میں تو خود ان کے درکا گدا ہوں اپنے آقا کو میں نذر کیا دوں

اب تو آنکھوں میں کچھ بھی نہیں ہے ورنہ قدموں میں آنکھیں بچھادوں

 

آنے والی ہے ان کی سواری پھول نعتوں کے گھر گھر سجادوں

میرے گھر میں اندھیرا بہت ہے اپنی پلکوں پہ شمعیں جلادوں

 

میری جھولی میں کچھ نہیں ہے میرا سرمایہ ہے تو یہی ہے

اپنی آنکھوں کی چاندی بہادوں اپنے ماتھے کا سونا لٹادوں

 

بے نگاہی پہ میری نہ جائیں دیدہ در میرے نزدیک آئیں

میں یہیں سے مدینہ دکھادوں دیکھنے کا سلیقہ سکھادوں

 

روضہ پاک پیشِ نظر ہے سامنے میرے آقا کا در ہے

مجھ کو کیا کچھ نظر آرہا ہے تم کو لفظوں میں کیسے بتادوں

 

قافلے جا رہے ہیں مدینے اور حسرت سے میں تک رہا ہو

یا لپٹ جاؤں قدموں سے ان کے یا قضا کو میں اپنی صدا دوں

 

میری بخشش کا ساماں یہی ہے اور دل کا بھی ارماں یہی ہے

بس ایک دن ان کی خدمت میں جا کر ان کی نعتیں انہی کو سنا دوں

 

میرے آنسو بہت قیمتی ہیں ان سے وابستہ ہیں ان کی یادیں

ان کی منزل ہے خاک مدینہ یہ گہر یوں ہی کیسے لٹادوں

 

مجھ کو اقبال نسبت ہے ان سے جن کا ہر لفظ جانِ سخن ہے

میں جہاں نعت اپنی سنادوں ساری محفل کی محفل جگادوں

No comments yet

میں سو جاؤں یا مصطفٰی کہتے کہتے

کھلےآنکھ صلی علیٰ کہتے کہتے

 

میں والیل پڑھنے لگا بے خودی میں

تیری زلف کا ماجرا کہتے کہتے

 

قیامت میں جب میں نے حضرت کو دیکھا

تڑپنے لگا والضحیٰ کہتے کہتے

 

نبی کی زیارت مد ینے میں ھو گی

مد نیے یہی چل دیا کہتے کہتے

 

ہزارو ہویئں مشکلیں میری آساں

فقط ایک مشکل کشا کہتے کہتے

 

