جب بھی یاد شہ امم آئے
یا نبی لب پہ دمبدم آئے
جس جگہ جا کے بیٹھ جائیں حضور
دیکھ کر یہ عطائے رب غفور
پیچھے پیچھے وہیں حرم آئے
بات بگڑی بنا گئے آنسو
یوں مرے کام آگئے آنسو
آج ان کو مناکے ہم آئے
زاہد و پارسا ہزار گئے
ہم سے عاصی جو ایک بار گئے
ہو کے اس در سے محترم آئے
نعت خوانی مرا مقدر ہے
یہ غلامی کا تاج سر پر ہے
پھر یہاں کیسے کوئی غم آئے
زندگی میری ان کے نام ہے سب
ایسے لمحوں کو چھین لے یارب
جس میں آقا کی یاد کم آئے
یوں عطا ہوگا مرتبہ مجھ کو
سر فہرست دیکھنا مجھ کو
بانٹنے جب بھی وہ کرم آئے
نعت گوئی میں اوج پر ہے نصیب
نعت لکھنے جو بیٹھ جائے ادؔب
لوح کیا چیز ہے ،قلم آئے

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

کون آیا جو حورو ملائک سب محو دیدار ہوئے
دل کی چٹاں یا ریت کے ٹیلے سب پر نخل پیار ہوئے
جن کے ہاتھ اُٹھیں تو پانی برسے بادل آئیں
جن کے تلوے چھوکر کانٹے گل بُوٹے بن جائیں
جن کے قدم سے دونوں عالم نُور ہوئے گلزار ہوئے
جتنے رسول اور جتنے پیمبر امت کے غمخوار
ان میں ہر اک بہتر و برتر اپنی جگہ سرکار
میرے پیمبر ان ساری سرکاروں کے سرکار ہوئے
دشت و جبل دریا اور صحرا سب پہ کیا احسان
ان کی نظر جس جانب اٹھی روک دیئے طوفان
ڈوبنے والے تیر گئے اور تیرنے والے پار ہوئے
ہم بھی ادؔیب گئے اس در پر ، آقا نے بلوایا
نعت کے لکھنے کی نعمت کا تاج ہمیں پہنایا
نذر میں ہم بھی لیکر حاضر آنسوؤں کے تار ہوئے

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

یاد نبی میں ہر دم رونا اچھا لگتا ہے
اب ہم بھی طیبہ جائیں گے ایسا لگتا ہے
یاد نبی میں رونے والا ہم دیوانون کو
لاکھ پرایا ہو وہ پھر بھی اپنا لگتا ہے
ہم تھے اور طیبہ کی گلیاں برسوں کی ہے بات
یاد کرو تو سارا منظر کل کا لگتا ہے
سُلطانوں کے سُلطان اور پھر ولیوں کے سردار
ان کا گدا تو بن کر دیکھو کیا کیا لگتا ہے
دکھ کی دھوپ کڑی ہو کتنی ان کو یاد کرو
دھوپ سروں سے اٹھ جاتی ہے سایہ لگتا ہے
جس نے مدینہ دیکھ لیا ہے اپنی آنکھوں سے
گھر ہو یا جنت کے نظارے ،سونا لگتا ہے
عشق نبی میں بہنے والے اشکوں کے آگے
لعل ہو یا موتی وہ پتھر جیسا لگتا ہے
عشق نبی اور درد کی دولت سے ہے مالا مال
آنکھ ادیؔب کی نم ہے دامن بھیگا لگتا ہے

