مدعا زیست کا میں نے پایا

مدعا زیست کا میں نے پایا
رحمت حق نے کیا پھر سایا
مرے آقا نے کرم فرمایا
پہلے کچھ اشک بہالوں تو چلوں
اک نئی نعت سنالوں تو چلوں
شُکر میں سر کو جھکانے کے لئے
داغ حسرت کو مٹانے کےلئے
بخت خوابیدہ جگانے کے لئے
ان کے دربار میں جانے کےلئے
اپنی اوقات بنالوں تو چلوں
اک نئی نعت سنالوں تو چلوں
غم کے مارے بھی مجھے دیکھیں گے
ماہ پارے بھی مجھے دیکھیں گے
چاند تارے بھی مجھے دیکھیں گے
خود نظارے بھی مجھے دیکھیں گے
میں نظر سب سے بچالوں تو چلوں
اک نئی نعت سنالوں تو چلوں
پہلے اشکوں کے دریچے کھولوں
کعبئہ دل کو پھر اس میں دھولوں
غم کی میزاں پہ اسے پھر تولوں
مشک پھوٹے جو ذرا لب کھولوں
اس میں ہر سانس بسالوں تو چلوں
اک نئی نعت سنالوں تو چلوں
دل یہ کہتا ہے مچل جانے دو
اشک کہتے ہیں کہ بہ جانے دو
سر ہے بے چین کہ جھک جانے دو
روح کہتی ہے کہ اڑ جانے دو
ناز ان سب کے اٹھالوں تو چلوں
اک نئی نعت سنالوں تو چلوں
سامنے ہو جو در لطف و کرم
یوں کروں عرض کہ یا شاہ امم
آگیا آپ کا محتاج کرم
اس گنہ گار کا رکھئے گا بھرم
شوق کو عرض بنالوں تو چلوں
اک نئی نعت سنالوں تو چلوں
ان کی مدحت میں ہے جینا میرا
کیسے ڈوبے گا سفینہ میرا
دیکھ لو چیر کے سینہ میرا
دل ہے یا شہر مدینہ میرا
دل ادیؔب اپنا دکھا لوں تو چلوں
اک نئی نعت سنالوں تو چلوں