دیکھے کوئی امت پہ یہ فیضان کی صورت

دیکھے کوئی امت پہ یہ فیضان کی صورت
اُتری ہے ثناء رحمت رحمٰن کی صورت
یہ جان کے خالق نے کیا خلق نبی کو
اچھی سے ہو اچھی مرے احسان کی صورت
محبوب سے ہر بات محب کی ہوئی پہلے
پھر ہم کو دکھائی گئی قرآن کی صورت
اچھا ہے بہا کر مجھے لے جائیں مدینے
آنکھوں میں جو یہ اشک ہیں طوفان کی صورت
بخشش کی خبر حق نے نہیں دی شب اسریٰ
جب تک کہ نہیں دیکھ لی،مہمان کی صورت
آنکھوں کو بناتے تھے زباں اپنی صحابہ
پڑھتے تھے رخ یار کو قرآن کی صورت
دیکھی ہے خدا ہم نے مجسم تیری رحمت
آئی تھی مدینے میں جو انسا ن کی صورت
یاد آتے ہیں مجھ کو خط ابروئے محمد
جب دیکھو خط آیئہ قرآن کی صورت
کیوں کر مرے اشعار میں خوشبو نہیں ہوئی
ہر حرف کو لکھا خط ریحان کی صورت
جاتا ہو ادیؔب حضرت حسان کے پیچھے
سب دیکھیں اسے حشر میں اس شان کی صورت