اس ہجر کی بھٹی میں میرے دل و جاں کب تک

اس ہجر کی بھٹی میں میرے دل و جاں کب تک
یہ آہ فغاں کب تک،یہ اشک رواں کب تک
پہنچوں گا مدینے میں اے جانِ جہاں کب تک
کیا کوئی نہیں صورت میں آؤ ں مدینے تک
اشکوں ہی کے طوفاں میں بہہ جاؤں مدینے تک
میں خضر سے پوچھوں گا منزل کے نشاں کب تک
اس ہجر کے عالم میں مرجاؤں گا ایک دن میں
شعلے جو بھڑک اٹھے جل جاؤں گا ایک دن میں
چھوڑ ے گی مجھے آخر یہ برق ِ تپاں کب تک
پڑھتا ہوں نمازوں میں آیات وہی آقا
خالق نے اتاری ہے جو نعت وہی آقا
رکھوں میں تصور میں تصویر قرآں کب تک
ایسا بھی تو دن آئے وہ سامنے آجائیں
قدموں پہ رکھیں سر ہم اور جاں سے گذرجائیں
فریاد کے لہجے میں آخر یہ بیاں کب تک
اے نُور ٰخدا مجھ کو دیدار کی حسرت ہے
دیدار تمہارا ہی ایماں کی دولت ہے
اب خواب میں آجاؤ ،یہ قید مکاں کب تک
نسبت کا تقاضا ہے اس در پہ جھکانا سر
جانا ہے مدینے کا لازم تری ہستی پر
لکھے گا ادیؔب آخر حسرت کا بیاں کب تک