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

نہ حُوریں نہ باغ ارم چاہتا ہوں
نہ دولت نہ جاہ و حشم چاہتا ہوں
نہ کعبہ ،نہ دیرو حرم چاہتا ہوں
نہ زیادہ کسی سے نہ کم چاہتا ہوں
پگھل جاؤں وہ سوز غم چاہتا ہوں
کرم چاہتا ہوں کرم چاہتا ہوں
وہ گلشن ہو،گلزار یا گلستاں ہو
وہ کنج قفس ہو،کھلا آسماں ہو
وہ تحت الثرٰی یا سرِ لامکاں ہو
کوئی آزمائش کوئی امتحاں ہو
تمہاری نظر دم بدم چاہتا ہوں
کرم چاہتا ہوں کرم چاہتا ہوں
فلک سے ملک سے زمیں سے زماں سے
جگر سے نظر سے عیاں سے نہاں سے
دہن سے سخن سے زباں سے بیاں سے
در غوث سے خوجہ خواجگاں سے
تمہیں کو تمہاری قسم چاہتا ہوں
کرم چاہتا ہوں کرم چاہتا ہوں
یہی ہوگئی ہے مری جستجو اب
اسی نام سے ہے مری آبرو اب
یہی آرزو ہے یہی گفتگو اب
تمنا ہے ہر دم مری روبرو اب
رخ شاہِ خیر الامم چاہتا ہوں
کرم چاہتا ہوں کرم چاہتا ہوں
براق تخیل سے پرواز لے کر
صبائے مدینہ کا ہمراز ہوکر
کہوں گا مدینے جوپہنچا میں اڑ کر
پئے سجدہ شوق ، اب زندگی بھر
نبی جی تمہارے قدم چاہتا ہوں
کرم چاہتا ہوں ،کرم چاہتا ہون
میں سوجاؤں وہ مجھ کو آکر جگائے
میں رُوٹھوں وہ آآکے مجھ کو منائے
میں آنسو بہاؤ تو ہ مسکرائے
چہ حسن وادائے عروس ثنائے
میں دوں اسکے قدموں پہ دم چاہتا ہوں
کرم چاہتا ہوں کرم چاہتا ہوں
گیا تو کبھی برملا ان کے آگے
مِلا اذن گویائی کا ان کے آگے
کہے گا تو کیا یہ بتا ان کے آگے
ادؔیب اک یہی مدّعا ان کے آگے
غلاموں کا رکھ لوبھرم چاہتا ہوں
کرم چاہتا ہوں کرم چاہتا ہوں

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

ایک ہی غم مِلا مجھے وہ بھی مِلا سدا بہار
یاد تیری نفس نفس ذکر ترا سدا بہار
اشک جو بے بہا دیئے ،درد بھی لا دواء دیا
یہ بھی دیا سدا بہار،وہ بھی دیا ،سدا بہار
عجز بھی اور نیاز بھی سوز بھی دیا سدا بہار
دستِ عطاء نے آپ کے جو بھی دیا سدا بہار
غنچئہ شوق کِھل گیا اور بھی دل مچل گیا
ان کی گلی سے جب چلی باد صباء سدا بہار
گزرے جہاں جہاں سے وہ ٹھرے جہاں جہاں بھی وہ
حسن برس برس پڑا ،عشق ہوا،سدا بہار
خار کو پھول کردیا اشک گہر بنا دیئے
سامنے جو بھی آگیا اس کو سدا بہار
خا ر کو پھول کر دیا اشک گہر بنا دیئے
سامنے جو بھی آگیا اس کو کیا سدا بہار
ہم نے تو اب نصیب کو ان کے سپرد کردیا
جن کے خیال میں ادیؔب کھوکے ہوا سدا بہار

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

مرتبے اپنے بڑھاتا کون ہے
نعت اشکوں سے سناتا کون ہے
جزبئہ عشق محمد کے بغیر
اشک پلکوں پر سجاتا کون ہے
داغ دامن پر گناہوں کے جو ہیں
عاصیو ان کو مٹا تا کون ہے
یاد سرکار دو عالم کے سوا
اپنے دامن کو بھگاتا کون ہے
خون دل ہے یا مرا خون جگر
اشک بن بن کر یہ آتا کون ہے
شبنمی لہچے میں پڑھتا ہے وہ نعت
یوں میرے سب غم بھلاتا کون ہے
یہ نتیجہ ہے فراق و ہجر کا
بے سبب آنسو بہاتا کون ہے
آنسوؤں سے مسند میلاد پر
نقرئی چاد رپچھاتا کون ہے

