غم ہوگئے بے شمار آقاﷺ

غم ہوگئے بے شمار آقاﷺ
بندہ تیرے نثار آقاﷺ
بگڑا جاتا ہے کھیل میرا
آقا آقا سنوار آقاﷺ
منجدھار پہ آکے ناؤ ٹوٹی
دے ہاتھ کہ ہوں میں پارآقاﷺ
ٹوٹی جاتی پیٹھ میری
للہ یہ بوجھ اتار آقاﷺ
ہلکا ہے اگر ہمارا پلّہ
بھاری ہے ترا وقار آقاﷺ
مجبور ہیں ہم تو فکر کیا ہے
تم کوتو ہے اختیار آقاﷺ
میں دور ہوں تم تو ہر مرے پاس
سن لو میری پکار آقاﷺ
مجھ سا کوئی غم زدہ نہ ہوگا
تم سا نہیں غم گسار آقاﷺ
گرداب میں پڑگئی ہے کشتی
ڈوبا ،ڈوبا اتار آقاﷺ
تم وہ کہ کرم کو ناز تم سے
میں وہ کہ بدی کو عار آقاﷺ
جس کی مرضی خدانہ ٹالے
میرا ہے وہ نامدار آقاﷺ
ہے ملک ِ خدا پہ جس کا قبضہ
میرا وہ کامگار آقاﷺ
سویا کیے نابکار بندے
رویا کیے زار زار آقا ﷺ
کیا بھول ہے ان کے ہوتے کہلائیں
دنیا کے یہ تاجدار آقاﷺ
ان کے ادنی گدا مٹ جائیں
ایسے ایسے ہزار آقاﷺ
بے ابر کرم کے میرے دھبّے
لَا تَغْسِلُھَا الْبِحَار آقاﷺ
اتنی رحمت رضؔا پہ کرلو
لا یَقْرُبُہ الْبَوار آقاﷺ