وہ مالک ہے سب کا وہ بخشے گا سب کو

بُرا کہتے کہتے بھلا کہتے کہتے

No comments yet

مجھ پہ بھی چشم کرم اے مرے آقا کرنا

حق تو میرا بھی ہے رحمت کا تقاضہ کرنا

میں کہ ذرہ ہوں مجھے وسعت صحرا دے دے

کہ ترے بس میں ہے قطرے کو بھی دریا کرنا

میں ہوں بیکس تیرا شیوہ ہے سہارا دینا

میں ہوں بیمار تیرا کام ہے اچھا کرنا

تو کسی کو بھی اٹھاتا نہیں اپنے در سے

کہ تری شان کے شایاں نہیں ایسا کرنا

تیرے صدقے وہ اسی رنگ میں خود ہی ڈوبا

جس نے جس رنگ میں چاہا مجھے رسوا کرنا

یہ ترا کام ہے اے آمنہ کے در یتیم

ساری امت کی شفاعت تن تنہا کرنا

آل و اصحاب کی سنت مرا معیار وفا

تری چاہت کے عوض جان کا سودا کرنا

شامل مقصد تخلیق یہ پہلو بھی رہا

بزم عالم کو سجا کر تیرا چرچا کرنا

مجھ پہ محشر میں نصیرؔ ان کی نظر پڑ ہی گئی

کہنے والے اسے کہتے ہیں خدا کا کرنا

No comments yet

مفتیِ اعظم بڑی سرکار ہے

جبکہ ادنیٰ سا گدا عطارؔ ہے

مفتیِ اعظم سے ہم کو پیار ہے

اِنْ   شَاء  اللّٰہ   اپنا   بیڑا   پار   ہے

مفتیِ اعظم رضا کا لاڈلا

اور محب سیِّدِ ابرار ہے

عالم و مفتی فقیہِ بے بَدَل

خوب خوش اَخلاق و باکردار ہے

تاجدارِ اہلِ سنّت المدد

بندۂ در بے کس و ناچار ہے

تختِ شاہی کیا کروں میرے لئے

تاجِ عزت آپ کی پَیزار ہے

اعلیٰ حضرت کا رہوں میں باوفا

اِستِقامت کی دعا درکار ہے

آستانے پر کھڑا ہے اِک گدا

طالبِ عشقِ شہِ اَبرار ہے

مسکرا کر اِک نظر گر دیکھ لو

میری شامِ غم ابھی گلزار ہے

میرے دل کو شاد فرما دیجئے

رنج و غم کی قلب پر یلغار ہے

سیِّدی احمد رضا کا واسِطہ

تیرا منگتا طالبِ دیدار ہے

ہُوں گناہوں کے مَرَض سے نیم جاں

دردِ عصیاں کی دوا درکار ہے

ہاتھ پھیلا کر مُرادیں مانگ لو

سائلو ان کا سخی دربار ہے

اِن شاءَ اللّٰہ مغفرت  ہو جائے گی

اے وَلی ! تیری دعا درکار ہے

خوب خدمت سنّتوں کی میں کروں

سیِّدی تیری دعا درکار ہے

کاش نوریؔ کے سگوں میں ہو شمار

یہ تمنائے دلِ عطارؔ ہے

No comments yet

مقدر بانٹنے والا مقدر بانٹ دیتا ہے

کبھی قطرہ کبھی پورا سمندر بانٹ دیتا ہے

محبت اس کو ہو جائے تو پھر محبوب کی خاطر

زمین و آساں کا سارا لنگر بانٹ دیتا ہے

اگر محفوظ رکھنا چاہے اپنے گھر کو دشمن سے

ابابیلوں کے لشکر میں وہ کنکر بانٹ دیتا ہے

یہ ساری بے بسی ، کاسہ بدستی کیا تماشہ ہے؟

میرا مالک؛ اگر حصہ برابر بانٹ دیتا ہے

وہ جسکی آل کو امت نے عاشق تشنہ لب مارا

سنا ہے حشر میں وہ آب کوثر بانٹ دیتا ہے

No comments yet

محمد کا روضہ قریب آ رہا ہے

بلندی پہ اپنا نصیب آ رہا ہے

فرشتو! یہ دے دو پیغام انکو

خبر جا کے دے دو انکو فرشتوں

کہ خادم تمھارا سعید آ رہا ہے

مدینہ ، مدینہ ، مدینہ ، مدینہ

بڑا لطف دیتا ہے نام مدینہ

وفا تم نہ دیکھو گے ہرگز کسی میں

زمانہ وہ ایسا قریب آ رہا ہے

حفاظت کرو اپنے ایمان و دیں کی

زمانہ وہ ایسا عجیب آ رہا ہے

محمد کا روضہ قریب آ رہا ہے

بلندی پہ اپنا نصیب آ رہا ہے

فرشتو! یہ دے دو پیغام انکو

خبر جا کے دے دو انکو فرشتو

کہ خادم تمھارا سعید آ رہا ہے

مدینہ ، مدینہ ، مدینہ ، مدینہ

بڑا لطف دیتا ہے نام مدینہ

تمہیں کچھ خبر ہے کہاں جا رہا ہوں

رسولِ خدا ہیں وہاں جا رہا ہوں

تمہیں کچھ خبر ہے میں کیا پا رہا ہوں

محبت کا انکی مزہ پا رہا ہوں

چلو جا کے رہنا مدینے میں اب تو

قیامت کا منظر قریب آ رہا ہے

فرشتو یہ دے دو پیغام انکو

خبر جا کے دے دو انکو فرشتوں

کہ خادم تمھارا سعید آ رہا ہے

مدینہ ، مدینہ ، مدینہ ، مدینہ

بڑا لطف دیتا ہے نام مدینہ

نگاہوں میں سلطانیت ہیچ ہو گی

جو پائے گا دل میں پیام مدینہ

سکونِ جہاں تم کہاں ڈھونڈتے ہو

سکونِ جہاں ہے نظام مدینہ

مدینہ ، مدینہ ، مدینہ ، مدینہ

بڑا لطف دیتا ہے نام مدینہ

محمد کا روضہ قریب آ رہا ہے

بلندی پہ اپنا نصیب آ رہا ہے

محمد  کا روضہ قریب آ رہا ہے

بلندی پہ اپنا نصیب آ رہا ہے

فرشتو یہ دے دو پیغام انکو

خبر جا کے دے دو انکو فرشتوں

کہ خادم تمھارا سعید آ رہا ہے

No comments yet

مصطفٰے شانِ قدرت پہ لاکھوں سلام

اولیں نقشِ خلقت پہ لاکھوں سلام

قائلِ وحدہٗ لاشریک لہٗ

ماحی بدعت پہ پہ لاکھوں سلام

بھیڑ میں چوم لیں شاہ کی جالیاں

اے نظر تیری ہمت پہ لاکھوں سلام

کس کی چوکھٹ پہ دے رہا ہے تو صدا

اے گدا تیری قسمت پہ لاکھوں سلام

ان کی آمد کا سن کر جو ہوگا بپا

ایسے شورِ قیامت پہ لاکھوں سلام

چار یارانِ حضرت پہ ہر دم درود

ان کے دورِ خلافت پہ لاکھوں سلام

شاہِ بغداد غوث الورٰی محیِ دیں

آبروئے طریقت پہ لاکھوں سلام

کیجیے بند آنکھیں نصیرؔ اور پھر

بھیجیے ان کی صورت پہ لاکھوں سلام

No comments yet

منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
جس سمت دیکھتا ہوں نظارہ علی کا ہے
 
دنیائے آشتی کی پھبن مجتبی حسن
لخت جگر نبی کا تو پیارا علی کا ہے
 
ہستی کی آب و تاب حسینؓ آسماں جناب
زہرا کا لال راج دلارا علی کا ہے
 
مرحب دو نیم ہے سر خیبر پڑا ہوا
اٹھنے کا اب نہیں کہ یہ مارا علی کا ہے
 
کل کا جمال مظہر کل میں عکس ریز
گھوڑے پہ ہیں حسین نظارہ علی کا ہے
 
اے ارض پاک تجھ کو مبارک کہ تیرے پاس
پرچم نبی کا چاند ستارا علی کا ہے
 
اہل ہوس کی لقمۂ تر پر رہی نظر
نان جویں پہ صرف گزارا علی کا ہے
 
تم دخل دے رہے ہو عقیدت کے باب میں
دیکھو معاملہ یہ ہمارا علی کا ہے
 
ہیں فقر مست چاہنے والے علی کے ہیں
دل پر ہمارے صرف اجارا علی کا ہے
 
آثار پڑھ کے مہدی دوراں کے یوں لگا
جیسے ظہور وہ بھی دوبارہ علی کا ہے
 
دنیا میں اور کون ہے اپنا بجز علی
ہم بے کسوں کو ہے تو سہارا علی کا ہے
 
تو کیا ہے اور کیا ہے تیرے علم کی بساط
تجھ پر کرم نصیرؔ یہ سارا علی کا ہے

No comments yet

میں تیرے کر م پہ جیے جارہا ہوں
یہ سانسیں جو اپنی رواں پا رہا ہوں
خطا کار ہوں اور بیمار مولا
میں تیرے کرم سے جلا پارہا ہوں
مجھے تیرے بندوں سے الفت ہے یارب
جو ہر دل عزیز اب ہوا جا رہا ہوں
مجھے پیار احکامِ رب سے بہت ہے
یقینًا اسی کا صلہ پا رہا ہوں
غموں کی ہے بارش مگر میں ہوں تنہا
کہ تنہائی سے اپنی گھبرا رہاہوں
نصؔیر اُس کی حمد و ثناء کر رہاہوں
بلند اپنے درجات کو پا رہا ہوں

