدینے کا
جانے ہم کدھر جاتے جانے ہم کہاں ہوتے
گر ہمیں نہیں ملتا آسرا مدینے کا
پھر ادیؔب کو آقا اپنے در پہ بلوالیں
روز ایک جاتا ہے قافلہ مدینے کا

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

بے طلب مجھ کو وہ دے رہے ہیں پوچھتے ہیں بتا اور کیا دوں
جب میں ایسے سخی کا گدا ہوں کیوں کسی در پہ جاکر صدا دوں
کس قدر مہرباں مجھ پر وہ ہیں میری بخشش کے سامان دو ہیں
ایک نعتیں کہ ان کو سنادوں ایک آنسو جو ان پر لٹا دوں
دو صدا مجھ کو تم اس طرح سے اے گدائے مدینہ ادھر آ
تم گدا کہ کے مجھ کو بلاؤ تم پہ سب کچھ میں اپنا لُٹادوں
مری بخشش کا ساماں یہی ہے اور دل کا بھی ارماں یہی ہے
ایک دن ان کے روضہ پہ جاکر ان کی نعتیں انہیں کو سنادوں
وہ میری شاعری میرا فن ہیں میں سخن ہوں وہ جانِ سخن ہیں
اپنا سب کچھ انہی کا دیا ہے ،اپنا سب کچھ انہی پر لٹادوں
قافلے جارہے ہیں مدینےاور حسرت سے میں تک رہاہوں
یا لپٹ جاؤں قدموں سے ان کے یار پھر اپنی قضا کو صدا دوں
ہے تمنا کہ ڈھل جاؤں یارب،پیکر ِ اسوہ مصطفی میں
مسکراؤں اگر سنگ برسیں ،گالیاں دیں جو ان کو دعا دوں
اب یہی آرزو رہ گئی ہے ان کے دربار تک ہو رسائی
اپنی پیشانی اس در پہ رکھ دوں ساری دنیا کو پھر میں بھلادوں
کاش آئے تو ان کی سواری اے ادؔیب ان کے قدموں کے نیچے
کھینچ کر روح کو تن سے باہر اس کی چادر بناکر بچھا دوں

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

ہم تھے طیبہ کی گلی تھی وہ زمانہ یاد ہے
اپنا جانا یاد ہے ان کا بلانا یاد ہے
جالیوں کو تھام کر آنسو بہانا یاد ہے
ڈوب کر اشکوں میں حال ِ دل سُنانا یاد ہے
جستجو ہر ہر قدم نقش کف پائے رسول
جب ملے جس جا ملے سر کو جھکانا یادہے
ہستی بے سایہ کے اس شہر سایئہ دار میں
دھوپ کا سایہ میں خو د چل چل کے آنا یاد ہے
بھیگنا پلکوں کا پھر رخسار کا دامن کا پھر
چشم تر کا بات یوں آگے بڑھانا یاد ہے
در گزر کی بارشوں میں دھورہے تھے داغ داغ
بارش ِ رحمت کا وہ موسم سہانا یادہے
کاتب تقدیر سے چل پھر کریں طیبہ کی بات
ڈھونڈ لے اے دل اگر کوئی بہانہ یادہے
مہر بر لب آنسوؤں سے نعت کہنا اے ادیؔب
ان کا سننا اور میری بگڑی بنانا یاد ہے

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

اے ادؔیب ان کے در کے گدابن کے جب ان کے دربار اقدس میں جائیں گے
جھولیاں سب کی بھر کر حبیب ِ خدا ،اور کیا چاہئے یوں بھی فرمائیں گے
زندگی ان پہ قربان کردیں تو کیا ،زندگی ان کا صدقہ انہیں سے ملا
یہ تو سو بار ہم کو اگر دے خدا ہم انہیں پر نچھاور کئے جائیں گے
ان کی خاطر بنائے مکین و مکاں وہ نہ ہوتے ،نہ ہوتے زمین و زماں
ان کی الفت سے روشن ہو سینہ اگر،ہر طرف ان کے جلوے نظر آئیں گے
قافلے جب مدینے کو جانے لگے اشک آنکھوں میں بھر بھر کے آنے لگے
بے سہاروں پہ بھی اک نگاہ کرم بے سہارے بھی ایک دن پہنچ جائیں گے
عید مو لود اعلان توحید ہے ، قل ھو اللہ کی آیت کی تائید ہے
عبد و معبود کا فرق سمجھا نہ جو لفظ ِ مولود سے اس کو سمجھائیں گے
رحمت مصطفی پر ہےاتنا یقیں ،دور وہ دن نہیں جب ادیؔب حزیں
صبح مکہ میں ہوگا طواف حرم،شام ہوتے ہی طیبہ پہنچ جائیں گے

