مدحت سرکار کا ہر دم ہے میخانہ کُھلا

مدحت سرکار کا ہر دم ہے میخانہ کُھلا
ان کے عاشق کام یہ کرتے ہیں رندانہ کھلا
نعت گوئی کی بدولت ،اشک شوئی کے عوض
عشق کے قرطاس پر اک اور بھی خانہ کھُلا
جب کھلا روز ِ زقیامت نامئہ اعمال ِ عشق
سب سے پہلے جو کھلا ،نعتوں کا نذرانہ کھلا
ڈھانپ لے گا روز محشر ہم گنہ گاروں کے سر
دہر میں ہم نام لیں گے ان کا روزانہ کھلا
بیچ دی تسبیح ہم نے زاہدوں کے ہاتھ جب
ہم پہ راز عشق کا نکتہ حکیمانہ کُھلا
حشر تک سیراب ہوں گے تشنگانِ معرفت
گنبد خضرا کے سایہ میں وہ خم خانہ کُھلا
جو بھی ہے جیسا بھی ہے، وابستہ ہے تم سے ادیؔب
بھیجتا ہے روز وشب نعتوں کا نذرانہ کُھلا