Comments are off for this post

مرے طرزِ سخن کی جان ہیں گُل بھی گُلستاں بھی
مرا حُسنِ بیاں ہے خار بھی چاکِ گریباں بھی

مرے دامن میں ، جگنو ہیں جہاں اور چاند تارے بھی
اِسی دامن میں رکھتا ہوں کچھ آہیں اور شرار ے بھی

جو میری عمر کا حاصل ہے ذکرِ مصطفٰے کرنا
تقاضائے محبّت ہے بیانِ کربلا کربلا

تقاضہ ہے ضمیرِ شاعر حق گو کی فِطرت کا
کہ حق گوئی و بیبا کی پہ مبنی سخن اُس کا

بیانِ سیّد الشُہداء کی جب تمہید ہوتی ہے
وہی عہدِ وفا کے رسم کی تجدید ہوتی ہے

حسین ابنِ علی ، سبطِ پیمبر ، شرفِ انسانی
وہ جس کے رُخ پہ تھی نُورِ محمد کی فراوانی

شہیدِ کربلا تاریخ کا عنوان ہے گویا
حسین ابنِ علی ہر قلب میں مہمان ہے گویا

بتایا ، کس طرح کرتے ہیں اُمّت کی نگہبانی
سکھایا ، کس طرح رکھتے ہیں سجدوں میں یہ پیشانی

جَلایا اس نے ظلمت میں چراغِ نُورِ ایمانی
یہ سب کچھ جانتے تھے پھر اُسے دیتے نہ تھے پانی

بہت ہی مختصر، بندوں سے رب کا فاصلہ نکلا
حرم سے لے کے اہلِ بیت کو، جب قافلہ نکلا

عمامہ باندھ کر عہدِ وفا کا ، کربلا جانا
تھا اُمّت کے لیے مقصود ان راہوں کا دکھلانا

وہ راہیں جو عروجِ آدمیت کا سبب ٹھریں
زوال ِ ظلم ٹھریں ، حق پرستوں کا لقب ٹھہریں

عرب کی سرزمیں ، تپتے ہوئے صحرا، خزاں کے دن
سفر میں تھے رسولِ ہاشمی کی جانِ جاں کے دن

یہ منزل آزمائش کی بڑی دشوار ہوتی ہے
فضا میں زہر ہوتا ہے، ہوا آزار ہوتی ہے

جب ہستی مردِ مومن کی سپرد دار ہوتی ہے
تو سائے کے لیے سر پر فقط تلوار ہوتی ہے

وہ جس کی شان میں تھی آیۂ تطہیر ِ قرآنی
اسی کی اہلِ کوفہ نے کیا نیزوں سے مہمانی

طلب نانا سے کوثر کی شفاعت کی سفارش بھی
نواسے پر وہی کرنے لگے تیروں کی بارش بھی

جَلے خیمے بدن چھلنی تھے خون میں تر قبائیں تھیں
خدا کو جو پسند آتی ہیں وہ ساری ادائیں تھیں

وہ چہرے نُور کے تھے ، گِرد جن کے نُور کے ہالے
بنے وہ خاک وخوں میں ایک ہو کر کربلا والے

وہ چہرے وہ بدن جو عشق کا اسرار ہوتے ہیں
غبارِ خاک سے ان کے کفن تیار ہوتے ہیں

نہ ہوتا گر محمد کا گھرانہ ایسی منزل پر
تو اڑ جاتا فروغ دیں کا مستقبل دھواں بن کر

سلام اُس پر کہ جو حق کے لیے سربھی کٹا آیا
سلام اُس پر جواُمّت کے لیے گھر بھی لُٹا آیا

سلام اُس پر مرا جو خون کے دریا میں تیرا ہے
سلام اُس پر کہ جو نانا کے پرچم کا پھریرا ہے

سلام اُس پر کہ جس نے زندگی کو زندگی بخشی
سَروں کو سَر بلندی اور ذوقِ بندگی بخشی

سلام اُس پر کہ جو دوش ِ پیمبر کی سواری ہے
سلام اُس پر کہ جنّت جس کے گھر کی راہداری ہے

تیر سینے پہ، برچھی پشت پر جھیلے ہوئے اِنساں
سلام اے فاطمہ کی گود میں کھیلے ہوئے اِنساں

بہت آسان ہے ذکرِ شہیدِ کربلا کرنا
درونِ قلب مشکل ہے وہی حالت بپا کرنا

شہید ِ کربلا کے ذکر کا مجھ پر جواب آیا
کہ تیری ذات میں اب تک نہ کوئی انقلاب آیا

سراسر آبرو بن غیرتِ شرم و حیا ہو جا
اگر مجھ سے محبّت ہے تو میرا نقش ِ پا ہو جا

No comments yet

مژدہ باد اے عاصیو! شافع شہِ ابرار ہے
تہنیت اے مجرمو! ذاتِ خدا غفّار ہے

عرش سافرش زمیں ہے فرش پا عرش بریں
کیا نرالی طرز کی نامِ خُدا رفتار ہے

چاند شق ہو پیڑ بولیں جانور سجدے کریں
بَارَ کَ اللہ مرجعِ عالم یہی سر کار ہے

جن کو سوئے آسماں پھیلا کے جل تھل بھردیے
صَدقہ اُن ہاتھو ں کا پیارے ہم کو بھی در کار ہے