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

دور سب کردیئے جس نے رنج و الم وہ رسول خدا وہ شفیع امم
مجھ سے عاصی پہ ہے جس کا اتنا کرم وہ رسول خدا وہ شفیع امم
کس نے خون کے پیاسوں کی جاں بخشدی اپے دشمن کو گھر میں اماں بخشدی
کاٹ دی کس نے زنجیر ظلم و ستم وہ رسول خدا وہ شفیع امم
خلق کس کا پسند آیا اغیار کو، پھول کس نے بنایا ہر اک خار کو
بتکدوں سے نکالے ہیں کس نے صنم وہ رسول خدا وہ شفیع امم
کس نے سائل کو دست مخیر کیا،کس نے ظلمت کدوں کو منور کیا
کس کا محشر میں سایہ ہے ابرکرم وہ رسول خدا وہ شفیع امم
کس نے تاریکوں کو اجالا دیا،کس نے گرتے ہو ؤں کو سنبھالا دیا
کس کے پہنچے ہیں عرش ِ بریں پر قدم وہ رسول ِ خدا وہ شفیع امم
کس کے در پر گدا جاکے سلطان بنے،بت بناتے تھے جو اہل ایماں بنے
کس کے آگے دو عالم کی گردن ہے خم وہ رسول خدا وہ شفیع امم
اپنی جاں پر مصائب اٹھاتے رہے امتی کو غضب سے بچاتے رہے
ایسی لطف و عطا ایسا جو دو کرم ،وہ رسول خدا وہ شفیع امم
سر نگوں کو کیا اس قدر سر بلند،ڈالتے ہیں وہ اب آسماں پر کمند
کس کے صدقے میں ہیں امتی محترم وہ رسول خدا وہ شفیع امم
کس نے تہذیب عریاں کو پہنائی ہے عزت و احترام ِ جہاں کی قبا
جہل کو علم کا کس نے بخشا علم وہ رسول خدا وہ شفیع امم
خون آشام تلوار کے وہ دھنی دولت عشق سے ہوگئے سب غنی
قلب کو سوز بخشا تو آنکھوں کو نم، وہ رسول خدا وہ شفیع امم
ان کی رحمت کی یہ انتہا ہوگئی،ایک مجرم تھا جو اور گنہ گار بھی
اس ادیؔب سخن در کا رکھا بھرم وہ رسول خدا وہ شفیع امم

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

در سے غلام آپ کے سر کو اٹھائیں کس طرح
چھوڑ کے آپ کا دیار جائیں کس طرح
آنکھ کو گر منالیا،دل کو منائیں کس طرح
فصل ِ بہار لٹ گئی ،پھول کھلائیں کس طرح
آپ کے در کی حاضری اہل جنوں کی عید تھی
کعبئہ دل کو توڑ کر ،عید منائیں کس طرح
صبح دیار آپ کی ،نور حیات جاں مری
نور سے تیرگی میں پھر لوٹ کے جائیں کس طرح
چوم کے جالیوں کو ہم،بھول گئے تھے سارے غم
پھر سے غم حیات میں دل کو پھنسائیں کس طرح
لوٹ کے اب چلے غلام لیجئے آخری سلام
پھر یہ غلام آپ کے لوٹ کے آئیں کس طرح
گنبد سبز دیکھ کر،روح میں کیف سر بسر
صبر و قرار اے ادیؔب روح میں لائیں کس طرح

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

جو لمحے تھے سکوں کے سب مدینے میں گزار آئے
دل مضطر ،وطن میں اب تجھے کیسے قرار آئے
خزاں کو حکم ہے داخل نہ ہو طیبہ کی گلیوں میں
اجازت ہے ،نسیم آئے ،صبا آئے،بہار آئے
وہ بستی اہل دل کی اور دیوانوں کی بستی ہے
گئے جتنے خرد نازاں ،وہ دامن تار تار آئے
تعیّن مسجد و محراب کا طیبہ میں کیا ہوتا
جہاں نقش قدم دیکھے وہیں سجدے گزار آئے
جبیں ہو آستاں پر ہاتھ میں روضے کی جالی ہو
یہ لمحہ زندگی میں اے خدا پھر بار بار آئے
وہ جانِ جاں ہیں جانان جہاں ہیں ان کا کیا کہنا
دل پژمردہ میں جن کے تصور سے بہار آئے
قلم جب سے ہوا خم،نعت ِ احمد میں ادؔیب اپنا
بہت رنگیں ہوئے مضمون بڑے نقش و نگار آئے

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post