یہ نہ پوچھو ملا ہمیں در خیر الوریٰ سے کیا

یہ نہ پوچھو ملا ہمیں در خیر الوریٰ سے کیا

نظر ان کی پڑی تو ہم ہوئے پل بھر میں کیا سے کیا

مرے دل کی وہ دھڑکنیں دم فریاد سنتے ہیں

متوجہ جو ہیں وہ ہیں مجھے باد صبا سے کیا

نظر ان کی جو ہو گئی اثر آیا دعا میں بھی

مرے دل کی تڑپ ہی کیا مرے دل کی صدا سے کیا

جسے اس کا یقین ہے کہ وہی بخشوائیں گے

کوئی خطرہ کوئی جھجھک اسے روز جزا سے کیا

رہ طیبہ میں بے خودی کے مناظر ہیں دیدنی

کبھی نقشے ہیں کچھ سے کچھ کبھی جلوے ہیں کیا سے کیا

جسے خیرات بے طلب ملے باب رسول سے

اسے دارین میں نصیرؔ غرض ماسوا سے کیا