لب زلالِ چشمہ ٔ کُن میں گندھے وقتِ خمیر
مُردے زندہ کرنا اے جاں تم کو کیا دشوار ہے

گورے گور ے پاؤں چمکا دو خدا کے واسطے
نور کا تڑکا ہو پیارے گور کی شب تار ہے

تیرے ہی دامن پہ ہر عاصی کی پڑتی ہے نظر
ایک جانِ بے خطا پر دو جہاں کا بار ہے

جوشِ طوفاں بحرِ بے پایاں ہوا ناساز گار
نوح کے مولیٰ کرم کر لے تو بیڑا پار ہے

رحمۃ ٌ اللعالمین تیری دہائی دب گیا
اب تو مولٰی بے طرح سر پر گنہ کا بار ہے

حیرتیں ہیں آئینہ دارِ وفورِ و صفِ گُل
اُن کے بلبل کی خموشی بھی لبِ اظہار ہے

گونج گونج اٹھے ہیں نغمات ِ رضا سے بوستاں
کیوں نہ ہو کس پھوٗل کی مدحت میں وامِنقار ہے

No comments yet

مومن وہ ہے جو اُن کی عزّت پہ مرے دل سے
تعظیم بھی کرتا ہے نجدی تو مرے دل سے

واللہ وہ سن لیں گے فریاد کہ پہنچیں گے
اتنا بھی تو ہو کوئی جو آہ کرے دل سے

بچھڑی ہے گلی کیسی بگڑی ہے بنی کیسی
پوچھو کوئی یہ صَدمہ ارمان بھرے دل سے

کیا اس کو گرائے دہر جس پَر تو نظر رکھے
خاک اُس کو اٹھائے حشر جو تیرے گرے دل سے

بہکا ہے کہاں مجنوں لے ڈالی بنوں کی خاک
دم بھر نہ کیا خیمہ لیلی نے پَر ے دل سے

سونے کو تپائیں جب کچھ مِیل ہو یا کچھ مَیل
کیا کام جہنم کے دھرے کو کھرے دل سے

آتا ہے درِ ولا یوں ذوقِ طواف آنا
دلِ جان سے صدقے ہو سرگِرد پھرے دل سے

اے ابرِ کرم فریاد فریاد جلا ڈالا
اس سوزشِ غم کو ہے ضِد میرے ہرے دل سے

دریا ہے چڑھا تیرا کِتنی ہی آڑائیں خاک
اتریں گے کہاں مجرم اے عفو ترے دل سے

کیا جانیں ہم غم میں دِل ڈوب گیا کیسا
کِس تہ کو گئے ارماں اب تک نہ ترے دل سے

کرتا تو ہے یاد اُن کی غفلت کو ذرا روکے
لِلّٰہ رضا دل سے ہاں دل سے ارے دل سے

No comments yet

محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزّت کا
نظر آتا ہے اِس کثرت میں کچھ انداز وحدت کا

یہی ہے اصل عالم مادّہ ایجاد خلقت کا
یہاں وحدت میں برپا ہے عجب ہنگامہ کثرت کا

گدا بھی منتظر ہے خلد میں نیکوں کی دعوت کا
خدا دن خیر سے لائے سخی کے گھر ضیافت کا

گنہ مغفور ، دل روشن ، خنک آنکھیں ، جگر ٹھنڈا
تعٰالی اللہ ماہِ طیبہ عالم تیری طلعت کا

نہ رکھی گل کے جوش ِ حسن نے گلشن میں جا باقی
چٹکتا پھر کہاں غنچہ کوئی باغِ رسالت کا

بڑھا یہ سلسلہ رحمت کا دورِ زلفِ والا میں
تسلسل کالے کوسوں رہ گیا عِصیاں کی ظلمت کا

صفِ ماتم اٹھے خالی ہو زنداں ٹوٹیں زنجیریں
گنہگارو!چلو مولیٰ نے دَر کھولا ہے جنت کا

سکھایا ہے یہ گستاخ نے آئینہ کو یارب
نظارہ روئے جاناں کا بہانہ کرکے حیرت کا

اِدھر امّت کی حسرت پر اُدھر خالق کی رحمت پر
نرالا طور ہوگا گردشِ چشم شفاعت کا

بڑھیں اِس درجہ موجیں کثرتِ افضال والا کی
کنارہ مِل گیا اس نہر سے دریا ئے وحدت کا

خمِ زلفِ نبی ساجد ہے محرابِ دو ابرو میں
کہ یا رب تو ہی والی ہے سیہ کارانِ امّت کا

مدد اے جو ششِ گریہ بہادے کوہ اور صحرا
نظر آجائے جلوہ بے حجاب اس پاک تربت کا

ہوئے کَم خوابی ہجراں میں ساتوں پر دے کم خوابی
تصوّر خوب باندھا آنکھوں نے استار تربت کا

یقیں ہے وقت جلوہ لغزشیں پائے نگہ پائے
ملے جوش ِ صفائے جسم سے پابوس حضرت کا

یہاں چھڑکا نمک واں مرھمِ کافور ہاتھ آیا
دلِ زخمی نمک پَروردہ ہے کس کی ملاحت کا

الٰہی منتظر ہوں وہ خَرام ناز فَرمائیں
بچھا رکھا ہے فرش آنکھوں نے کمخواب ِ بصارت کا

