کوئی مثل مصطفٰےکا کبھی تھا نہ ہے نہ ہو گا
کسی اور کا یہ رتبہ کبھی تھا نہ ہے نہ ہو گا

کسی وہم نے صدا دی !کوئی آپ کا مُمثل ؟
تو یقیں پکار اُٹھا کبھی تھا! نہ ہے نہ ہوگا !

مِری طاقِ جاں میں نسبت کے چراغ جل رہے ہیں
مجھے خوف تیرگی کا ،کبھی تھا ، نہ ہے ،نہ ہوگا

مرھے دامن ِطلب کو ہے اُنہی کے در سے نسبت
کہیں اور سے یہ رشتہ؟ کبھی تھا نہ ہے، نہ ہوگا

میں ہو ں وقف ِ نعت گوئی کسی اور کا قصیدہ
مری شاعری کا حصہ ،کبھی تھا، نہ ہے نہ ہوگا

سرِ حشر ان کی رحمت کا صبیح میں ہوں طالب
مجھے کچھ عمل کا دعویٰ کبھی تھا ہے نہ ہوگا

شاعر :صبیح الدین صبیح رحمانی

Comments are off for this post