شاہ کونین کی الفت میں بہاؤ آنسو

شاہ کونین کی الفت میں بہاؤ آنسو
اہل دل کا یہی جینا ،یہی مرنا،یہی خو
جذبئہ عشق کی بالید ،تقدس کی نمو
خانئہ دل میں انہیں سے ہے اُجالا ہر سو
جن کو ملتا ہے مئے عشق محمد کا سبو
ان کی آنکھوں سے ٹپکتا ہے کرن بن کے لہو
آتش ِ عشق کا سیال ،مگر شبنم رو
جن سے ہوتا ہے محبت کی نمازوں کا وضو
ہیں طلبگار محبت کا مقدر آنسو
روز محشر ہیں کرم کا پس منظر آنسو
مصحف عشق و محبت کے نگہباں بھی یہی
اسم اعظم بھی یہی نقش سلیماں بھی یہی
رشک سیماب یہی ،لعل بدخشاں بھی یہی
صبح امید یہی شام غریباں بھی یہی
قصہ درد یہی ،دردکا عنوان بھی یہی
منزل عشق کی راہوں پہ چراغاں بھی یہی
شورش قلب میں تسکین کا سامان بھی یہی
اور پلکوں پہ مچلتا ہوا طوفاں بھی یہی
حلقئہ دیدہ یعقوب کا ارماں بھی یہی
حاصل تذکرہ یوسف کنعاں بھی یہی
چمن غم سے جھلکتے ہوئے آنسو
ساز مژگاں سے ٹپکتے ہوئے نغمے آنسو
جھلملاتے ہیں یہی غم کے شبستانوں میں
جگمگاتے ہیں یہی درد کے ایوانوں میں
مسکراتے ہیں یہی صبر کے پیمانوں میں
رنگ بھرتے ہیں یہی عشق کے افسانوں
لاکھ ہوں طواف حرم کوچئہ جاناں بھی قریں
لاکھ سجد ے میں رہے عر ض تمنا کی جبیں
دل اگر مائل صد نالئہ شب گیر نہیں
نہ تعلق ،نہ تقرب ،نہ حضوری ،نہ یقین