نہ ہو آقا کو سجدہ آدم و یوسف کو سجدہ ہو
مگر سدِّ ذرائع داب ہے اپنی شریعت کا

زبانِ کارکِس در د سے اُن کو سناتی ہے
تڑپنا دشتِ طیبہ میں جگر افگار فرقت کا

سِرھانے ان کے بسمل کے یہ بیتابی کا ماتم ہے
شہِ کوثر ترحم تشنہ جاتا ہے زیارت کا

جنہیں مَرقد میں تا حشر امّتی کہہ کر پکاروگے
ہمیں بھی یاد کر لو اُن میں صدقہ اپنی رحمت کا

وہ چمکیں بجلیاں یا رب تجلّیہائے جاناں سے
کہ چشمِ طور کا سُرمہ ہو دِل مشتاق رُویت کا

رضائے خستہ جوشِ بحرِ عصیاں سے نہ گھبرانا
کبھی تو ہاتھ آجائے گا دامن اُن کی رحمت کا

No comments yet

مرے طرزِ سخن کی جان ہیں گُل بھی گُلستاں بھی
مرا حُسنِ بیاں ہے خار بھی چاکِ گریباں بھی

مرے دامن میں ، جگنو ہیں جہاں اور چاند تارے بھی
اِسی دامن میں رکھتا ہوں کچھ آہیں اور شرار ے بھی

جو میری عمر کا حاصل ہے ذکرِ مصطفٰے کرنا
تقاضائے محبّت ہے بیانِ کربلا کربلا

تقاضہ ہے ضمیرِ شاعر حق گو کی فِطرت کا
کہ حق گوئی و بیبا کی پہ مبنی سخن اُس کا

بیانِ سیّد الشُہداء کی جب تمہید ہوتی ہے
وہی عہدِ وفا کے رسم کی تجدید ہوتی ہے

حسین ابنِ علی ، سبطِ پیمبر ، شرفِ انسانی
وہ جس کے رُخ پہ تھی نُورِ محمد کی فراوانی

شہیدِ کربلا تاریخ کا عنوان ہے گویا
حسین ابنِ علی ہر قلب میں مہمان ہے گویا

بتایا ، کس طرح کرتے ہیں اُمّت کی نگہبانی
سکھایا ، کس طرح رکھتے ہیں سجدوں میں یہ پیشانی

جَلایا اس نے ظلمت میں چراغِ نُورِ ایمانی
یہ سب کچھ جانتے تھے پھر اُسے دیتے نہ تھے پانی

بہت ہی مختصر، بندوں سے رب کا فاصلہ نکلا
حرم سے لے کے اہلِ بیت کو، جب قافلہ نکلا

عمامہ باندھ کر عہدِ وفا کا ، کربلا جانا
تھا اُمّت کے لیے مقصود ان راہوں کا دکھلانا

وہ راہیں جو عروجِ آدمیت کا سبب ٹھریں
زوال ِ ظلم ٹھریں ، حق پرستوں کا لقب ٹھہریں

عرب کی سرزمیں ، تپتے ہوئے صحرا، خزاں کے دن
سفر میں تھے رسولِ ہاشمی کی جانِ جاں کے دن

یہ منزل آزمائش کی بڑی دشوار ہوتی ہے
فضا میں زہر ہوتا ہے، ہوا آزار ہوتی ہے

جب ہستی مردِ مومن کی سپرد دار ہوتی ہے
تو سائے کے لیے سر پر فقط تلوار ہوتی ہے

وہ جس کی شان میں تھی آیۂ تطہیر ِ قرآنی
اسی کی اہلِ کوفہ نے کیا نیزوں سے مہمانی

طلب نانا سے کوثر کی شفاعت کی سفارش بھی
نواسے پر وہی کرنے لگے تیروں کی بارش بھی

جَلے خیمے بدن چھلنی تھے خون میں تر قبائیں تھیں
خدا کو جو پسند آتی ہیں وہ ساری ادائیں تھیں

وہ چہرے نُور کے تھے ، گِرد جن کے نُور کے ہالے
بنے وہ خاک وخوں میں ایک ہو کر کربلا والے

وہ چہرے وہ بدن جو عشق کا اسرار ہوتے ہیں
غبارِ خاک سے ان کے کفن تیار ہوتے ہیں

نہ ہوتا گر محمد کا گھرانہ ایسی منزل پر
تو اڑ جاتا فروغ دیں کا مستقبل دھواں بن کر

سلام اُس پر کہ جو حق کے لیے سربھی کٹا آیا
سلام اُس پر جواُمّت کے لیے گھر بھی لُٹا آیا

سلام اُس پر مرا جو خون کے دریا میں تیرا ہے
سلام اُس پر کہ جو نانا کے پرچم کا پھریرا ہے

سلام اُس پر کہ جس نے زندگی کو زندگی بخشی
سَروں کو سَر بلندی اور ذوقِ بندگی بخشی

سلام اُس پر کہ جو دوش ِ پیمبر کی سواری ہے
سلام اُس پر کہ جنّت جس کے گھر کی راہداری ہے

تیر سینے پہ، برچھی پشت پر جھیلے ہوئے اِنساں
سلام اے فاطمہ کی گود میں کھیلے ہوئے اِنساں

بہت آسان ہے ذکرِ شہیدِ کربلا کرنا
درونِ قلب مشکل ہے وہی حالت بپا کرنا

شہید ِ کربلا کے ذکر کا مجھ پر جواب آیا
کہ تیری ذات میں اب تک نہ کوئی انقلاب آیا

سراسر آبرو بن غیرتِ شرم و حیا ہو جا
اگر مجھ سے محبّت ہے تو میرا نقش ِ پا ہو جا

No comments yet

مہکی ہوئی ہوا کا مجھے لمس جب ملا
میرے تصورات کا در مثل گل کھلا
افکار کے دریچوں سے آنے لگی صدا
کیا خوب حق نے تجھ کو یہ موقع عطا کیا
اٹھ، مدح خوان سید عالی مقام ہو
چل اے گناہ گار ذرا نیک نام ہو