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

اشک یاد نبی میں جب نکلے مشعل راہ بن کے آتے ہیں
عاشق مصطفی کی منزل تک نقرئی راستہ بناتے ہیں
ہم کو پاس ادب ہے اس در کا جب در مصطفی پہ جاتے ہیں
لب کو دیتے ہیں حکم خاموشی حالِ دل اشک ہی سناتے ہیں
چشم تر کو تلاش کرتی ہے رحمت حق، یہ جان کر ہم بھی
داغ دامن کے دھونے جاتے ہیں داغ دامن کے دھو کے آتے ہیں
ان کی رحمت کو جوش آتا ہے آلپٹتی ہے مرے دامن سے
میری آنکھوں سے انکے قدموں تک میرے آنسو جو بہہ کے جاتے ہیں
ناز ان کے اٹھائیں نہیں،اشک بھی روٹھ جائیں آئیں نہیں
غم طیبہ میں دل لہو کر کے ،پہلے مشروب انہیں پلاتے ہیں
جنکی آنکھوں سے روزو شب آنسو بہہ رہے ہیں فراق طیبہ میں
خود وہ جائیں نہ جائیں طیبہ تک،انکے آنسو ضرور جاتے ہیں
خوگر ضبط ہیں ادؔیب بہت،انکے چہرے کو دیکھنے والے
انکا باطن ہے جس طرح پہناں ،اشک بھی کب نظر میں آتے ہیں

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

میں تیرے قربان محمد میں تیرے قربان
کہیں مزمل مدثر یا روح القرآن
عرش بریں سے فرش زمیں تک سب تیرا سرمایہ
یہ عالم یا وہ عالم ہو،سب پر تیرا سایہ
یہ رتبہ یہ شان محمد میں تیرے قربان
تیری یاد میں رونے والی آنکھ جسے مل جائے
ردّ بلا ہو، غم کی دوا ہو،دامن بھی دھل جائے
بخشش کا سامان محمد،میں تیرے قربان
اوج ثریا ،عرش بریں سب تیرے قدم کے نیچے
حورو ملائک جن و بشر سب تیرے پیچھے پیچھے
اے رب کے مہمان محمد میں تیرے قربان
ادیؔب آخر میری محبت اتنا رنگ تو لائی
میری زباں سے نعت محمد خلقت سننے آئی
میرے سخن کی جان محمد میں تیرے قربان
میں تیرے قربان محمد میرے تیرے قربان

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

عشق احمد کی جب رہبری ہوگئی
جس طرف ہم گئے روشنی ہوگئی
جب مواجہہ پہ اشکوں کی لڑیاں بنیں
جتنی کھوٹی تھی ساری کھری ہوگئی
پارسا ، پارسائی لئے رہ گئے
میں گدا تھا میری حاضری ہوگئی
روبرو ان کے نعتیں سناتا رہا
معتبر نعت گوئی مری ہوگئی
کیا ہے جود و کرم اور سخاوت ہے کیا
ان کے در پر گئے ،آگئی ہوگئی
بیٹھے بیٹھے مدینہ دکھائے گا وہ
ان کے عاشق سے گر دوستی ہوگئی
اپنے گھر میں ادیؔب اب اندھیرا کہاں
جب بھی نعتیں لکھیں روشنی ہوگئی

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

عکس آیات ہو مظہر ذات ہو
ابر رحمت ہو رحمت کی برسات ہو
جب خیالوں میں معراج کی رات ہو
جب خیالوں میں معراج کی رات ہو
پھر زباں پر جو آئے وہی نعت ہو
سایہ افگن ہوایسے کہ سایہ نہیں
ایسے اُمّی ہو خود شرحِ آیات ہو
ذکر معراج پر وہ بھلا کیا لکھیں
جن کی پرواز زیر سماوات ہو
ان کی معراج سے رسم یہ پڑگئی
آگے دلہا ہو اور پیچھے بارات ہو
نعت لکھو تو یہ التجا بھی کرو
ان کے حسب ِ مراتب یہ سوغات ہو
اے ادیؔب اوراس درسے کیا چاہئے
کم ہے کیا،ان کی نسبت ہو،سادات ہو

