یہ میرے لب چرچا تیرا،آنکھیں میری جلوہ تیرا

یہ میرے لب چرچا تیرا،آنکھیں میری جلوہ تیرا
میرا قلم تیراکرم میرا سخن صدقہ تیرا
والّیل ہیں گیسو تیرے والشّمس ہے چہرہ تیرا
زیر قدم عرش بریں،کیا ہو بیاں رتبہ تیرا
تیرا کرم اے مہرباں ،دیدی ہمیں ایسی زباں
پڑھتی رہے کلمہ تیرا ،گاتی رہے نغمہ تیرا
ہر گفتگو ہر جستجو ،ہر آرزو اے خوبرو
کچھ بھی نہیں اس کے سوا،آئے نظر جلوہ تیرا
قطروں سے مہ پارے بنے چھینٹے اڑے تارے بنے
اک شب جو آب ِ نور سے دھویا گیا تلوا تیرا
پرسان حال بے کساں ،اے داد رس فریاد رس
شاہ امم نظر کرم،مل جائے کچھ صدقہ تیرا
ہوش و خرد بے کار ہے مجھ کو جنوں درکار ہے
ایسا جنوں جس میں رہے سر کو روا سجدہ تیرا
مصروف رکھاہے تجھے ،اپنی ثناء میں اے ادیؔب
وہ چاہتے ہیں رات دن بھرتا رہے کاسہ تیرا