نہاں رہتا ہے کب مضمون مرا تحریر سے پہلے

نہاں رہتا ہے کب مضمون مرا تحریر سے پہلے
نہ جانے اشک کیوں بہنے لگے تقریر سے پہلے
زباں کو غسل دیتے ہیں درود پاک پڑھ پڑھ کر
ثنا خوانی کبھی کرتے نہیں تطہیر سے پہلے
ثنائے مصطفی ﷺ سے ہم دلوں کوفتح کرتے ہیں
یہ ہے وہ کام جو ہوتا نہ تھا شمشیر سے پہلے
تم آئے تو جنون عشق بھی میدان میں آیا
کسے تھی ورنہ الفت طوق سے ، زنجیر سے پہلے
تری رحمت سے یہ جانا،خدا رحمت ہی رحمت ہے
یہ سب اک خواب تھا ورنہ تری تعبیر سے پہلے
ادیؔب اک رات جھونکے مشک بار آئے ہیں طیبہ سے
پہنچ جائیں گے اب ہم آہوے تدبیر سے پہل