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

کون آیا جو حور و ملائک سب محو دیدار ہوئے
دل کی چٹاں یا ریت کے ٹیلے سب نخل پیار ہوئے
جن کے ہاتھ اُٹھیں تو پانی برسے بادل آئیں
جن کے تلوے چھو کر کانٹے گل بُوٹے بن جائیں
جن کے قدم سے دونوں عالم نور ہوئے گلزارہوئے
جتنے رسول اور جتنے پیمبر امت کے غمخوار
ان میں ہر اک بہتر و برتر اپنی جگہ سرکار
میرے پیمبر ان ساری سرکاروں کے سرکار ہوئے
دشت و جبل دریا اور صحرا سب پہ کیا احسان
ان کی نظر جس جانب اٹھی روک دیئے طوفان
ڈوبنے والے تیر گئے اور تیرنے والے پار ہوئے
ہم بھی ادیؔب گئے اس در پر ،آقا نے بلوایا
نعت کے لکھنے کی نعمت کا تاج ہمیں پہنایا
نذر میں ہم بھی لیکر حاضر آنسوؤں کے تار ہوئے

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

ہے پاس ادب اتنا خاموش ہے دریا بھی
ورنہ مری آنکھوں میں گنگا بھی ہے جمنا بھی
محشر میں فقط ہم کیا،سب ان کو پکاریں گے
توریت کے حامل بھی اور اہل کلیا بھی
سب ان کے وسیلے سے تعظیم کے قابل ہیں
محراب بھی منبر بھی،مکہ بھی مدینہ بھی
انداز بیاں کچھ ہو مضمون تو مدحت ہے
جبریل کی باتیں بھی ،معراج،معراج کا قصہ بھی
کیوں کر نہ کرم آئے سو بار مری جانب
عاصی ہوں مگران کا،لکھتا ہوں قصیدہ بھی
صدقہ ہیں پسینہ کا،زلفوں کا اتارا ہیں
صندل بھی چنبیلی بھی،چمچا بھی بنفشہ بھی
جنت تو ملی واعظ کچھ اور بھی مل جاتا
اے کاش کیا ہوتا نعتوں کا وظیفہ بھی
سو نام ادیؔب اچھے لیکن تھا بہت اچھا
اے کاش مجھے کہتا کوئی سگ بطحا بھی

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

نظروں میں سما جائے اگر روئے محمد ﷺ
ہر کوچہ و بازار لگیں کوئے محمد ﷺ
لاتی نہیں خاطر میں صبا مشک ختن کو
جب چوم کے آتی ہے یہ گیسوئے محمد ﷺ
گلزار جناں میں یہ مہک آئی کہاں سے
لایا ہے کوئی ساتھ گل ِ کوئے محمدﷺ
محراب حرم ہم تیری عظمت کے ہیں قائل
لیکن تو کہاں اور کہاں آبروئے محمدﷺ
بالا سے بھی بالا ہو مزہ طوف حرم کا
ہو سامنے جو قامت دلجوئے محمدﷺ
والشّمس ہے والّیل ہے محراب حرم ہے
اِک چہرہ ہے اِک زلف اِک ابروئے محمدﷺ
اللہ کی رحمت بھی،مدینہ بھی،ارم بھی
اس گھر میں سبھی کچھ ،ہے جہاں موئے محمدﷺ
کیا خوب!حنا مجھ سے مہک مانگ رہی تھی
میں نے کہا جا دوڑ کے جاسوئے محمدﷺ
ہر نعت ادیؔب آپ کی ،خوشبو کا پھریرا
ہر شعر میں ہے زمزمئہ کوئے محمدﷺ

