ہوئی آمد مصطفی ﷺ اس طرح سے کہ صحرا میں کھلنے لگے بیکراں گل

ہوئی آمد مصطفی ﷺ اس طرح سے کہ صحرا میں کھلنے لگے بیکراں گل
زمیں پر گل نور احمد جو پھیلے فلک رو دیا کہ کہاں میں کہاں گل
کہا حق نے مت روکے آئینگے اک شب مرے نوُر کے گلستاں میں وہ عالی
بنیں گے نشاں قدم سے نہیں کے جبیں پر تری چاندنی ،کہکشاں گل
بیں گے نشان قدم سے انہیں کے جبیں پر تری چاندنی ،کہکشاں گل
ادھر آمد مصطفی کی سحر ہے ادھر میں ہوں اور میری حد نظر ہے
کہوں کیا سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہیں گل گلستاں کہیں گلستاں گل
جہاں تک نگاہوں کو وسعت ملی ہے ہراک ذات کی شکل گل ہے کلی ہے
نبی اور علی گل ،قطب اور ولی گل ،مرے غوث اور خواجئہ خوجگاں گل
محمد کی جب سے ثناء ہورہی ہے بدن خوشبوؤں سے مہکنے لگے ہیں
اُڑاتی ہے ہر سانس خوشبو کےبھپکے بدن گل دہن گل سخن گل زباں گل
اسی باغ سے ہے یہ باغ حسینی ذرا اس کے پھولوں کی عظمت تو دیکھو
بہتر گلوں کی یہ شاخ رفاقت کہ جس کا ہراک پیرو طفل و جواں گل
یہ موسم یہ بارش یہ خوشبو کے دھارے انہیں کے ارادے نہیں کے اشارے
یہ فرش زمیں تو بہت مختصر ہے جو دیکھیں وہ اوپر بنے آسماں گل
جو مہر نظر سے سوئے خار دیکھیں اے مہرباں کی نظر گل بنادے
اگر کوئی اس مہر تاباں کو دیکھے ،تو سر تا قدم خو وہی مہرباں گل
نہ ہوتی جو شانوں پہ زلفیں نبی کی ،نہ ہوتی نسیم اور باد بہاری
لبوں کے تبسم سے رشتہ ہے سب کا وگرنہ کہاں مشک و عنبر کہاں گل
چمن آج مہکا ہوا ہے تمہارا یہیں آج تم بھی ہو سن لو خدارا
ادیؔب حزیں کو وہ نطق سخن دو کرے جب یہ مدحت کھلائے وہاں گل