درِ نبی کی طرف چلا ہوں

درِ نبی کی طرف چلا ہوں
بدن پہ چادر ہے آنسووں کی
لہو میں لذت ہے راستوں کی
بغیر خوشبو مہک رہا ہوں
درِ نبی کی طرف چلا ہوں

سکون آمیز بے قراری
ہے میری یکسوئیوں پہ طاری
چلی براقِ کشش پہ لے کر
رسُول اکرم کی غم گساری
رسائی ہے بختِ نارسا میں
سِرا ہے اِک دستِ مصطفے ﷺ میں
میں ڈور کا دوسرا سِرا ہوں
درِ نبی کی طرف چلا ہوں

طوافِ کعبہ تها فرض مجھ پر
درِ نبی کا ہے قرض مجھ پر
سمٹ کے سایہ فگن ہُوا ہے
جہان کا طول و عرض مجھ پر
شریکِ رفتار جو رہے ہیں
وہ فاصلے ختم ہو رہے ہیں
میں آج سے اپنی ابتدا ہوں
درِ نبی کی طرف چلا ہوں

دکهائی دینے لگا مدینہ
مثال در کُهل رہا ہے سینہ
ہوائیں حوروں کے لمس جیسی
فضائیں خُلدِ بریں کا زینہ
کهلے ہوئے بازؤوں سی راہیں
ہر اک مسافر کو اِتنا چاہیں
کہ اُن کی چاہت پہ مر مٹا ہوں
درِ نبی کی طرف چلا ہُوں

یہ ساعتِ قیمتی بهی آئی
کہ حاضری کو چلی جُدائی
دهڑک رہے ہیں حواسِ خمسہ
لرز رہی ہے برہنہ پائی
بہشتِ عالم ہے یہ علاقہ
قدم قدم نقشِ پائے آقا
زمیں کے شیشے میں دیکهتا ہوں
درِ نبی کی طرف چلا ہُوں

درِ نبی پر پہنچ گیا ہُوں
یقین حاوی سا ہے گماں پر
زمین پر ہُوں کہ آسماں پر
میں ہُوں نہیں ہُوں جو ہوں تو کیا ہوں
درِ نبی پر پہنچ گیا ہُوں

نہ رنگِ نام و نمود میرا
نہ سایۂ ہست و بود میرا
خنک خنک نُورِ مصطفے سے
پِگھل رہا ہے وجُود میرا
جمالِ سرکار ضَوفشاں ہے
نگاہ بهی درمیاں کہاں ہے
سراپا آنکهیں بنا ہوا ہوں
درِ نبی پر پہنچ گیا ہُوں

یہ دِید معراج ہے نظر کی
یہی کمائی ہے عمر بهر کی
رئیسِ لیل و نہار ٹهہرا
طلب ہو کیا مجھ کو مال و زر کی
شعور و عرفان و آگہی سے
خزانۂ جلوۂ نبی سے
تجوریوں کی طرح بهرا ہوں
درِ نبی پر پہنچ گیا ہُوں

حیات کو جس کی دُھن رہی ہے
وہ قُرب کے پُھول چُن رہی ہے
سلام کا بھی جواب گویا
سماعتِ عشق سُن رہی ہے
اب اور کیا مانگنا ہے رب سے
کہ ہاتھ باندھے ہُوئے ادب سے
حضور ﷺ کے سامنے کھڑا ہوں
درِ نبی پر پہنچ گیا ہُوں

یہ روضۂ شاہ انبیا ہے
کہ کُرسیِ عرشِ کبریا ہے
بندها ہوا ہے درباریوں کا تانتا
عجیب اندازِ تخلیہ ہے
بغیر اجازت ہو باریابی
سیاہیِ دِل ہو آفتابی
میں زنگ خوردہ چمک اُٹها ہوں
درِ نبی پر پہنچ گیا ہُوں

درِ نبی سے پلٹ رہا ہُوں
زمین ہے میرے سر پہ جیسے
ٹهہر گئی رُوح دَر پہ جیسے
بدن کے ہمراہ چل پڑا ہُوں
درِ نبی سے پلٹ رہا ہُوں

سکون چھینا ثواب چھینا
نظارۂ لاجواب چھینا
فرائضِ دنیوی نے مجھ سے
درِ رسالتمآب چھینا
رُواں رُواں آپ کو پکارے
کٹیں رگِ جاں سے موڑ سارے
حرم کو مُڑ مُڑ کے دیکھتا ہُوں
درِ نبی سے پلٹ رہا ہُوں

میں یوں دیارِ نبی سے نِکلا
کہ جیسے شعلہ کلی سے نکلا
لِیے ہوئے رحمتوں کے سائے
میں حلقۂ روشنی سے نکلا
اگرچہ پی آیا ہوں سمندر
مگر بڑی تشنگی ہے اندر
میں خُوش ہوں لیکن بجها بجها ہوں
درِ نبی سے پلٹ رہا ہُوں

دوبارہ جانے کی آرزُو ہے
کہ خُود کو پانے کی آرزُو ہے
جو حج پہ احرام باندھتے ہیں
پہن کے آنے کی آرزُو ہے
جو بُوئے آقا کی دے گواہی
اُسی کفن میں مروں الہی
تڑپ ہُوں، فریاد ہُوں، دُعا ہُوں
درِ نبی سے پلٹ رہا ہُوں

مجھے میرے ذہن نے ڈبویا
بہت ہی، کم مائیگی پہ رویا
تاثّر اپنا بیان کر کے
سخنوری کا بھرم بھی کھویا
نہ لاج رکھی قلم کی میں نے
کیا تھا محسوس جو بھی میں نے
کہاں مظفر وہ لکھ سکا ہوں
نبی نبی پھر پکارتا ہوں
نبی نبی نبی نبی نبی نبی نبی نبی