خاک طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ

خاک طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ
عجب کوری سے رہے چشم بصیرت محفوظ
دل میں روشن ہو اگر شمع دلائے مولیٰ
دُزد شیطاں سے رہے دین ی دولت محفوظ
یا خدا محو نظارہ ہوں یہاں تک آنکھیں
شکل قرآں ہو مرے دل میں وہ صورت محفوظ
سلسلہ زلف ِ مبارک سے ہے جس کے دل میں
ہر بلا سے رکھے اللہ کی رحمت محفوظ
تھی جو اس ذات سے تکمیل فرامیں منظور
رکھی خاتم کے لیے مہر نبوت محفوظ
اے نگہبان مرے تجھ پہ صلوٰۃ او ر سلام
دو جہاں میں ترے بندے ہیں سلامت محفوظ
واسطہ حفظ الٰہی کا بچا رہزن سے
رہے ایمان ِ غریباں دم رحلت محفوظ
شاہی کون و مکاں آپ کو دی خالق نے
کنز قدرت میں ازل سے تھی یہ دولت محفوظ
تیرے قانون میں گنجائش تبدیل نہیں
نسخ و ترمیم سے ہے تیری شریعت محفوظ
جسے آزاد کرے قامت شہ کا صدقہ
رہے فتنوں سے وہ تا روز قیامت محفوظ
اس کو اعدا کی عداوت سے ضرر کیا پہنچے
جس کے دل میں ہو حسؔن ان کی صحبت محفوظ