وہ شفا دیتے ہیں ہر مرض سے ہر اک غم سے

وہ شفا دیتے ہیں ہر مرض سے ہر اک غم سے
جتنے بیمار ہیں اچھے ہیں انہیں کے دم سے
نہ طبیبوں سے تعلق نہ کسی ہمدم سے
اپنی دنیا ہوئی آباد نبی کے غم سے
درد دل سوز جگر ساری عطائیں ان کی
شمع عشق فروزاں ہے انہیں کے غم سے
ناصحا! مجھ کو نصیحت نہ سنا نعت سنا
زخم اچھا مرا ہوتا ہے اسی مرہم سے
کیسے جاؤں میں کسی بزم میں لے کر آنکھیں
راز افشا مرا ہوتا ہے انہیں کے نم سے
تم کسی سمت رہو ان کو خبر رہتی ہے
کیا چھپا ہے نگہ قبلہ گہہ عالم سے
ہے گل قلب معطر انہیں اشکوں سے ادؔیب
تازگی پھول کو ملتی ہے اسی شبنم سے