دل مرا دُنیا پہ شیدا ہوگیا

دل مرا دُنیا پہ شیدا ہوگیا
اے مرے اللہ یہ کیا ہوگیا
کچھ مرے بچنے کی صورت کیجئے
اب تو جو ہونا تھا مولیٰ ہوگیا
عیب پوشِ خلق،دامن سے ترے
سب گنہگاروں کا پردہ ہوگیا
رکھ دیا جب اس نے پتھر پر قدم
صاف اک آئینہ پیدا ہوگیا
دور ہو مجھ سے جو اُن سے دور ہے
اُس پہ میں صدقے جو اُن کا ہوگیا
گرمیء بازار مولیٰ بڑھ چلی
نرخ رحمت خوب سستا ہوگیا
رَبِّ سَلِمْ وہ ادھر کہنے لگے
اُس طرف پار اپنا بیڑا ہوگیا
تیرے ٹکڑوں سے پَلے دونوں جہاں
سب کا اس درسے گزارا ہوگیا
السلام اے ساکنان کوئے دوست
ہم بھی آتے ہیں جو ایما ہوگیا
ان کے صدقہ میں عذابوں سے چُھٹے
کام اپنا نام اُن کا ہوگیا
ان کے صدقہ میں عذابوں سے چُھٹے
کام اپنا نام ان کا ہوگیا
سر وہی جو ان کے قدموں سے لگا
دل وہی جو اُن پہ شیدا ہوگیا
حسن یوسف پر زلیخا مٹ گئیں
آپ پر اللہ پیارا ہوگیا
اُس کو شیروں پر شرف حاصل ہوا
آپ کےدرکا جو کُتا ہوگیا
زاہدوں کی خلد پر کیا دھوم تھی
کوئی جانے گھر یہ ان کا ہوگیا
غول ان کے عاصیوں کے آئے جب
چھنٹ گئی سب بھیڑ رستہ ہوگیا
جا پڑا جو دشت طیبہ میں حسؔن
گلشن جنت گھر اس کا ہوگیا