الفاظ دست بستہ مرے سامنے ہیں سب
جانچا ہے میں نے خوب ہر اک لفظ کا نسب
تھرا رہا ہے پھر بھی قلم، کیا لکھوں لقب
میں پیش آفتاب مثال چراغ شب
کیسے بیاں ہو مرتبہ عالی وقار کا
لاؤں کہاں سے ڈھنگ میں پروردگار کا

لب و ا کروں ثناء کے لیے کن کے باب میں
جبریل دست بستہ ہیں جن کی جناب میں
مداح خود قرآں ہے رسالت ماب میں
میرے خیال کی تگ و دو کس حساب میں
منظور شاعری ہے نہ حسن کلام
اے خامہ خیال، ادب کا مقام

سیر خیال و فکر کو بستان ہیں بہت
تفریح طبع ناز کے سامان ہیں بہت
تحریر حسن و عشق کے عنوان ہیں بہت
شعرو سخن کے واسطے میدان ہیں بہت
جن کے قدم سے رونق بزم حیات
تعریف اس نبی کی تقاضائے ذات

یہ مسئلہ تخیل و جذبات کا نہیں
واقف میں گرد و پیش کے حالات کا نہیں
اور علم یہ کہ علم بھی ہر بات کا نہیں
عرفان مجھ کو اپنی ہی خود ذات کا نہیں
پھر مجھ سے پوچھنا کہ محمد کی شان
گونگے کے منھ میں ہو بھی اگر تو زبان

قند و شہد نبات کو یک جا کریں اگر
گل کی ہر ایک ذات کو یک جا کریں اگر
رنگینی حیات کو یک جا کریں اگر
کل حسن کائنات کو یک جا کریں اگر
جتنا بھی رنگ و نور لیے کائنا ت ہے
یہ سب تبسم شہ دیں کی زکٰوۃ ہے

کہتے ہیں جس کو مدحت سلطان ذوالمنن
مسند نشیں ہے نو ک زباں پر وہ گلبدن
سرتا بپا ہے نکہت و رعنائی چمن
اس نور کے بدن پہ ہے خوشبو کا پیرہن
خوشبو سے اور نور سے جس کا خمیر ہے
زلفوں کی جس کے شان مشیت اثیر ہے

تمہید سے گریز کی جانب قدم قدم
پڑھتے ہوئے درود محمد مرا قلم
لے کر سرور عشق میں ڈوبا ہوا علم
ہو کر نیاز مند، کیا اس نے سر کو خم
خم ہو کے خط میم بنا تا چلا گیا
پردے روز حق کے اٹھاتا چلا گیا

وہ میم جو کمال ہے اک آغوش کی طرح
محشر میں ایک سایہ گل پوش کی طرح
بندوں پہ ، رب کی رحمت پر جوش کی طرح
خم اس کا فرق عاشق مے نوش کی طرح
جو درمیاں کمان کے آیا اماں میں ہے
باہر جو رہ گیا وہ شمار زیاں میں ہے

کھلنے لگے رموز ، محبت کے سر بسر
ہونے لگا خیال پہ الہام کا اثر
افکار خوشبوؤں میں شرابور تر بہ تر
جنبش جو لب کو دی تو ٹپکنے لگے گہر
اس پر بھی ان کی شان کے شایاں نہ لکھ سکا
بندہ ہوں اس لیے کوئی قرآں نہ لکھ سکا

یوں کر رہے ہیں مدحت سر کار ذوالمنن
کوثر سے دھوکے لائیں ہیں تعریف کا متن
پھرتے رہے بہار میں لے کر چمن چمن
پہنا دیا زبان کو عنبر کا پیرہن
سرمہ ہے کوہ طور کا، غازہ گلاب کا
آغاز نعت یوں ہے رسالت ماب کا

پہلے نبی کے عشق کی دولت خدا سے لی
دولت ملی تو فکر کی جرأت خدا سے لی
جرأت ملی تو حسنِ عقیدت خدا سے لی
طرزِ بیاں کے واسطے نُدرت خُدا سے لی
جرأت مِلی خیال ملا اور قلم ملا
یہ سب ملے تو نعت پہ اذن ِ رقم ملا

توڑی ہے میں نے میکدہ عشق کی قیود
میرے جنون غم کی تعین نہیں حدود
ہوتا ہے ہر نفس مرا منت کش درود
پہلے درود پھر سخن نعت کا ورود
میں بھیجتا ہوں نذر صلوٰۃ و سلام کی
وہ بھیجتے ہیں مجھ کو اجازت کلام کی

تاباں اسی کے نور سے ہے چہرہ حیات
صدیوں کے جس نے آکے مٹائے تو ہمات
ایک جست جس کی نسخہ تسخیر کائنات
جس کے قدم کا نقش بنا علم مدنیات
کہنے کو وہ بشر ہے اگر قیل و قال میں
اپنی مثال بھی نہیں رکھتا مثال میں

یہ ماہتاب آپ کا چہر ہ نہیں نہیں
یہ آفتاب آپ کا جلوہ نہیں نہیں
یہ بوئے مشک زلف کا حصہ نہیں نہیں
یہ کہکشاں ہے نقش کف پا نہیں نہیں
اس اوج تک نہ جائے گی پستی شعور کی
بالا ہے ہر خیال سے ہستی حضور کی

جلتی نہ اس جہاں میں جو شمع محمدی
دنیا کو حشر تک نظر آتی نہ روشنی
حاکم ہو یا غلام، گنہگار و متقی
ملتا نہ آدمی کو شعور خود آگہی!
ہوتی نہ کچھ تمیز سفید و سیاہ
جلوؤں کا اعتبار نہ ہوتا نگاہ

