مقدر بانٹنے والا مقدر بانٹ دیتا ہے

مقدر بانٹنے والا مقدر بانٹ دیتا ہے

کبھی قطرہ کبھی پورا سمندر بانٹ دیتا ہے

محبت اس کو ہو جائے تو پھر محبوب کی خاطر

زمین و آساں کا سارا لنگر بانٹ دیتا ہے

اگر محفوظ رکھنا چاہے اپنے گھر کو دشمن سے

ابابیلوں کے لشکر میں وہ کنکر بانٹ دیتا ہے

یہ ساری بے بسی ، کاسہ بدستی کیا تماشہ ہے؟

میرا مالک؛ اگر حصہ برابر بانٹ دیتا ہے

وہ جسکی آل کو امت نے عاشق تشنہ لب مارا

سنا ہے حشر میں وہ آب کوثر بانٹ دیتا ہے