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

کون سا گھر ہے کہ جس پر نہیں رحمت تیری
کون سا دل ہے کہ جس میں نہیں الفت تیری
لذت ذکر میں شا مل ہے تصور تیرا
ہم ثنا خوانوں کا مقصود محبت تیری
دل دھٹرک ہے تو آتی ہے ثناء کی آواز
آنکھ روئے تو طلب کرتی ہے رحمت تیری
دہر میں وجہ تسلی ہے فقط نام تیرا
حشر میں کام جو آئے گی وہ نسبت تیری
جب گزرتا ہے کوئی عرصہ محشر اس پر
دیکھتی ہے تری جانب ہی یہ امت تیری
مشک مشکور ، صبا زلف کی ممنون تیرے
چاند میں نور تیرا ،پھول میں رنگت تیری
آہ! کس درجہ بروں سے بھی براہے یہ ادیؔب
واہ اس پر بھی عنایت ہی عنایت تیری

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

جب اشک کے دریا میں الفاظ رواں ہوں گے
پہنچیں گی وہیں نعتیں سرکار جہاں ہوں گے
وہ سامنے بے پردہ جانان جہاں ہوں گے
ایسے بھی کبھی میرے انداز بیاں ہوگے
لکھوں گا میں اشکوں سے دھو دھو کے ہر اک مصرعہ
یوں شاہ مدینہ کے اوصاف بیاں ہوں گے
محشر ہے اگر محشر،لیکن ہمیں کس کا ڈر
ہم جن کے ثنا خواں ہیں وہ بھی تو وہاں ہوں گے
ہر سانس ثناء جن کی،مت پوچھ پتہ ان کا
جز شہر مدینہ کے یہ اور کہاں ہوں گے
ہو موئے بدن آنکھیں بن کر اُنہیں دیکھے گا
وہ حسن ِ جمال آراء محشر میں جہاں ہوں گے
ادراک نہ پائے سدرہ سے پرے ہیں وہ
دیکھو گے محبت سے قرب رگ جاں ہوں گے
بازار ہو،کوچہ ہو،مسجد ہو،مدینے میں
سر ہوگا وہیں جس جا قدموں کے نشاں ہوں گے
آئے گا ادیؔب ان کا جس روز بلاوا ہم
ہاتھوں میں لئے اپنے نذرِ دل و جاں ہوں گے

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

یہ مشت خاک کہاں اور یہ سیل نور کہاں
کہاں غلام کا سر اور در حضورﷺ کہاں
فلک نصیب ہوا آج نجم بخت غلام
کہ آستاں ہے میسر پئے درود و سلام
یہ کب مجال تھی میری کہ میں یہاں آتا
اگر حضور ﷺ کا لطف و کرم نہیں پاتا
یہ آرزو ہے کہ آغاز گفتگو کرلوں
بہا کے اشک ِ تمنا ، اگر وضو کر لوں
نہ میں ہوں عرض تمنا کی رسم سے آگاہ
مگر طلب کا تقاضا کہ ہو کرم کی نگاہ
نہ مجھ کو دعوی ٰ الفت ہے نئے خدادانی
مگر ی بات کہ اشکوں کی ہے فراوانی

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

یا محمد نور مجسم نور محمد یاحبیبی یا مولائی
تصویر کمالِ محبت ،تنوریرِ جمال ِ خدائی
تیرا وصف بیاں ہو کس سے ،تیری کون کرےگا بڑائی
اس گردِ سفر میں گم ہے جبریل ِ امیں کی رسائی
تیری ایک نظر کے طالب،تیرے ایک سخن پر قرباں
یہ سب تیرے دیوانے ،یہ سب تیرے سودائی
یہ رنگ بہارِ گلشن ،یہ گل اور گل کا جوبن
تیرے نوُر ِ قدم کا دھوون ، اُس دھوون کی رعنائی
مَااَجْمَلَکَ تیری صورت مَااَحْسَنَکَ تیری سیرت
مَااَکْمَلَکَ تیری عظمت ،تیری ذات میں گُم ہے خدائی
اے مظہر شانِ جَمَالی اے خواجہ و بندہ عالی
مجھے،اے خواجہ و بندہ عالی
مجھے حشر میں کام آجائے میرا ذوق سخن آرائی
تو رئیس روزِ شفاعت ،تو امیر لطف و عنایت
ہے ادؔیب کو تجھ سے نسبت یہ غلام ہے تو آقائی

