روح سکون پائے قلب بھی ہوگا مطمئن

روح سکون پائے قلب بھی ہوگا مطمئن
انکی رضا اسی میں ہے پڑھتے رہو یہ رات دن
صَلِّ عَلیٰ نَبِیِّنا صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ
اُن پہ درود کب سے ہے ان پہ درود جب سے ہے
جب نہ تھے ماہ و سال وسِن جب نہ تھے رات اور دن
صَلِّ عَلیٰ نَبِیِّنا صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ
یہ ہے ازل سے تا ابد ،اسکی نہیں ہے کوئی حد
اس کا عروج ماہ و اسال،اس کا فروغ دن بہ دن
صَلِّ عَلیٰ نَبِیِّنا صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ
ہوتی نہیں ہے مستجاب ،ہوتی نہیں ہے باریاب
ربِّ حضور کے حضور،کوئی دعا درود بِن
صَلِّ عَلیٰ نَبِیِّنا صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ
وہ تو ہیں رحمت تمام ،جود و کرم ہے ان کا عام
تیری نظر وہیں رہے،اپنے گناہ کو نہ گن
صَلِّ عَلیٰ نَبِیِّنا صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ
جس نے ادیؔب حرز جاں اپنا اسے بنالیا
اس کو ہیں پھر نہ مشکلیں پھر نہ اسے کوئی کٹھن
صَلِّ عَلیٰ نَبِیِّنا صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