نہ بندگی سے نہ یہ ،خسروی سے ملتا ہے

نہ بندگی سے نہ یہ ،خسروی سے ملتا ہے
مذاق ِعشق ،شکستہ دلی سے ملتا ہے
نہ بوئے مشک ،نہ مے سے،نہ سیر جنّت سے
جو کیف روح کو ،نعت نبی سے ملتا ہے
کرو جو ذکر نبی ﷺ اشک بار ہو کے کرو
کہ ان کا لطف و کرم بس اسی سے ملتا ہے
بنو فقیر بنو،کاسئہ گدائی لو
درنبی ہے،یہاں عاجزی سے ملتا ہے
وہ جس کو چاہیں نوازیں ،یہ ان کی مرضی ہے
انہیں کا سب ہے انہیں کی خوشی سے ملتا ہے
بھٹک رہا ہے حدود حرم میں کیوں زاہد
خدا کا قرب انہیں کی گلی سے ملتا ہے
سلام کی ہیں صدائیں درود کا ہنگام
دل ادیؔب دیارِ نبی ﷺ سے ملتا ہے