نعت احمد ہے بصد شان میری پلکوں پر

نعت احمد ہے بصد شان میری پلکوں پر
اشک ہیں نعت کا عنوان میری پلکوں پر
مدحت سرور ذیشاں میری پلکوں پر
یہ ہے سرکار کا احسان میری پلکوں پر
دیکھ کر جذبئہ حسّان مری پلکوں پر
ہیں فدا لولوؤ مرجان مری پلکوں پر
کشت عصیاں مری بہہ جاتی ہے دُھل جاتے ہیں داغ
جب بھی آتا ہے یہ طوفاں میری پلکوں پر
ذکر ہے صاحب ِ قرآن کا لب پر میرے
اور ہیں نقطئہ قرآن مری پلکوں پر
کتنا سمجھایا غم عشق نبی فاش نہ کر
پھر بھی آجاتے ہیں نادان مری پلکوں پر
کوئی شبنم کوئی آنسو انہیں کہتا ہے ادیؔب
یہ جو طیبہ کا ہے امان مری پلکوں پر
جن سے رونق ہے میرے خانئہ ویراں میں ادیؔب
روز آتے ہیں وہ مہمان مری پلکوں پر