ہے ذکر مصطفی ہماری چشم نم کی آبرو

ہے ذکر مصطفی ہماری چشم نم کی آبرو
یہی کرے گا سرخرو ہمیں خدا کے روبرو
سکوت،مرگ زندگی ،جمود،ترک زندگی
حیات،ذکر مصطفی کی انجمن کی ہاؤ ہو
یہی ضیاء چمن چمن ،یہی سخن دہن دہن
نفس نفس کا مدّعا،نظر نظر کی جستجو
یہی ہے ورد زباں،زمین سے تابہ آسماں
بہر نفس بہر زماں،بہر قدم ،چہار سو
یہی حیات جاوداں ،یہی امام کارواں
یہی بلال ؒکی اذاں ، یہی بلالؒ کا وضو
یہی شریعت کہن یہی حدیث پنجتن
یہ غازیوں کے سرکاتاج اور شہید کا لہو
اسی لطف خاص ہے میرے خیال کی تڑپ
اسی کا نور ہے مرے سخن کدہ کی آبرو
یہ عاشقانِ مصطفی کہ سر پہ چتر زرگری
حجل ہے آپ و تاب مہر و ماہ جس کے روبرو
یہی ادؔیب کا قلم یہی نشاں ،یہی علم
یہی ادؔیب کی بہار داستاں میں رنگ و بو