جس روز لب کشاد کسی کی نہیں مجال
دیکھیں گے آسمان و زمیں روئے ذوالجلال
ہو گا مقام دید رسول و نبی کا حال
دیکھیں گے ایک ایک کو مسکین کی مثال
ڈھونڈیں گے انبیاء اسی رحمت نوید
تڑپے گی ہر نگاہ محمد کی دید

ہے کون دے سکے گا جو اس دن کوئی حساب
توبہ بھی یاد آئی تو ، توبہ کا بند باب
بھائی کو بھائی دے گا نہ فریاد کا جواب
شعلے زمین پہ ہوں گے تو نیزے پہ آفتاب
امت ہو ، یا نبی ہو ، غضب کی نگاہ میں
محشر میں ہوں گے سارے انہیں کی پناہ میں

نازاں ہوں گرچہ ہوں میں گنہگار دیکھنا
اس کملی پوش کا ہوں پرستار دیکھنا
انوار ذکر سید ابرا ر دیکھنا
مجھ سے گدا کے لب ہیں گہر یا ر دیکھنا
ہر دم ہے لب پہ تذکرہ بے نظیر بھی
راضی رسول پاک بھی رب قدیر بھی

نعت رسول پاک میں وہ آب و تاب ہو
ایک ایک لفظ مدح کا عزت ماب ہو
روشن مرے کلام کا یوں آفتاب ہو
مقبول بارگاہ رسالت ماب ہو
محشر میں جب بلائیں تو اس طرح دیں صدا
حاضر کر و کہاں ہے ثنا خوان مصطفٰے

ہر آئینہ دل کی جِلا ذکرِ محمد
اللہ کی بندون کو عطاء ذکرِ محمد
مخلوق سے خالق کی رضا ذکرِ محمد
لازم اسی مقصد سے ہو ، ذکرِ محمد
ہر آرزوئے نطق کا انجام یہی ہے
دنیا کے لیے امن کا پیغام یہی ہے

ہو بزمِ سخنداں تو یہ پھولوں کا بیاں ہے
موجوں کا ترنّم ہے یہ بلبل کی زباں ہے
الفاظ کی عظمت ہے خطابت کی یہ شاں ہے
اس ذکر سے بندوں کو گناہوں سے اماں ہے
جذبات کو سیماب تخیّل کی جلا ہے
یہ خاص شَرَف ذکرِ محمد کو ملا ہے

قائم ہے مسلمان کا ایمان اِسی سے
اللہ کے طالب کو ہے عرفان اِسی سے
ہر عاشق ِ صادق کی ہے پہچان اِسی سے
انسان کو ہے عظمتِ انسان اِسی سے
سرمایۂ ایمان و قرارِ دل و جاں ہے
قرآں کی تلاوت ہے یہ کعبہ کی اذاں ہے

نعتِ شہِ کونین کی سرو و سمنی دیکھ
لفظوں کی قبا میں یہ عجب گلْبدنی دیکھ
چہر ہ کی دمک طور کے جلووں سے بنی دیکھ
زلفوں کی مہک نافۂ مشک ِ ختنی دیکھ
نسبت اگر الفاظ کو دوں قوسِ قزح سے
سیراب ہوں شاید مئے معنٰی کی قدح سے

اے طٰحہٰ و مزمِّل و یٰسین و مدثّر
اے سیّد و سردارِ اُمم طیّب و طاہر
کیا کہہ کے پکارے مرے آقا کو یہ شاعر
تصویر ِ خداوند کے شہکار مصوّر
خم گردنِ تفسیر ہے شرمندہ صراحت
یا رب! مرے الفاظ کو دے نہجِ بلاغت

اے صِلِّ عَلٰی نُور شہِ جنّ و بشر نور
لَب نور دہن نور سخن نور نظر نور
سر نور قد م نور شکم نور کمر نور
جس گھر میں تِرا ذِکر کریں لوگ ، وہ گھر نُور
آں زینتِ کونین و زیبائے جہاں اَست
آں باعثِ حیرانی آئینہ گراں اَست

ہم کو بھی خبر ہے کہ گناہوں کی سزا ہے
لیکن وہ خطا پوش ہمارا بھی خدا ہے
زاہد کو اگر نازِ عبادت ہے بجا ہے
پلّہ میں ہمارے بھی محمد کی ثناء ہے
محشر میں جو نکلے گا یہی نام دہن سے
جُھک جائے گا پلّہ مِرا نیکی کے وزن سے

وہ ماہِ عرب، ماہِ مبیں ، ماہِ لقا ہے؟
تصویر ہے ، تنویر ہے ، تعبیر ہے، کیا ہے ؟
اِک نور کا پیکر ہے کہ پردہ میں خدا ہے
آفاق میں ایسا نہ تو ہوگا نہ ہوا ہے
عاشق کی صدا یہ ہے مرے دل میں نہاں ہے
جبریل سرِ عرش پکارے وہ یہاں ہے

یہ جنبش لب، تابِ سخن، اور یہ گفتار
افکار کی یورش ہے تو الفاظ کی یلغار
ہو جائے اگر وقف ِ ثنائے شہِ ابرار
ہوتا ہے وہ حسان کی مانند گہر بار
رہتا ہے اسی دہن میں وہ شب ہو کہ سحر ہو
جس پر مرے سرکار کی اِک بار نظر ہو

No comments yet

مدحت ان کی رحمت بھی ہے بخشش کا سامان بھی ہے
عشق کی دستاویز بھی ہے اور عاشق کی پہچان بھی ہے

میری بھلا اوقات ہی کیا جو ان کی ثناء میں لب کھولوں
یہ تو انہیں کا لطف و کرم ہے اور ان کا احسان بھی ہے

ایسی کوئی شے پاس نہیں جو نذر میں ان کو پیش کروں
یوں کہنے کو قلب و جگر ہیں جسم بھی ہے اور جان بھی ہے

