پہلے پہلے جو دیکھا دیار نبی ﷺ اشک بھر آئے لب پر سلام آگیا

پہلے پہلے جو دیکھا دیار نبی ﷺ اشک بھر آئے لب پر سلام آگیا
وجد کرنے لگی روح یہ دیکھ کر،کس جگہ ایک ادنیٰ غلام آگیا
چھٹ گئے غم جوتھے دل کو گھیرے ہوئے آئی رحمت جو زلفیں بکھیرے ہوئے
پھر درودوں سلاموں کی بارش ہوئی،جب زباں پر محمد کا نام آگیا
سایئہ گنبد سبز میں بیٹھ کر آستانے پہ سر،جالیاں تھام کر
اب کئے جاؤ سجدوں پر سجدے یہاں عشق کی بندگی کا مقام آگیا
چشم حسرت زدہ کی وہی آرزو،شوق دیدار کی بھی وہی جستجو
یوں ہوئے اپنے مقصود کے روبرو ،جیسے ساحل پہ اک تشنہ کام آگیا
جب مدینہ نہ دیکھا تھا یہ زندگی ،کچھ دکھائی نہ دے ایسی تاریک تھی
اب اندھیروں کو دیکھو تو ملتے نہیں،اتنے نزدیک ماہ تمام آگیا
جھڑکیاں آستانے کے دربان کی آزمائش ہے عاشق کے ایمان کی
پی گیا مسکراکر جو اس جام کو ،اس کا میخوارِ کوثر میں نام آگیا
اک نکمّا گنہ گار عاصی جسے منہ لگائے نہ کوئی کسی حال سے
ان کی بندہ نوازی کی حد ہوگئی ،مدح خوانوں میں اس کا بھی نام آگیا
اوّل اوّل جو دربار میں ہم گئے جان و ہوش و خرد سب کے سب کھوگئے
ہم تو کیا چیز تھے اس جگہ اے ادیؔب غوث و ابدال پر یہ مقام آگیا