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

آنکھ میں جب اشک آیا ہوگئی نعت رسول
درد جب دل میں سمایا ہوگئی نعت رسول
جب کسی بے بس کو دیکھا ظلم کا ہوتے شکار
اس کو ظالم سے چھڑایا ہوگئی نعت رسول
جس نے حق کی داستاں کو زندہ کرنے کے لئے
ظلم سے پنجہ لڑایا ہوگئی نعت رسول
جہل کی تاریکیوں میں اعتماد علم کا
اک دیا جس نے جلایا ہوگئی نعت رسول
جب کسی معصوم کو پایا یتیمی کا شکار
اپنے سینہ سے لگایا ،ہوگئی نعت رسول
امتیاز بندہ و آقا مٹانے کے لئے
جب کوئی میداں میں آیا ہوگئی نعت رسول
کھا کے سنگ دشمنان دیں اگر یہ کہہ دیا
کر بھلا اس کا خدایا ،ہوگئی نعت رسول
یاد کر کے عرصئہ شعب ابی طالب کبھی
جس نے دو آنسو بہایا ہوگئ نعت رسول
محسن انسانیت کی جان کر سنت اگر
جس نے روتوں کو ہنسایا ،ہوگئی نعت رسول
کیا بتاؤں کس قدر ہیں مہرباں مجھ پر حضور
جب قلم میں نے اٹھا یا ہوگئی نعت رسول
سیرت خیر البشر کو دیکھتا جا اے ادیؔب !
جو ورق نے تو اٹھایا ہوگئی نعت رسول

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

ہو اگر مدح کفِ پا سے منور کاغذ
عارضِ حور کی زینت ہو سراسر کاغذ
صفت خار مدینہ میں کروں گلکاری
دفتر گل کا عنادِل سے منگا کر کاغذ
عارض ِ پاک کی تعریف ہو جس پر چہ میں
سو سیہ نامہ اُجالے وہ منور کاغذ
شام طیبہ کی تجلی کا کچھ احوال لکھوں
دے بیاض ِ سحر اک ایسا منور کاغذ
یادمحبوب میں کاغذ سے تو دِل کم نہ رہے
کہ جدا نقش سے ہوتا نہیں دم بھر کاغذ
ورق مہر اُسے خط غلامی لکھ دے
ہو جو وصف ِ رخِ پُر نور سے انور کاغذ
تیرے بندے ہیں طلب گار تری رحمت کے
سن گناہوں کے نہ داور محشر کا غذ
لب ِجاں بخش کی تعریف اگر ہو تجھ میں
ہو مجھے تار نفس ہر خطِ مسطر کاغذ
مَدح رخسار کے پھولوں میں بسا لوں جو حسؔن
حشر میں ہو مرے نامہ کا معطر کاغذ

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post

آپ کا نام ہے وہ نام رسول عربی
حشر میں آئے گا جو کام رسول عربی
آپ کےذکر سے آغاز کیا ہے میں نے
آپ کا ذکر ہو انجام ، رسول عربی
آپ کا ذکر مرا عیش مری راحت ہے
آپ کی یاد ہے آرام رسول عربی
واسطہ عشق بلال حبشی کا آقا
ہو غلاموں میں مِرا نام، رسول عربی
گوشئہ قبرہو،محشر کی گھڑی یا دم زیست
ساتھ ہو آپ کا ہر گام ، رسول عربی
وہ ہی دیتا ہے دےگا جو رب ہے لیکن
ہو وسیلے میں تِرا نام رسولِ عربی
دیکھنا مرتبہ و شان ثنا خوانِرسول
دیں گے محشر میں جب انعام رسول عربی
لے لیا آج تجھے اپنی غلامی میں ادیؔب
دیجئے جلد یہ پیغام ، رسول ِعربی

شاعر :پروفیسر ڈاکٹر ادیب رائے پوری

Comments are off for this post