پاسِ ادب رکھ اپنی حدوں سے بڑھ کر کوئی بات نہ کر
ان کی حدوں تک جانے والے اپنی تجھے پہچان بھی ہے

ذکر میں ان کے کوئی ادب کا دامن ہاتھ سے چھوڑے تو
میری زباں تلوار بھی ہے اور تقلیدِ حسّان بھی ہے

No comments yet

میں مدینے میں ہوں اور ذکر پیمبر بھی نصیب
یعنی پیاسے کو ہے دریا در دریا بھی نصیب

خوشبوئے زلف بھی عکسِ رُخِ انور بھی نصیب
صبحِ کافور بھی ، اور شامِ معنبر بھی نصیب

رُخ پہ مَلنے کے لیے ، رُوح میں ڈھلنے کے لیے
گردِ کوچہ بھی نصیب ، بادِ معطّر بھی نصیب

مسندِ صُفّہ کے انوار وہ بابِ جبریل
اس گنہ گار کی آنکھوں کو وہ منظر بھی نصیب

میری آنکھوں میں حرم آنکھ سے باہر بھی حرم
خانۂ چشم کو آئینہ کا جوہر بھی نصیب

ان کی یادوں کو جہاں چین سے نیند آتی ہے
نام دل کے ہے اِک حجرۂ بے در بھی نصیب

ایک اِک لمحہ مرے لب کو مدینے میں ادیب
کلمۂ شُکر بھی اور نعتِ پیمبر بھی نصیب

No comments yet

میں گذرتا ہی گیا راہ تھی پرخم پرخم
مجھ پہ سرکار کی نظریں جو تھیں پیہم پیہم

ان کے دربار میں پہونچو کہ یہاں سے مانگو
شرط اتنی ہے کہ یہ آنکھ ہو پُرنم پُرنم

آپ آئے تو پڑی جان میں ٹھنڈک ورنہ
زندگی زخم تھی، آواز تھی مرہم مرہم

پیش کر دوں گا سرِ حشر کمائی اپنی
دولتِ نعت جمع کی ہے جو درہم درہم

عرش ہو فرش ہو محشر ہو ، زماں ہو کہ مکاں
ہر جگہ ان کے ہی لہراتے ہیں پرچم پرچم

مہرومہ ، کاہہکشاں ، نقشِ کفِ پائے رسول
گیسوئے شب ہے اسی نُور سے برہم برہم

ان کی رحمت کی تو ہر بوُند سمندر ہے ادیب
جس کے آگے یہ سمندر بھی ہے شبنم شبنم

No comments yet

مُشتِ غبارِ خاک اور تیرا بیانِ بر تری
خالقِ کُل کلام سے کون کرے گا ہمسری

حمدِ خُدائے لَمْ یَزلْ تیری ثنائے دِلربا
وحیِ الٰہ العالمیں ، تیری زبانِ دلبری

تیرے عروج کی خبر روحِ قدس نہ پاسکی
عویٰ ٔ معرفت کوہے پیشِ ترے سُبک سری

کلمۂ لاشریک میں، ذکر ترا شریک ہے
منزل لاالٰہ تک، تو ہی نشانِ رہبری

قلب ہے کاسۂ گدا، دستِ سوال ہے وجود
رُوح ، فقیر ِ آستاں، عشق تیرا تونگری

ذکرِ حبیب کبریا ، مدح و ثنائے مصطفٰے
میرا شعور ِ فکر و فن ، میرا ضمیرِ شاعری

سدا لب پہ ہو جب صدائے مدینہ
کہاں چین دل کو سوائے مدینہ

چلے آج ایسی ہوائے مدینہ
اُڑائے ہمیں لے کے جائے مدینہ

بَرائے مدینہ بِنائے دو عالم
بِنائے دو برائے مدینہ

حرم کا پتہ مجھ سے کیوں پوچھتے ہو
مرا دل ہے قبلہ نمائے مدینہ

گنہگار کے دل میں دوزخ کی آتش
لگائے زمانہ ، بُجھائے مدینہ

مدینے کا بندہ مدینے ہی پہنچے
بس اتنا کرم کر، خدائے مدینہ

قدم چُوم لوں بَے وطن کرنے والے
مجھے دے اگر تو، سزائے مدینہ

کہیں تو گنہ گار کا ہو ٹھکانہ
خُدا نے رکھی یوں، بِنائے مدینہ

گرفتار کو اب گرفتار رکھیے
کہاں جائے گا پھر رہائے مدینہ

وہ “طلع” وہ “بدرُ علینا ” کے نغمے
کجا ہم کجا وہ ثنائے مدینہ

ادیب حشر میں زیرِ سایہ رہیں گے
تَنی ہوگی سر پر رِدائے مدینہ

No comments yet

مصطفٰے کا نام، توقیر ِ ادب مصطفٰے کا ذکر، تعمیرِ ادب
نعت میں ہونا قلم کا سَر نگوں سر بلندی ٔ مشاہیر ِ ادب
وہ مجاہد حضرتِ حسان تھے جنکے ہاتھو ں میں تھی شمشیر ِ ادب
پارہ پارہ کر گئے قلبِ غنیم اُس کمانِ عشق کے تیرِ ادب
حافظِ شیراز سے پوچھے کوئی لذّتِ شیرینیٔ شیرِ ادب
پیرویٔ مثنویٔ رُوم سے بن گئے اقبال بھی پیرِ ادب
سورۂ کوثر پہ ہے حُجّت تمام رفعتِ افلاک تحریرِ ادب
شیخ سعدی کی رباعی دم بدم ضربِ مضرابِ مزا میرِ ادب
مستند ہے آپ کا فرماں ادیب نعت ہے جامی کی جاگیرِ ادب

No comments yet