ملے ہیں نقش کف پا جہاں اب تک

ملے ہیں نقش کف پا جہاں اب تک
ہزار بار جھکی ہے جبیں وہاں اب تک
پھر ایک بار تو گذرو یہاں سے رب کے حبیب
لگارہی ہے صدائیں یہ کہکشاں اب تک
وہ ایک سجدہ گزرا جو میں نے طیبہ میں
تمام عمر کے سجدوں پہ ہے گراں اب تک
جو ایک بار نکالی گئ ہے طیبہ سے
پلٹ کے پھر نہ گئی ہے وہاں خزاں اب تک
وہ نور جو میری آنکھوں ے ایک شب دیکھا
بتاسکی نہ کسی کو مری زباں اب تک
کہاں یہ وسعت گردوں ،کہاں وہ تیرا کرم
حجل ہے تنگی داماں سے آسماں اب تک
بس ایک بارہی دیکھی بلندی خضرا
مری نگاہ میں نیچا ہے آسماں اب تک
تمہیں پکار رہے ہیں ،پکارنے والے
ازل سے روح بدن سے رواں رواں اب تک
تری ثناء تری تصویر ،تیرا حسن سخن
لگا رکھا ہے کلیجے سے یوں قرآں اب تک
میں کیا ہوں کیا نہیں ،عاصی ہوں ناامید نہیں
ترے کرم کا سہارا ہے مہرباں اب تک
ان آنسوؤں نے سر بزم راز کھول دیا
بنار کھا تھا جنہیں میں نے رازداں اب تک
ترے حضور ترے روبرو تری مدحت
ترس رہی ہے سنانے کو یہ زباں اب تک
کہیں حضور فرشتو ں سے وقت نزع مری
ادیؔب میری ثناء میں گلفشاں اب تک