مجھے یادآرہا ہے در مصطفی پہ جانا

مجھے یادآرہا ہے در مصطفی پہ جانا
مرے خواب آرزو کا وہ حقیقتوں میں آنا
وہ نماز شوق میری،وہ سجود والہانہ
کہ جبیں کے یہ تقاضے ،مجھے رکھ کے بھول جانا
نہ کسی سے کوئی نسبت ، نہ تعلق زمانہ
ترا وصف لکھتے رہنا،ترے گیت گنگتانا
تھا عجیب اپنا عالم ،کہ جنوں تھا اور تھے ہم
کبھی گریئہ مسرت ،کبھی غم سے مسکرانا
جو طلب تھی مل رہا تھا،یہ کرم نہیں تو کیا تھا
کہ ہر اک کو دے رہے تھے وہ بدست غائبانہ
یہ پکار ہو رہی تھی کہ سوال کرنے والو
کوئی رہ نہ جائے دیکھو جو طلب ہو لے کے جانا
جو گناہ گار جائے، یہ سند وہاں سے لائے
وجبت لہ شفاعت ہے کرم کا کچھ ٹھکانا
میں سناؤں کیسے لوگو،در مصطفی کی باتیں
یہ خدا کرے تم بھی کبھی جاکے دیکھ آنا
جو نہ در پہ ان کے جاتے،جو نہ سروہاں جھکاتے
تو ادیؔب کیا سناتے یہ کلام عارفانہ