حسن محمد عالم تاب،عشق محمد عالم گیر

حسن محمد عالم تاب،عشق محمد عالم گیر
کتنے آساں ہیں الفاظ ،کتنی مشکل ہے تفسیر
ساز فراق احمد ہے مری زباں کا ہر نغمہ
صوت ِ خیال سرمد ہے میرے قلم کی ہر تحریر
اشک ندامت آنکھوں میں سایہ سایہ ابر کرم
آہ و فغاں کے یہ رتبے جرم و خطا کی یہ تقدیر
آنسو ایک پگھلتی آگ ، ایک دہکتی شبنم ہیں
عشق نبی میں رونا بھی ایک تماشہ آتش گیر
جیسے برستے پانی میں بکھری کرنیں نکھری دھوپ
لفظ و بیاں کا یہ ارژنگ ،مدح و ثنا کی یہ تصویر
دل سینہ میں ،سینہ نور،عشق سے دونوں ہمیں معمور
ہم نے بھی کیا خوب کیا بیچ چمن میں گھر تعمیر
روز ادیؔب جلاتا ہے طوفانوں میں ایک دیا
عشق نے جب سے پیروں میں ڈل رکھی ہے اک زنجیر